83.6 F
Pakistan
Monday, July 27, 2026
HomeLifestyleاردو پڑھنے والے اب کتنے باقی ہیں اور وہ ہیں کون؟

اردو پڑھنے والے اب کتنے باقی ہیں اور وہ ہیں کون؟

بڑے غرور سے عین سمندر کے بیچ میں ایک پڑھے لکھے نوجوان نے کشتی چلانے والے سے پوچھا، ’تم نے شیکسپیئر پڑھا ہے کبھی؟‘ وہ بولا نہیں، یہ بولے ’اوہو، تم نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔‘ اب موسم تھوڑا خراب ہوا، پھر زیادہ ہوا، بارش تیز، کشتی ڈول رہی ہے، اب کشتی کا ڈرائیور بولا، ’سر آپ نے تیرنا سیکھا ہے‘ یہ بولے ’نہیں ۔۔۔‘ ’بس سر اب آپ نے زندگی ضائع کر دی۔‘ اردو میں لکھنے والوں کو اس وقت لگ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔ پچھلے دنوں ایک بیان سامنے آیا کہ اردو اب صرف مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کی زبان رہ گئی ہے، حیرت یہ ہے کہ ایسا بیان اتنی دیر سے کیوں آیا۔ اس بات پر جتنے لوگوں نے تبصرے کیے، سب میری عمر کے ہیں یا مجھ سے بڑے ہیں۔ جن کی بات ہو رہی ہے ان کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ کہ چل کیا رہا ہے۔ تو پیارے لوگو ۔۔۔ اردو میں لکھنے والے مجھ جیسوں کو اب پتہ چل رہا ہے کہ آپ ان کی کتابیں نہیں پڑھتے۔ اردو کو اصل میں ہم نے امریکہ بنایا ہوا ہے۔ آپ دیکھیے، جیسے ٹرمپ کہتے ہیں میک امریکہ گریٹ اگین اور اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ صرف انہیں اپنی نظروں میں گریٹ بناتا ہے، اسی طرح ہمارے یہاں اردو میں ہو رہا ہے۔ ہم لوگ اردو زبان کی خدمت کا نعرہ مار کر جو کچھ بھی لکھ رہے ہیں وہ ہمیں اپنی نظروں میں تو ادیب، شاعر، یا گریٹ کالمسٹ ضرور بنا رہا ہے لیکن ہمارا آڈئینس کون ہے؟ ہمیں آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ اگر ہم اردو میں لکھ رہے ہیں اور اسے کوئی پڑھ رہا ہے تو وہ دور دراز کے گاؤں دیہاتوں والے بچے ہیں، چالیس برس سے اوپر کی عمر کے لوگ ہیں اور یا پھر جینوئنلی وہ بچے ہیں جو دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیونکہ عربی فارسی کی روایات ابھی اردو سے انگریزی میں پوری طرح منتقل نہیں ہوئیں اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی خاص امکان ہے۔ تو اس بات پر خوش ہونے کی بجائے کہ ہمیں کوئی پڑھنے والا باقی بچا ہوا ہے، ہم اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ یہ بہت تشویشناک صورتحال ہے اور ہمیں اردو کا آڈئینس بڑھانے کے لیے اب کیا کیا کرنا چاہیے۔ خود اردو لکھنے والوں کا حال یہ ہے کہ میں اپنی کتاب کسی کو دوں گا تو وہ نہیں پڑھے گا اور کوئی اپنی مجھے پیش کرے گا تو بھی تین چار فیصد ہی امکان ہے کہ میں اسے پڑھ جاؤں ۔۔۔۔ کیوں؟ اس لیے کہ ہر کوئی اپنے لیے لکھ رہا ہے۔ کوئی دوسرا اس سے ریزونیٹ نہیں کر رہا ۔۔۔ جو ایک دو فیصد کنٹیمپریری کتابیں ایسی آتی ہیں جنہیں پڑھا جا سکے وہ باقیوں میں دب کے غرق ہو جاتی ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ کہ نئی نسل اردو کیوں نہیں پڑھ رہی، اس لیے کہ اردو بولنا وہ جانتے ہیں، پڑھنا انہیں نہیں آتا۔ پچھلے تیس پینتیس سال میں ہم نے جتنا زور بچوں کو انگریزی سکھانے پہ لگایا ہے، اور حق پہ لگایا ہے تو اس کے بعد یہ ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو سمجھ نہ آئے۔ وہ رومن پڑھتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کمپنی سے اشتہار بنانے کے لیے رابطہ ہوا، انہوں نے سکرپٹ مانگا، اردو میں پیش کیا، وہ غریبوں نے دوبارہ مانگا کہ اسے انگلش الفابٹس میں لکھ کر دیں، تب بات آگے بڑھی ۔۔۔ تو صورتحال یہ ہے۔ اب ریلیونسی کی بات کر لیتے ہیں، ہمارے یہاں پینٹنگ، میوزک اور ویژول آرٹ اب بھی دنیا بھر کا اثر لیتا ہے اور مقابلے میں اپنی چیز پیش کرتا ہے، کیوں؟ کیوں کہ اس کا تعلق زبان سے نہیں، میشا جاپان والا نے اوڈیسی کے کاسٹیوم دیے ہیں، عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی صاحبزادی لاریب عطا ہالی وڈ کی فلموں میں گرافکس دیتی ہیں، میوزک ہمارا اب بھی دنیا سنتی ہے، لیکن ڈراموں فلموں اور کتابوں کے معاملے میں الحمدللہ ہم غرق ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مجھے فوکس کتاب پر رکھنے دیں ۔۔۔ پہلی بات، اردو سکرپٹ اب وہی پڑھے گا جس کا رابطہ بچپن میں اس سے رہا ہو گا، یا عربی فارسی سے ہو گا، دوسری بات، نئے بچے سادی زبان محنت کر کے پڑھ لیں گے ادب وغیرہ وہ انگریزی میں ہی پڑھیں گے کیونکہ وہاں انہیں دنیا بھر کی چیز مل رہی ہے اور ہم اردو والے دوبارہ بیسکس میں پھنس چکے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ 1980 سے لے کر 2010 تک زیادہ سے زیادہ وہ آخری ٹائم لائن ہے جب تک جب اردو ادب والے دنیا میں موجود چیزوں کا اثر لیتے تھے اور ریلوینٹ رہنے کی کوشش کرتے تھے، اس وقت کم از کم میری نظر سے ایسا کچھ نہیں گزر رہا۔ خود میری اپنی بات کریں تو میں کب سے اس چیز کی حمایت میں لکھ رہا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ کام کرنا ایویں خواہ مخواہ ہم پہ مسلط کیا گیا ہے، اس دن عثمان بھائی کی ریکمنڈیشن پہ ایک مضمون پڑھا تو پتہ چلا رسل یہ بات 1935 میں کر چکا ہے۔ میں، ایک اردو والا، خود سو سال پرانی باتیں چبا رہا ہوں؟ تو میرے خیال میں اس کا واحد حل یہ ہے کہ اردو کی ترقی یا اس میں کتابیں بیچنے کا خیال چھوڑ دیں، اگر کوئی قومی ادارہ اسے صرف نئے بچوں سے ریلیونٹ بھی رکھنا چاہتا ہے تو اردو کی چیزوں کو ڈیجیٹلی پیش کیسے کرنا ہے، اس چیز پہ فوکس کریں۔ اپنی ضد چھوڑ دیں کہ صرف نستعلیق میں لکھنا ہے، نسخ کا مزہ نہیں آتا، رومن میں لکھا تو اردو کا مستبقل تباہ ہو جائے گا، کچھ بھی نہیں ہو گا، صرف اس چیز کو دیکھیں کہ پریزنٹیشن کیا ہے اور نوجوان کس طرح آپ کا لکھا پڑھ سکتے ہیں۔ میرا نام حسنین جمال ہے، میں دو کتابیں لکھ چکا ہوں، الحمدللہ ان میں سے ایک کا اب پانچواں ایڈیشن ختم ہونے والا ہے اور میرے پڑھنے والوں میں بڑی تعداد دینی تعلیمات سے وابستہ نوجوانوں کی ہے۔ پڑھنے والوں کا شکریہ، دیکھنے والوں کا شکریہ، مولا سلامت رکھے! اردو ادب زبان نوجوان اردو کو اصل میں ہم نے امریکہ بنایا ہوا ہے۔ آپ دیکھیے، جیسے ٹرمپ کہتے ہیں میک امریکہ گریٹ اگین اور اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ صرف انہیں اپنی نظروں میں گریٹ بناتا ہے، اسی طرح ہمارے یہاں اردو میں ہو رہا ہے۔ حسنین جمال سوموار, جولائی 27, 2026 – 07: 15 Main image:

(اے ایف پی)

بلاگ jw id: apNCQHca type: video related nodes: ہمیں بوڑھوں کی ضرورت ہے اپنا بیسٹ ہرگز نہ دیں باجی سر پہ کھڑی ہو کے صفائی کیوں کرواتی ہیں؟ موت جن کے ہونے کا یقین نہیں کرنے دیتی SEO Title: اردو پڑھنے والے اب کتنے باقی ہیں اور وہ ہیں کون؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments