68.8 F
Pakistan
Saturday, October 10, 2026
HomeBreaking Newsارسٹو کریٹک و بیوروکریٹک پاکستان

ارسٹو کریٹک و بیوروکریٹک پاکستان

کچھ دنوں سے قلم سیاست سے گریزاں تھا۔ صوفیزم، فکر اور انسان کے باطن کی طرف دل لگا ہوا تھا۔ شاید اس لیے کہ سیاست کے موجودہ منظرنامے میں الفاظ بہت ہیں، معنی کم؛ دعوے بہت ہیں، نتائج کم؛ اور شور اتنا ہے کہ انسان اپنے اندر کی آواز بھی نہیں سن پاتا۔ پھر خیال آیا کہ سیاست سے آخر کب تک بھاگا جا سکتا ہے؟۔ جس معاشرے میں ہم سانس لیتے ہیں، اس کے دکھ بھی تو ہماری تحریر کا حصہ ہیں۔ چند روز پہلے ایک پلمبر کا فون آیا۔ اس کی والدہ انتقال کر گئی تھیں۔ تعزیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ پندرہ دن سے بیمار تھیں۔ پھر اس نے بتایا کہ ان دنوں گھر میں فاقے رہے اور اب ماں کو دفنانے کے لیے بھی اس کے پاس کفن دفن کے پیسے نہیں۔ میں خاموش ہو گیا۔ یہ محض ایک غریب گھرانے کی داستان نہیں تھی؛ یہ اس ریاست کا آئینہ تھا جہاں ترقی کے دعووں، منصوبوں اور اعداد و شمار کے درمیان ایک محنت کش اپنی ماں کو عزت سے دفنانے سے بھی محروم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کی زندگی میں کہاں موجود ہے اور کہاں غائب؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان اللہ تعالی قائم رکھے۔ اسلام کے نام پر آزادی کے بعد بہت کچھ ہوا، مگر اسلام کا عدل، مساوات اور انسانی حرمت ہمارے اجتماعی عمل میں آج بھی تشنہ دکھائی دیتے ہیں۔ فرقہ پرستی، پیری فقیری، مفادات اور انسان کی انسان پر برتری بھی اسی نام سے وابستہ کر دی گئی ہے۔ جمہوریت کا سوال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ کیا ہم واقعی جمہوری پاکستان ہیں یا ایک اشرافیائی اور بیوروکریٹک نظام میں بدل چکے ہیں، جہاں فیصلے محدود طبقوں کے ہاتھ میں ہیں اور عوام ان کے نتائج بھگتتے ہیں؟ چہرے، حکومتیں اور نعرے بدلتے ہیں، مگر عام آدمی کی قسمت نہیں بدلتی۔ بیوروکریسی، سیاست، کاروبار، عدالت، میڈیا، صحت اور تعلیم کے طاقتور مراکز ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ندیم افضل چن صاحب کا کلب والا تصور اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے: چند مستقل ارکان فیصلہ کرتے ہیں اور باقی معاشرہ تماشائی بن کر قیمت ادا کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں افتخار احمد صاحب کی ایک گفتگو سننے کا اتفاق ہوا۔ پاکستان کی تاریخ، سیاسی معاشرت اور آئینی بحران پر ان کی گفتگو نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ ہمارا مسئلہ محض حکومتوں کی تبدیلی ہے یا پورا سیاسی، آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ بحران کا شکار ہے؟ عدلیہ، بیوروکریسی اور سیاست کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ نظام کی اصلاح کی خواہش اور صلاحیت کہاں باقی ہے۔ ادارے موجود ہیں، مگر ان کی کارکردگی اکثر شہری کی ضرورت سے کٹی ہوئی ہے۔ قانون کی روح یہ ہے کہ جرم اور ذمہ داری کا تعین ہر شخص کے لیے یکساں معیار پر ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی جیسے تاریخی مقدمات آج بھی انصاف اور قانون کے یکساں اطلاق کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان جج صاحبان کو سلام جو نامساعد حالات میں بھی قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قانون کی بالادستی صرف فیصلے لکھنے سے نہیں، اس کے یکساں نفاذ سے قائم ہوتی ہے۔ جب قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو، بندوق قانون کی جگہ لے لے، ماورائے قانون کارروائیاں معمول بن جائیں اور انسانی جان الزام یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر چھین لی جائے تو ریاست پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟ سی سی ڈی جیسے اداروں کے بارے میں اٹھنے والے سوالات بھی اسی بنیادی اصول سے جڑے ہیں۔ ریاست کا فرض جرم روکنا اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا دلوانا ہے، مگر ریاستی اختیار خود قانون کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر ریاست قانون سے باہر نکل جائے تو شہری انصاف کے لیے کہاں جائے گا؟سانحہ بلدیہ جیسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ قانون اور نگرانی کی ناکامی محض سرکاری فائلوں کا مسئلہ نہیں، انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔ خیبر پختونخوا کی بدامنی ہو یا بلوچستان کی بے چینی، صرف طاقت، بیانات اور الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سکیورٹی کے ساتھ سیاسی، سماجی، معاشی اور مقامی عوامل کو سمجھنا ہوگا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مسلح گروہوں کو وسائل کہاں سے ملتے ہیں، بیرونی قوتوں کا کیا کردار ہے اور مقامی آبادی کا ریاست سے تعلق کیوں کمزور پڑ رہا ہے۔ ریاست اور شہری کا تعلق باہمی ذمہ داری پر قائم ہوتا ہے۔ شہری ٹیکس دیتا، قانون مانتا اور ریاست کو اختیار دیتا ہے؛ بدلے میں اسے تحفظ، انصاف، عزت اور برابر سلوک ملنا چاہیے۔ جب یہ تعلق یک طرفہ ہو جائے تو ریاست بظاہر طاقتور مگر اندر سے کمزور ہو جاتی ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، متوسط طبقہ سکڑ جائے، نوجوان مایوس ہوں اور شہری اپنی ہی ریاست کو اجنبی سمجھنے لگیں تو تاریخ خاموش نہیں رہتی۔ قدرت کے حساب میں نہ پروٹوکول کام آتا ہے، نہ عہدہ، نہ طاقت اور نہ تقریر۔ ہم نے ریاست کو طاقتور بنانے کی کوشش بہت کی، مگر شہری کو مضبوط بنانے پر کم توجہ دی۔ ہم نے ادارے بنائے، ترقی کے اعداد لکھے، مگر اس پلمبر کی ماں کے کفن کا حساب کسی کتاب میں نہیں رکھا۔ کسی ریاست کی اصل ترقی بلند عمارتوں، بڑے منصوبوں یا وسیع بجٹ سے نہیں، اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ ایک غریب آدمی اپنی ماں کو عزت سے دفنا سکتا ہے یا نہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان اللہ تعالی قائم رکھے، مگر دعا یہ بھی ہونی چاہیے کہ اس میں اسلام کا عدل، جمہوریت کی روح، قانون کی بالادستی اور انسان کی عزت قائم رہے۔ ملک صرف زمین یا نقشے پر کھینچی ہوئی لکیر نہیں؛ وہ شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے۔ اور جب یہ رشتہ کمزور پڑنے لگے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ ریاست کتنی مضبوط ہے۔ سوال یہ ہوتا ہے: کیا ریاست اب بھی اپنے لوگوں کی ہے؟۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments