ایک بڑے اور نئے سروے کے مطابق آسٹریلیا میں پابندی کے باوجود زیادہ تر بچے اب بھی محدود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں، جس نے اس قانونی اقدام کے مؤثر ہونے پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ سروے کے مطابق گذشتہ سال دسمبر میں پابندی کے نافذ ہونے سے پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے آسٹریلیا کے 12 سے 15 سال کے تقریباً دو تہائی بچے اب بھی ایک یا زیادہ اکاؤنٹس تک رسائی رکھتے ہیں۔ 1, 050 بچوں پر مشتمل سروے کے مطابق تقریباً 50 فیصد بچے اب بھی سب سے مقبول پلیٹ فارمز انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک تک رسائی رکھتے ہیں۔ جب فیس بک اور سنیپ چیٹ جیسی ایپس کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا تو یہ تعداد بڑھ کر تقریباً دو تہائی ہو گئی۔ ممنوعہ سائٹس کے استعمال کا اعتراف کرنے والے تقریباً 70 فیصد بچوں نے کہا کہ پابندی کو چکر دینا ’آسان‘ تھا جبکہ ان میں سے آدھے سے زیادہ نے کہا کہ پابندی نے ان کی آن لائن حفاظت میں کوئی فرق نہیں ڈالا۔ مولی روز فاؤنڈیشن نے کہا کہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز 16 سال سے کم عمر اکاؤنٹس کو نہ تو شناخت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادارے نے مزید کہا کہ برطانیہ میں بھی اس جیسا اقدام لانے کی منصوبہ بندی اس مرحلے پر ’ایک خطرناک جُوا‘ ہو گی۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ آسٹریلیا طرز کی پابندی وہ بہتری فراہم نہیں کرے گی جس کے والدین اور بچے آن لائن حفاظت کے لحاظ سے حق دار ہیں۔ فاؤنڈیشن کے سربراہ اینڈی بیروز نے کہا ’یہ نتائج آسٹریلیا کی سوشل میڈیا پابندی کے مؤثر ہونے پر بڑے سوالات اٹھاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ کے لیے اس کی پیروی کرنا اس وقت ایک بڑا خطرہ ہوگا۔‘ ’پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ فوری اور فیصلہ کن بریک مہیا کرتی ہے مگر آسٹریلیا سے ملنے والے ابتدائی شواہد دکھاتے ہیں کہ یہ صرف ٹیک کمپنیوں کو ذمہ داری سے بچنے دیتی ہے اور بچوں کو وہ بنیادی تبدیلی نہیں دیتی جس کی انہیں آن لائن تحفظ اور فلاح کے لیے ضرورت ہے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) گذشتہ ماہ جاری ایک رپورٹ میں آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر نے یوٹیوب، میٹا اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کو خبردار کیا کہ پابندی کے نفاذ میں ’بڑے خلا‘ موجود ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پلیٹ فارمز 16 سال سے کم عمر بچوں کو بار بار عمر کی تصدیق کی کوشش کرنے دیتے ہیں تاکہ وہ ’بالآخر 16+ کا نتیجہ حاصل کر لیں۔‘ مولی روز فاؤنڈیشن نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ سوشل میڈیا ایپس کے نشہ انگیز اور خطرناک ڈیزائن سے نمٹنا ضروری ہے، کہا کہ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت اس ریگولیشن کو مضبوط بنانا ہے جو ان کاروباری ماڈلز کے بنیادی پہلوؤں کو نشانہ بنائے جو حفاظت پر منافع کو ترجیح دیتے ہیں، نہ کہ محدود پابندیوں کو۔ برطانوی حکومت اس وقت بچوں کی سوشل میڈیا حفاظت کے متعلق سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہی ہے اور نشہ انگیز و خطرناک ڈیزائن خصوصیات کے خلاف سخت اقدامات جیسے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ مولی روز فاؤنڈیشن کے چیئرمین ایان رسل نے کہا ’کیئر سٹرمر کے پاس موقع ہے کہ وہ ثبوت کی بنیاد پر مضبوط نئے قوانین لاکر برطانیہ کو آن لائن حفاظت میں دنیا کا رہنما بنائیں۔ وہ قوانین جو والدین کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔‘ ’اس معاملے میں غلطی کی گنجائش نہیں اور آسٹریلیا جیسی پابندی میں جلد بازی کرنا ایسی ‘جعلی حفاظت’ فراہم کرے گا جو حقیقت میں بچوں کو مایوس کر رہی ہے۔‘ انڈیپنڈنٹ نے سروے کے نتائج پر تبصرے کے لیے یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سے رابطہ کیا ہے۔ آسٹریلیا یوٹیوب ٹک ٹاک انسٹاگرام فیس بک سوشل میڈیا ایک سروے کے مطابق پابندی کے نافذ ہونے سے پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے آسٹریلیا کے 12 سے 15 سال کے تقریباً دو تہائی بچے اب بھی ایک یا زیادہ اکاؤنٹس تک رسائی رکھتے ہیں۔ وشوام سنکرن منگل, اپریل 28, 2026 – 09: 30 Main image:
یہ تصویر 5 فروری 2024 کو لی گئی تھی جب شکاگو میں سنیپ چیٹ کے ادارے نے اپنے 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا (اے ایف پی)
ٹیکنالوجی type: news related nodes: نوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان سوشل میڈیا سکرولنگ کی لت سے بچنے کے آسان اور مشکل حل سو لوگوں کے لائکس بھی سوشل میڈیا پہ کم کیوں لگتے ہیں؟ SEO Title: آسٹریلیا: پابندی کے باوجود ’دو تہائی بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں‘ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/tech/australia-social-media-under-16-ban-b2965396. html show related homepage: Hide from Homepage



