اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک نئی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران تقریباً 200 میٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق اس حملے سے قبل امریکا کو بھی کارروائی سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، تاہم لبنان یا حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے تھے۔ اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جنہوں نے کہا تھا کہ امید ہے فریم ورک سے لبنان میں امن کے لیے پیش رفت ہوگی، ہم چاہتے ہیں لبنان اور اسرائیل کے لوگ محفوظ مستقبل کی زندگی گزارسکیں جب کہ لبنانی سفیر نے کہا کہ معاہدہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔ تاہم لبنان میں تازہ اسرائیلی کارروائی نے اس معاہدے کے مستقبل اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



