80.4 F
Pakistan
Saturday, October 3, 2026
HomeEntertainmentآنکھیں بند کر لیں، اچانک ایک منظر پوری شدت سے ابھرا،”میں وہ...

آنکھیں بند کر لیں، اچانک ایک منظر پوری شدت سے ابھرا،”میں وہ ہوں جسے تمہارے گھر نے بھلا دیا“،یاد اچانک ٹوٹ گئی، وہ پھر مردہ خانے میں تھا

مصنف: ارشادالعصر جعفریقسط: 29”جھوٹ۔“آواز نرم تھی، اتنی نرم کہ اس میں دھمکی سے زیادہ یقین تھا۔ ”تمہیں سب یاد ہے۔“زاور نے آنکھیں بند کر لیں، اور اچانک ایک منظر پوری شدت سے ابھرا — وہی بچہ، وہی پرانا گھر، وہی نیم کا درخت، مگر اس بار یاد پہلے سے زیادہ واضح تھی۔ صحن کے آخری کونے میں ایک کنواں تھا۔ وہ ہمیشہ سمجھتا رہا تھا کہ اس گھر میں کوئی کنواں نہیں تھا، مگر تھا، اور وہ اس کے پاس کھڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک شخص جھکا ہوا تھا، سیاہ لباس میں، چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ بچے زاور نے پوچھا تھا: ”آپ کون ہیں؟“ اس شخص نے جواب نہیں دیا تھا، بس کنویں کے اندر دیکھا تھا، پھر کہا تھا: ”ایک دن تم خود پوچھو گے — میں کون ہوں؟“ بچے زاور نے پوچھا: ”اور آپ کیا کہیں گے؟“ اس شخص نے پہلی بار سر اٹھایا تھا، اور اس کا چہرہ بالکل وہی تھا جو آج اس دروازے کے اندر کھڑا تھا۔ پھر اس نے کہا تھا: ”میں وہ ہوں جسے تمہارے گھر نے بھلا دیا۔“یاد اچانک ٹوٹ گئی۔ زاور نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ پھر مردہ خانے میں تھا۔ سلمان اسے دیکھ رہا تھا۔”کیا ہوا؟“ زاور نے جواب نہیں دیا، اس کی نظریں اب بھی دروازے کے اندر کھڑے وجود پر تھیں۔”تم نے مجھے یاد کیا،“ وہ وجود بولا، ”اسی لیے میں آیا ہوں۔“عبدالودود آگے بڑھا۔ ”تم اسے نہیں لے جا سکتے۔“وجود کی نظریں پہلی بار عبدالودود پر گئیں۔ ”میں اسے لینے نہیں آیا۔“”پھر؟“”میں اسے واپس کرنے آیا ہوں۔“عبدالودود کا چہرہ سخت ہو گیا۔ ”کس چیز کو؟“مخلوق نے زاور کی طرف دیکھا۔ ”اس کی یاد۔“سلمان نے فائل کھولی۔ ”یہ سب کیا ہے؟“ مخلوق خاموش رہی۔ سلمان نے دوبارہ پوچھا: ”1968 میں کیا ہوا تھا؟“ خاموشی۔ 1912 میں کون غائب ہوا تھا؟”خاموشی۔“اور یہ نشان کیا ہے؟اس بار وجود نے جواب دیا۔ ”نشان نہیں،“ اس نے فرش پر پڑے کانسی کے سکے کی طرف دیکھا، ”مہر۔“”کس کی؟“”ان لوگوں کی جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ مجھے قید کر سکتے ہیں۔“عبدالودود نے آنکھیں بند کر لیں۔ ”وہ غلط تھے۔“مخلوق نے آہستہ سے کہا: ”نہیں۔ وہ غلط نہیں تھے۔ وہ صرف،“ ایک لمحہ رکی، ”ادھورے تھے۔“اچانک فائل کے تمام صفحات ایک ساتھ پھڑپھڑانے لگے۔ سلمان نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا، مگر صفحات رکنے کے بجائے خود ہی پلٹتے رہے، پھر ایک صفحے پر جا کر رک گئے۔ اس صفحے پر چار نام لکھے تھے: عبدالودود، سلمان، زاور، اور چوتھا نام — خالی۔(جاری ہے)نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں پنجاب یونیورسٹی میں ہیومن سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس لیبارٹری کا افتتاح 7 اکتوبر کو ہوگا

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments