یوفا نیشنز لیگ میں جمہوریہ آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان میچ سے قبل آئرش ٹیم میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، گول کیپر گیون بازونو نے اسرائیل کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کردیا، جبکہ دیگر کھلاڑی بھی اسی اقدام پر غور کر رہے ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق گول کیپر گیون بازونو نے ہنگری کے شہر ڈیبریسن میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے میچ میں شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے ساتھی کھلاڑیوں کو آگاہ کردیا ہے۔ بازونو کے فیصلے کے باعث میچ سے قبل آئرش ٹیم کا ٹریننگ سیشن اور پریس کانفرنس بھی تاخیر کا شکار ہوئی۔ کھلاڑیوں اور تکنیکی عملے نے متفقہ موقف اختیار کرنے کے لیے تفصیلی مشاورت کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئرش ٹیم پر اسرائیل کے خلاف میچ سے متعلق دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مڈفیلڈر جیسن نائٹ پہلے ہی میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ 160 سے زائد آئرش کھلاڑیوں نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں۔ کھلے خط میں آئرش قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے غزہ میں جاری جنگ کے احتجاج کے طور پر اسرائیل کے خلاف میچوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب آئرش ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیمیر ہالگریمسن کے بیانات نے بھی تنازع کو مزید بڑھا دیا۔ اسرائیل کے خلاف کھیلنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم نسل کشی کے خلاف کھیل رہی ہے، اس کے ساتھ نہیں۔ ان بیانات پر اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کوچ پر ’’بیوقوفی، جہالت اور منافقت‘‘ کا الزام عائد کیا۔ اس کے بعد معاملہ کھیل کے میدان سے نکل کر دونوں فریقوں کے درمیان لفظی تنازع میں تبدیل ہوگیا۔ آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے نومبر 2025 میں یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوفا کے سامنے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے مطالبے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم، آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے نیشنز لیگ کے میچز کھیلنے کی پابندی کی حمایت نہیں کی اور میچ سے دستبرداری کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق میچ نہ کھیلنے کی صورت میں تکنیکی طور پر آئرلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انضباطی کارروائی سمیت مقابلے سے اخراج تک کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے آئندہ یورپی مقابلوں کے ڈرا میں آئرلینڈ اور اسرائیل کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کی درخواست بھی کی تھی، تاہم یوفا نے یہ درخواست مسترد کردی۔ یوفا کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات کا جائزہ ہر کیس کی بنیاد پر لیا جاتا ہے اور فیصلہ سازی میں سکیورٹی خدشات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ آئرلینڈ اور اسرائیل کی ٹیمیں 4 اکتوبر کو سربیا کے شہر باچکا ٹوپولا میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی۔ آپریشنل مشکلات کے باعث آئرلینڈ میں ہونے والا میچ ملک سے باہر منتقل کیا گیا ہے اور یہ میچ شائقین کے بغیر بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیل کے خلاف میچ کا معاملہ آئرلینڈ میں غزہ کی جنگ سے متعلق جاری سیاسی اور سماجی بحث سے بھی جڑ گیا ہے۔ اسرائیلی شخصیات اور یہودی برادری کے رہنماؤں نے ملک میں سام دشمنی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔



