83.5 F
Pakistan
Monday, October 5, 2026
HomeTechnologyاسپاٹیفائی ایپ میں گانے کا 89 فیصد ڈیٹا ڈیلیٹ: آپ کے کان...

اسپاٹیفائی ایپ میں گانے کا 89 فیصد ڈیٹا ڈیلیٹ: آپ کے کان فرق کیوں نہیں محسوس کر سکتے؟

ہم روزانہ اسپاٹیفائی، یوٹیوب میوزک اور دوسری ایپس پر گانے سنتے ہیں، لیکن شاید ہی کبھی سوچتے ہوں کہ یہ گانے ہمارے فون تک پہنچنے سے پہلے کتنا ڈیٹا کم کر دیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سی ڈی کے مقابلے میں اسٹریمنگ سروسز گانے کا بہت سا ڈیٹا کم کر دیتی ہیں، لیکن ہمارے کان اکثر اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ انسانی کان کی خاصیت ہے جسے ’ماسکنگ‘ کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں، جب ایک آواز بہت تیز ہو تو اس کے ساتھ موجود ہلکی آواز ہمارے کان کو ٹھیک سے سنائی نہیں دیتی۔ یہی اصول گانے کا ڈیٹا کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سی ڈی میں اتنا ڈیٹا کیوں ہوتا ہے؟ انڈیا ٹوڈے کے مطابق سی ڈی آواز کو ایک مسلسل ریکارڈنگ کے طور پر محفوظ کرنے کے بجائے ہر سیکنڈ میں آواز کے 44 ہزار 100 چھوٹے نمونے لیتی ہے۔ ہر نمونہ اس وقت کی آواز کے بارے میں معلومات رکھتا ہے۔ سی ڈی میں ہر نمونے کے لیے 16 بِٹس استعمال ہوتے ہیں۔ بِٹ کو ایک چھوٹے سوئچ کی طرح سمجھیں جو صرف دو حالتوں میں ہوسکتا ہے، یعنی آن یا آف۔ ایک بِٹ سے دو آپشنز، دو بِٹس سے چار اور تین بِٹس سے آٹھ آپشنز بن سکتے ہیں۔ اسی طرح 16 بِٹس سے آواز کی شدت کی 65 ہزار 536 مختلف سطحیں ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔ 44 ہزار 100 نمونے اور 16 بِٹس فی نمونہ ہونے کی وجہ سے سی ڈی میں ایک آڈیو چینل کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا بنتا ہے۔ دو چینلز یعنی بائیں اور دائیں آواز کو ملا کر یہ شرح تقریباً 1, 411 کلو بِٹس فی سیکنڈ بنتی ہے۔ اسپاٹیفائی اتنا کم ڈیٹا کیوں استعمال کرتا ہے؟ اسپاٹیفائی پر 320 کلو بِٹس فی سیکنڈ تک کی آڈیو کوالٹی دستیاب ہوتی ہے۔ یہ سی ڈی کے تقریباً 1, 411 کلو بِٹس فی سیکنڈ کے مقابلے میں صرف 23 فیصد کے قریب ہے۔ یعنی 320 کلو بِٹس والی آڈیو میں سی ڈی کے مقابلے میں تقریباً 77 فیصد کم ڈیٹا ہوتا ہے۔ کم معیار والی آڈیو میں ڈیٹا مزید کم ہوسکتا ہے۔ 160 کلو بِٹس فی سیکنڈ کی شرح سی ڈی کے ڈیٹا کا تقریباً 11 فیصد بنتی ہے، یعنی تقریباً 89 فیصد ڈیٹا کم ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود عام سننے والے کو گانے میں کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہوتا۔ گانے کا ڈیٹا کم کیسے ہوتا ہے؟ اس کام کو ’لاسّی کمپریشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گانے کا کچھ ڈیٹا ہمیشہ کے لیے ختم کردی جاتی ہیں تاکہ فائل چھوٹی ہوجائے۔ لیکن کمپیوٹر ہر چیز کو ختم نہیں کرتا۔ وہ زیادہ تر ایسی آوازوں کا ڈیٹا کم کرتا ہے جنہیں ہمارا کان آسانی سے سن نہیں پاتا۔ مثلاً اگر ایک گانے میں ڈھول کی بہت تیز آواز آرہی ہو اور اس کے پیچھے کوئی بہت ہلکی آواز ہو تو ممکن ہے ہمارا کان اس ہلکی آواز کو ویسے بھی واضح طور پر نہ سن سکے۔ کمپیوٹر اسی موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس ہلکی آواز کا کچھ ڈیٹا کم کردیتا ہے۔ ایک تیز آواز دوسری آواز کو چھپا دیتی ہے اسے ایک آسان مثال سے سمجھیں۔ اگر آپ سڑک پر کھڑے ہوں اور قریب ہی کوئی مشین بہت تیز آواز میں چل رہی ہو تو ساتھ کھڑے شخص کی ہلکی آواز سننا مشکل ہوجاتا ہے۔ گانے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ تیز ساز یا آواز بعض ہلکی آوازوں کو چھپا دیتی ہے۔ کمپیوٹر اسی اصول کے تحت ایسا ڈیٹا کم کرسکتا ہے جو سننے والے کے لیے زیادہ اہم نہیں ہوتیں۔ کبھی تیز آواز ختم ہونے کے فوراً بعد آنے والی ہلکی آواز بھی ہمیں پوری طرح محسوس نہیں ہوتی۔ آڈیو کمپریشن میں اس اثر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارا کان ہر آواز کو ایک جیسا نہیں سنتا انسانی کان ہر طرح کی آواز کے لیے برابر حساس نہیں ہوتا۔ کچھ آوازیں ہمیں زیادہ واضح سنائی دیتی ہیں، جبکہ بہت گہری یا بہت اونچی آوازیں کم محسوس ہوسکتی ہیں۔ کمپیوٹر اسی معلومات کو استعمال کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ گانے کا کون سا حصہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے اور کون سا حصہ کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کام ’کوڈیک‘ نام کا سافٹ ویئر کرتا ہے۔ یہ گانے کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کا جائزہ لیتا ہے اور پھر غیر ضروری یا کم محسوس ہونے والی معلومات کو کم کردیتا ہے۔ کیا کان کبھی فرق محسوس کر سکتا ہے؟ ہاں، بعض صورتوں میں فرق محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر اگر کوئی شخص اچھے ہیڈ فون یا اسپیکرز پر پرسکون ماحول میں موسیقی سنے تو آواز کی کچھ باریک تفصیلات مختلف محسوس ہوسکتی ہیں۔ عام موبائل اسپیکر یا عام ایئر فون پر یہ فرق محسوس کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ ہر قسم کی موسیقی پر بھی کمپریشن کا اثر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کلاسیکی موسیقی میں ’گمک‘ جیسی باریک آوازیں ہوتی ہیں جن میں سُر کو بہت نرمی سے اوپر نیچے کیا جاتا ہے۔ ایسی باریک تبدیلیوں پر کمپریشن کے اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ لاس لیس آڈیو کیا ہے؟ لاسّی کمپریشن کے برعکس ’لاس لیس‘ آڈیو میں اصل معلومات مستقل طور پر ختم نہیں کی جاتیں۔ اسپاٹیفائی، ایپل میوزک اور ایمیزون میوزک جیسی سروسز لاس لیس آڈیو کے آپشنز بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس میں آواز اصل ریکارڈنگ کے زیادہ قریب رہتی ہے، لیکن فائل کا سائز عام کمپریسڈ آڈیو سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم لاس لیس گانا سننے کے باوجود ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے۔ اگر آپ اسے عام بلوٹوتھ ایئر فون پر سن رہے ہیں تو فون سے ایئر فون تک جاتے ہوئے آواز دوبارہ کمپریس ہوسکتی ہے۔ اصل راز کیا ہے؟ اسٹریمنگ سروسز گانے کا بہت سا ڈیٹا کم کر دیتی ہیں، لیکن انسانی کان کی حدود کی وجہ سے ہمیں اکثر اس کمی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ کمپیوٹر یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کون سی آواز ہمارے لیے اہم ہے اور کون سی آواز دوسری آوازوں میں چھپ سکتی ہے۔ اس طرح گانے کی فائل چھوٹی ہوجاتی ہے، انٹرنیٹ پر کم ڈیٹا خرچ ہوتا ہے اور گانا فون تک تیزی سے پہنچتا ہے۔ یعنی جب ہم اسپاٹیفائی پر گانا سنتے ہیں تو ہمیں ملنے والی آواز میں صرف موسیقی ہی نہیں بلکہ انسانی سماعت اور ٹیکنالوجی دونوں کا کردار شامل ہوتا ہے۔ گانے کا کچھ ڈیٹا راستے میں کم ہوچکا ہوتا ہے، لیکن ہمارا کان اکثر اسے محسوس نہیں کر پاتا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments