75.1 F
Pakistan
Monday, August 24, 2026
HomeTechnologyآئی فون فولڈ: نئی ڈیوائس سے دو اہم ترین فیچرز ہٹائے جانے...

آئی فون فولڈ: نئی ڈیوائس سے دو اہم ترین فیچرز ہٹائے جانے کا امکان

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق کمپنی اپنے اس مہنگے فون میں موجودہ آئی فون ماڈلز کے دو اہم فیچرز شامل نہیں کرے گی۔ رپورٹس کے مطابق آئی فون فولڈ میں فیس آئی ڈی کے بجائے ٹچ آئی ڈی دی جا سکتی ہے، جبکہ کیمرہ سسٹم میں الگ ٹیلی فوٹو لینس بھی موجود نہیں ہوگا بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل کا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر میں متعارف کرایا جا سکتا ہے اور اس کی قیمت 2, 000 ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 5 لاکھ 55 ہزار روپے بنتی ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں اصل قیمت ٹیکسز اور دیگر اخراجات کے باعث اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق فون کا فولڈ ہونے والا ڈیزائن، مضبوط قبضہ اور اندر موجود بڑی اسکرین اسے عام آئی فون سے مختلف بنائیں گے۔ فولڈ ہونے کی صورت میں بیرونی اسکرین عام اسمارٹ فون کی طرح استعمال کی جا سکے گی، جبکہ فون کھولنے پر بڑی اندرونی اسکرین صارفین کو ویڈیوز دیکھنے، گیم کھیلنے، ویڈیو کال کرنے اور ایک وقت میں کئی کام کرنے میں زیادہ سہولت دے سکتی ہے۔ تاہم، اس ڈیزائن کے ساتھ ایپل کو کچھ سمجھوتے بھی کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم کیمرہ سسٹم سے متعلق ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئی فون فولڈ میں الگ ٹیلی فوٹو کیمرہ نہیں ہوگا۔ ٹیلی فوٹو لینس عام طور پر دور کی چیزوں کی بہتر زوم تصاویر اور پورٹریٹ فوٹوگرافی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آج کل کئی مہنگے فلیگ شپ فونز میں یہ کیمرہ عام ہو چکا ہے، اس لیے 2 ہزار ڈالر سے زیادہ قیمت والے آئی فون میں اس کی عدم موجودگی کچھ صارفین کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے۔ اگرچہ فولڈ ایبل آئی فون کو کیمرہ استعمال کرنے کے لیے ایک اچھا ویو فائنڈر فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں، لیکن ٹیلی فوٹو کیمرے کی کمی فوٹوگرافی کے شوقین افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایپل اس فون کو اپنے انتہائی مہنگے اور پریمیم ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسری بڑی تبدیلی فیس آئی ڈی سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ موجودہ آئی فونز میں چہرے کی شناخت کے ذریعے فون کھولا جاتا ہے، لیکن آئی فون فولڈ میں ایپل دوبارہ ٹچ آئی ڈی استعمال کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارف فنگر پرنٹ کے ذریعے فون کو ان لاک کر سکیں گے۔ کچھ صارفین کے لیے یہ تبدیلی پرانے دور کی طرف واپسی محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ ایپل کئی سال سے فیس آئی ڈی کو اپنے آئی فونز کی شناخت کا اہم ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔ تاہم، ٹچ آئی ڈی ایپل کے لیے کوئی نئی ٹیکنالوجی نہیں ہے اور کمپنی اب بھی اپنے بعض میک اور آئی پیڈ ماڈلز میں فنگر پرنٹ سینسر استعمال کرتی ہے۔ ممکنہ طور پر فولڈ ایبل فون کے پتلے ڈیزائن کی وجہ سے ایپل کو اندر موجود مختلف ہارڈویئر کو محدود جگہ میں فٹ کرنے کے لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا ہو۔ تاہم، کمپنی نے ابھی تک ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، اس لیے حتمی فون میں کچھ تبدیلیاں ممکن ہیں۔ اس کے باوجود آئی فون فولڈ ایپل کے لیے کئی برسوں میں سب سے اہم نئی مصنوعات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ سام سنگ، گوگل اور دیگر کمپنیاں پہلے ہی فولڈ ایبل فونز مارکیٹ میں پیش کر رہی ہیں، جبکہ ایپل اس شعبے میں نسبتاً دیر سے داخل ہو رہا ہے۔ ایپل کی آمد سے فولڈ ایبل فونز عام صارفین میں مزید مقبول ہونے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ایپل اپنا بڑا آئی فون ایونٹ ستمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں، لیبر ڈے کی چھٹی کے بعد منگل یا بدھ کو منعقد کرتا ہے، اور اس سال 9 ستمبر کی تاریخ کو اس رونمائی کے لیے سب سے زیادہ متوقع اور ممکنہ تاریخ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ایونٹ میں فولڈ ایبل آئی فون کے ساتھ آئی فون 18 پرو سیریز اور ایپل واچ کے نئے ماڈلز کی رونمائی بھی متوقع ہے۔ کمپنی نے ابھی تک لانچ کی تاریخ یا فون کے فیچرز کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئی فون فولڈ ابتدا میں پاکستان سمیت تمام مارکیٹس میں ایک ساتھ دستیاب نہیں ہوگا اور ممکنہ طور پر امریکا جیسے بڑے بازاروں میں پہلے فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون جسے ”آئی فون الٹرا“ بھی کہا جارہا ہے، جدید ڈیزائن اور بڑی اسکرین کے ساتھ توجہ حاصل کرے گا، لیکن اس کی انتہائی زیادہ قیمت کے باوجود ٹیلی فوٹو کیمرے اور فیس آئی ڈی کی عدم موجودگی خریداروں کے لیے ایک اہم سوال بن سکتی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments