75 F
Pakistan
Tuesday, July 14, 2026
HomeBreaking News”آپریشن شعبان“ دیر آید درست آید

”آپریشن شعبان“ دیر آید درست آید

اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں۔ دشمن چاروں اطراف سے حملہ آور ہے۔ ہماری مسلح افواج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اندرونی و بیرونی دشمن کے ساتھ کامیابی سے نبردآزما ہیں ۔ تاہم ایک مرتبہ پھر قومی اتحاد یک جہتی اور قومی سطح پر اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے ۔ 1973 میں سیاسی قیادت قوم کی امنگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مکمل اتحاد اور اتفاق کے ساتھ اکٹھی ہوئی اور اس ملک کو ایک متفقہ دستور دیاجس کے تحت ملک کا نظم و نسق آج بھی چل رہا ہے۔ تمام اکائیوں سمیت وفاق اس پر متفق ہے۔ جنگوں میں قوم یکجا ہوئی بالخصوص معرکہ حق کے دوران ما سوائے پی ٹی آئی کے چند شر پسندوں جن کی ملک دشمنی اب روز روشن کی طرح عیاں ہے باقی ساری قوم یکجا تھی ۔ اور اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو اس کے تمام وسائل سمیت خاک میں ملا دیا گیا۔ جب ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے نے بھارت کی ایما اور مکمل سپورٹ کے ساتھ خیبرپختونخوا کو نو گو ایریا بنا دیا تھا تو اس وقت بھی سیاسی قیادت اور قوم یکجا ہوکر فیصلہ کن جنگ کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن گئی تھی۔ اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت حتمی اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے سوات ، دیر سمیت دیگر علاقوں سے دہشت گردوں کو چن چن کر جہنم واصل کیا اور نو گو ایریاز کو نہ صرف واگزار کرایا گیا بلکہ وہاں آئین پاکستان کے تحت عوام کی زندگی کو آسان بناکر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا۔ آج الحمدللہ وہاں پاکستان کی مکمل رٹ قائم ہے اور لوگ آزادانہ طور پر اعتماد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی دور میں پھر خیبرپختونخوا دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ یقینا تحریک انصاف کا بیانیہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کی نمائندگی کرتا ہے اور کہیں نہ کہیں ان دہشت گردوں کو سیاسی طور پر خیبرپختونخوا حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ تاہم متفقہ اور حتمی فیصلہ یہی ہے کہ فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی ٹی ٹی اے سمیت اندرونی دشمن کو بھی نشان عبرت بنایا جائے گا۔ بھارت یقینا ہمارا ازلی دشمن ہے وہ پاکستان کو عسکری میدان میں تو شکست دے نہیں سکتا تاہم اپنی پراکسیز کے ذریعے اندرونی طور پر خلفشار، دہشت گردی، مذہبی منافرت کا شکار کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو یہ خطہ جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم اور نمایاں ہے ۔ بالخصوص قدرتی وسائل، معدنیات اور گوادر پورٹ کی وجہ سے بلوچستان کو خطے میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کہنا درست ہوگا کہ بلوچستان سونے کی چڑیا ہے ۔ گوادر اور سی پیک پراجیکٹ سے پاکستان معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ چین سمیت دیگر ممالک کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی اور پاکستان میں ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی ۔ بلوچستان میں بھی خوشحالی آئے گی ۔ یہ بات ہمارے دشمن بھارت کو کسی طور قبول نہیں ہے چنانچہ کبھی وہ چاہ بہار بندرگاہ پر بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرتا ہے ۔ اور اب اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ افغانستان میں قابض رجیم ٹی ٹی اے کے ذریعے بلوچستان میں نقص امن پیدا کر رہا ہے ۔ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والی بی ایل اے ، ٹی ٹی پی ، ٹی ٹی اے اور سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل دہشت گردی کرنے والے جن کی باگ دوڑ افسوسناک طور پر تحریک انصاف سے ملتی ہے وہ سر گرم عمل ہیں اور خوف کی فضا بنا کر بلوچستان کے لوگوں کو ریاست سے دور کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، طویل عرصے سے جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے باعث بیرونی سازشوں اور اندرونی شر پسندی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں منگی ڈیم پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے بزدلانہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک جامع اور فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا ہے، جسے “آپریشن شعبان” کا نام دیا گیا ہے۔ پاک فوج، فرنٹئیر کور (ایف سی) بلوچستان اور بلوچستان پولیس کے اس مشترکہ مشن کا واحد مقصد صوبے سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ کرنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ہنگامی دورہ کر کے ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں واضح اور دو ٹوک فیصلہ کیا ہے کہ اب دشمن اندورنی ہو یا بیرونی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ملک دشمنوں کو چن چن کر جہنم واصل کیا جائے گا ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اس وقت مسلح افواج، ایف سی اور پولیس سمیت سیکیورٹی ایجنسیاں زخمی شیر کی مانند دشمن پر ٹوٹ پڑی ہیں اور دشمن کا پیچھا کر کے نشان عبرت بنا رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں انتہائی ضروری تھیں۔ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران “فتنہ الخوارج” (ٹی ٹی پی) اور “فتنہ ہندوستان” (بی ایل اے) کی جانب سے تخریب کاری کی سرگرمیوں میں تیزی اور شدت آ گئی ہے۔ ان تنظیموں کو بھارتی سرپرستی حاصل ہے، اس بات کے دستاویزی اور دیگر شواہد موجود ہیں ۔ اور یہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں، خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک اور گوادر پورٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ معصوم شہریوں کا اغوا، سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ان شرپسند عناصر کا بنیادی ایجنڈا رہا ہے۔ منگی ڈیم سانحے کے فورا بعد 5 جولائی 2026 کو سکیورٹی فورسز نے الرٹ ہو کر دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا۔ بلوچستان کے انتہائی دشوار گزار پہاڑی اور ناہموار علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف زمین اور فضا، دونوں اطراف سے مربوط کارروائیاں شروع کی گئیں۔ فضائی نگرانی اور گرانڈ فورسز کے بہترین تال میل کی بدولت دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور سپلائی لائنز کو کامیابی سے شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو ملنے والی معلومات اور حمایت نے اس مشن کو آسان بنا دیا ہے۔ دشمن نے اپنے پراپیگنڈا کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ ریاست آپ کو ہمارے قہر سے نہیں بچا سکتی اس لیے یا ہمارا ساتھ دو یا خاموش رہو، حالات یہی تھے کہ جو بھی پاکستان کا نام لیتا ہے وہ بلوچی ہو یا پٹھان اسے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ایسے بے شمار محب وطن پاکستانیوں کو چن چن کر شہید کیا گیا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر بعض ملک دشمن عناصر کی جانب سے منفی پروپیگنڈا اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن صوبے کے امن پسند عوام ترقی اور خوشحالی کے لیے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments