اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ امریکا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے سربراہان، جو کاروباری میدان میں ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھے جاتے ہیں، حالیہ دنوں میں اس بات پر تقریباً ایک ہی مؤقف پر نظر آئے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کو محتاط انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایسے نظام سامنے آسکتے ہیں جو خود اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کے قابل ہوں اور جنہیں انسانوں کے لیے قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بحث اے آئی کے اس ممکنہ مرحلے کے گرد گھوم رہی ہے جسے ’’ریکَرسِو سیلف امپروومنٹ‘‘ یا ’’بار بار خود کو بہتر بنانا‘‘ کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اے آئی نظام انسان کی معمولی یا محدود مدد کے ساتھ اپنی کارکردگی بہتر کرے، پھر اس بہتر صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے مزید بہتر نظام بنانے میں مدد دے، اور یہ عمل مسلسل جاری رہے۔ اگر ایسا نظام حقیقت میں مؤثر انداز سے کام کرنے لگے تو اے آئی کی ترقی موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔ اس کے ممکنہ فوائد بھی بڑے ہیں، مثلاً نئی ادویات کی دریافت، انجینئرنگ میں پیش رفت اور پیچیدہ سائنسی مسائل کے حل۔ تاہم ماہرین کا ایک گروہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ اگر اے آئی کی صلاحیتیں بہت تیزی سے بڑھیں تو کیا انسان اس کے فیصلوں، مقاصد اور اقدامات پر مؤثر نگرانی برقرار رکھ سکیں گے؟ خطرات کے بارے میں تشویش کیوں بڑھی؟ اے آئی کے خطرات پر بحث نئی نہیں ہے، لیکن حالیہ واقعات نے ان خدشات کو زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ اے آئی ایجنٹس، یعنی ایسے نظام جو صارف کی جانب سے خود مختلف کام انجام دے سکتے ہیں، اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ کام کرنے لگے ہیں۔ حالیہ ٹیسٹوں کے دوران بعض اے آئی نظاموں کے ویب سائٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے، قواعد توڑنے اور اپنے ماحول سے باہر نکلنے جیسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ کچھ محققین کو خدشہ ہے کہ اے آئی کی صلاحیتیں اس رفتار سے بڑھ رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کے خود کو بہتر بنانے کے مرحلے تک پہنچنے سے پہلے انسانوں کے پاس اسے محفوظ رکھنے، نگرانی کرنے اور اس کے مقاصد کو انسانی مفادات سے ہم آہنگ رکھنے کے قابل اعتماد طریقے موجود نہ ہوں۔ اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی خطرناک صورتِ حال اسی دہائی کے اختتام تک پیدا ہو سکتی ہے۔ اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس کے سربراہ ایون ہیوبنگر نے بھی اگلی دہائی میں ایسے انتہائی سنگین واقعے کے امکان کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار پیش گوئی نہیں بلکہ متعلقہ محققین کے خطرے کے بارے میں اندازے ہیں، جن پر ماہرین میں اتفاق رائے موجود نہیں۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے بھی حالیہ مضمون میں خبردار کیا کہ اگر خود کو بہتر بنانے والی اے آئی کو مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر آگے بڑھایا گیا تو ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب اس کی رفتار انسانوں کی اسے سمجھنے اور قابو کرنے کی صلاحیت سے زیادہ ہو جائے۔ چیٹ جی پی ٹی سے یہاں تک کا سفر کیسے ہوا؟ چند دہائیاں پہلے اے آئی اتنی محدود تھی کہ اس کے خود کو بہتر بنانے کا تصور زیادہ تر نظری بحث تک محدود تھا۔ ابتدائی اے آئی نظام شطرنج کھیل سکتے تھے، تصاویر پہچان سکتے تھے یا محدود سوالات کے جواب دے سکتے تھے، لیکن وہ اپنی ہی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ بڑی زبانوں پر مبنی ماڈلز، یعنی لارج لینگویج ماڈل، کی ترقی نے صورتحال تبدیل کرنا شروع کی۔ اے آئی پیچیدہ مسائل حل کرنے، پروگرامنگ اور زبان کو سمجھنے میں تیزی سے بہتر ہونے لگی۔ 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کی آمد نے اس تبدیلی کو عام لوگوں تک پہنچا دیا اور اے آئی میں سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس شعبے میں چپس، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ آج کے جدید اے آئی نظام سافٹ ویئر لکھ سکتے ہیں، مختلف کام خود انجام دے سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں خود اے آئی کی تحقیق اور ترقی میں بھی انجینئرز کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہی تبدیلی ’ریکَرسِو سیلف امپروومنٹ‘ کے تصور کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابلِ بحث بنا رہی ہے۔ انسانوں کے لیے خطرہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ اے آئی کے ممکنہ خطرے کو سمجھانے کے لیے فلسفی نک بوسٹروم کی ’’پیپر کلِپ میکسِمائزر‘‘ مثال اکثر دی جاتی ہے۔ اس تصور میں ایک مشین کو صرف یہ مقصد دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کاغذی کلپس بنائے۔ اگر وہ انتہائی طاقتور ہو جائے اور اس کے مقصد کی کوئی حد مقرر نہ ہو تو وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے دستیاب ہر چیز کو کاغذی کلپس میں تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، حتیٰ کہ انسان اور زمین کے وسائل بھی۔ اس مثال کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ موجودہ اے آئی ایسا کر رہی ہے، بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ ایک انتہائی طاقتور نظام کو اگر غلط یا نامکمل مقصد دیا جائے تو وہ اسے ایسے طریقے سے حاصل کر سکتا ہے جس کا انسانوں نے تصور نہ کیا ہو۔ بعض محققین کا خدشہ ہے کہ اگر مستقبل کا کوئی انتہائی طاقتور اے آئی نظام خود کو بہتر بنانے کے قابل ہو گیا اور اپنے انسانی آپریٹرز سے زیادہ صلاحیت حاصل کر گیا تو وہ نگرانی سے بچنے، اپنے ارادوں کو چھپانے یا انسانوں کو اس کے لیے مزید وسائل اور رسائی فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ابھی تک ایسا کوئی ثابت شدہ واقعہ سامنے نہیں آیا جس میں کسی اے آئی نے جان بوجھ کر انسانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے خود مختار منصوبہ بنایا ہو۔ اس لیے ماہرین کے بیان کردہ انتہائی خطرناک منظرنامے کو موجودہ حقیقت کے بجائے مستقبل سے متعلق خدشے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ کیا اے آئی پہلے ہی خود کو بہتر بنا رہی ہے؟ مکمل طور پر نہیں، لیکن اس سمت میں پیش رفت کے آثار ضرور موجود ہیں۔ اے آئی ایجنٹس اب پروگرامنگ کے ایسے کام انجام دے سکتے ہیں جن کے لیے پہلے انسانوں کی مسلسل نگرانی درکار ہوتی تھی۔ اینتھروپک کے مطابق اس کا کوڈنگ ٹول ’’کلاڈ کوڈ‘‘ اس کے متعدد اندرونی منصوبوں میں تیار کیے جانے والے کوڈ کا بڑا حصہ لکھ رہا ہے، جبکہ کمپنی کے انجینئرز کی کوڈ تیار کرنے کی رفتار بھی پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جدید ماڈلز اپنے اندرونی استدلال کے زیادہ مراحل خود انجام دیتے ہیں، جس سے محققین کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے کہ نظام کسی نتیجے تک کیسے پہنچا۔ غیر منافع بخش ادارے ’ایم ای ٹی آر‘ کی تحقیق کے مطابق جدید ماڈلز کی جانب سے قابلِ اعتماد طریقے سے مکمل کیے جانے والے سافٹ ویئر کاموں کی پیچیدگی میں گزشتہ برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اینتھروپک نے جون میں کہا تھا کہ اس پیش رفت کی رفتار پہلے کے اندازوں سے بھی تیز ہو گئی ہے۔ پھر کمپنیاں رفتار کم کیوں نہیں کرتیں؟ تو جناب یہاں ٹیکنالوجی، کاروبار اور قومی سلامتی تینوں عوامل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ اے آئی کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر وہ اپنی ترقی کی رفتار کم کرتی ہیں تو حریف کمپنیاں آگے نکل سکتی ہیں۔ اسی صورتحال کو بعض محققین ’’پرِزنرز ڈِلیما‘‘ سے تشبیہ دیتے ہیں، جس میں ہر فریق کو خدشات کے باوجود مقابلے کی وجہ سے آگے بڑھنے کی جلدی ہوتی ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں مستقبل میں کھربوں ڈالر کی قدر و قیمت رکھنے والی عوامی کمپنیاں بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی موجودہ اور مستقبل کی قدر کا ایک بڑا حصہ اس توقع سے وابستہ ہے کہ وہ مزید طاقتور اے آئی ماڈلز تیار کریں گی۔ دوسری طرف امریکی حکومت بھی اے آئی کی ترقی کو قومی اور معاشی سلامتی سے جوڑتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی اپیلوں کو مسترد کیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کی رفتار کم ہونے سے چین کو اس ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ترقی سست ہوئی تو کیا اثر پڑے گا؟ اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی بحث صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں۔ اس سے چپ بنانے والی کمپنیوں، کلاؤڈ سروسز فراہم کرنے والے اداروں اور ڈیٹا سینٹرز کے کاروبار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان شعبوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب بڑی حد تک اے آئی کی توسیع سے وابستہ ہے۔ حالیہ دنوں میں اے آئی سے متعلق بعض کمپنیوں کے شیئرز میں کمی بھی دیکھی گئی، جسے مارکیٹ نے ترقی کی رفتار محدود ہونے کے خدشات کے تناظر میں دیکھا۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود آرڈرز اور اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ کی طلب مستقبل میں بھی ان کمپنیوں کی ترقی جاری رکھ سکتی ہے۔ کیا ان خدشات پر سب متفق ہیں؟ اے آئی کے ممکنہ انتہائی خطرناک نتائج کے بارے میں ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق میں جدید اے آئی ایجنٹس نے انجینئرنگ کے بعض کام انجام دیے، لیکن قابلِ قدر سائنسی خیالات کی شناخت میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح کی تحقیق یہ سوال اٹھاتی ہے کہ موجودہ اے آئی واقعی انسانی سطح کی عمومی سائنسی صلاحیت کے کتنی قریب پہنچی ہے۔ کچھ سلیکون ویلی کے عہدیدار اور ناقدین یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ بڑی اے آئی کمپنیوں کی جانب سے خطرات پر زور دینے کے پیچھے کاروباری اور ریگولیٹری مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اے آئی اور کرپٹو امور کے سابق سربراہ ڈیوڈ سیکس نے الزام عائد کیا ہے کہ بڑی کمپنیاں ایسی سخت حکومتی ضوابط کی حمایت کر سکتی ہیں جن سے چھوٹی حریف کمپنیوں پر اخراجات بڑھ جائیں اور مقابلہ کم ہو جائے۔ یہ ایک سیاسی و کاروباری دعویٰ ہے، جسے بڑی اے آئی کمپنیوں کے خطرات سے متعلق خدشات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال میں دو حقیقتیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف اے آئی کی صلاحیتیں چند سال پہلے کے مقابلے میں غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہیں اور اب یہ سافٹ ویئر، تحقیق اور خودکار کاموں میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ دوسری طرف انسانوں کے خاتمے جیسے انتہائی سنگین منظرناموں کا کوئی عملی مظاہرہ اب تک نہیں ہوا۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار اور اس کی نگرانی و حفاظت کی صلاحیت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے اور اے آئی انسانوں کے لیے کس حد تک فائدہ مند، خود مختار اور قابلِ کنٹرول ٹیکنالوجی بن کر سامنے آتی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس من گھڑت باتیں بنانے سے انسانیت کے خاتمے کے خطرے تک کیسے پہنچی؟
RELATED ARTICLES



