78.8 F
Pakistan
Thursday, September 3, 2026
HomePoliticsترکی اور پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کی حقیقی اہمیت

ترکی اور پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کی حقیقی اہمیت

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے اور اس کی اہمیت اور اتحادی ممالک کے لیے اس کے تزویراتی مضمرات کے بارے میں مختلف آرا کو جنم دیا ہے۔ متعدد مبصرین نے معاہدے کی افادیت یا اس پر عمل درآمد کی ممکنہ صلاحیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور اسے اس طرح پیش کیا ہے جیسے یہ کسی مخصوص ریاست کے عزائم اور تزویراتی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خاص طور پر تشکیل دیا گیا ہو، اور اسی لیے اسے مکمل طور پر مؤثر ہونے سے پہلے ہی کمزور کیا جانا چاہیے۔ بعض دیگر نے اسے فرقہ وارانہ نوعیت کا معاہدہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ایسی تشریحات ایک بنیادی نکتے کو نظرانداز کرتی ہیں: یہ معاہدہ اپنے مقصد اور کردار کے اعتبار سے دفاعی ہے۔ اجتماعی سلامتی کے ایک انتظام کے طور پر اس کی قدر پر معقول طور پر صرف وہی لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں جو ان غیر فرقہ وارانہ ریاستوں کے خلاف معاندانہ عزائم رکھتے ہوں یا مستقبل میں انہیں نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ فوری سکیورٹی اور عسکری خطرات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں متوقع خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحاد قائم کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کا جائز حق ہے اور بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک مسلمہ روایت بھی۔ ایسے اتحاد ذمہ دار ریاستوں کے درمیان قائم کیے جاتے ہیں جو اپنی قومی سلامتی اور استحکام کو درپیش خطرات کی نوعیت اور دائرۂ کار، نیز اپنے وسیع تر جغرافیائی و تزویراتی ماحول کی سلامتی اور استحکام کے بارے میں مشترکہ تزویراتی اندازہ رکھتی ہوں۔ 9 اگست 2026 کو اسلام آباد میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کی خوشی میں اسلام آباد میں آتش بازی کے مظاہرے کا ایک منظر (عامر قریشی / اے ایف پی) مکہ معاہدے کے تحت اتحادی بننے والی ریاستیں بھی اسی اندازۂ فکر میں شریک ہیں، خاص طور پر خطے میں جاری جنگوں، ان تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے متوقع تزویراتی خلا، طاقت کے توازن میں بگاڑ اور اس علاقائی نظام کے زوال کے تناظر میں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے قائم تھا۔ اس نظام کو تاریخی طور پر بین الاقوامی تحفظ حاصل رہا ہے کیونکہ اس خطے کی سلامتی اور استحکام عالمی اور تزویراتی اعتبار سے نہایت اہم ہیں، نہ صرف اس کی جغرافیائی معاشی اور جغرافیائی مالی اہمیت کے باعث بلکہ اس کے مرکزی محل وقوع اور اس کی دیرپا تاریخی اور سیاسی اہمیت کی وجہ سے بھی۔ یہ تینوں ریاستیں نمایاں جغرافیائی و تزویراتی اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، جو خطے میں تزویراتی توازن کی بحالی اور جاری تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی تزویراتی خلا کو پُر کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اپنے اتحاد کے ذریعے یہ تینوں ممالک ایک بڑی تزویراتی قوت کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو اپنے خلاف یا پورے خطے کے خلاف پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کر سکے۔ مزید برآں، یہ اتحاد مستقبل میں دیگر ریاستوں تک بھی وسعت اختیار کر سکتا ہے جو ان ہی تزویراتی اہداف میں شریک ہوں۔ بعض تشریحات نے، جو معاہدے کے تزویراتی پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہی ہیں، اس اتحاد میں سعودی عرب کی اہمیت اور کردار کو صرف اس کی مالی صلاحیت اور اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوششوں سے جوڑ کر دیکھا ہے اور اسے ان ہی اہم پہلوؤں تک محدود کر دیا ہے۔ تاہم، سعودی عرب کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت اتحاد کے دیگر فریقوں سے کسی طور کم نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ اس سے زیادہ ہو۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں 7 اگست 2026 کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ سہہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کے موقع پر دیکھے جاسکتے ہیں (پی آئی ڈی) کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار کی تلاش میں رہی ہے اور اس رجحان کو سعودی عرب کے لیے منفرد قرار دیا ہے۔ حقیقت میں، تمام ریاستیں اسی مقصد کے لیے یہ ہی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی نقشے پر سعودی عرب کے مقام نے اسے ان ریاستوں کے لیے کشش کا مرکز بنا دیا ہے جو اس کی حمایت اور تائید حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ سعودی عرب کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت کئی عوامل سے جنم لیتی ہے: اس کا تزویراتی محل وقوع، مذہبی مرکزیت، تیل کے وسیع ذخائر، مالی قوت، اس کی پالیسیوں کا اعتدال اور عملیت پسندی، سفارتی کردار، وسیع بین الاقوامی تعلقات اور عسکری صلاحیتیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اپنے اس تزویراتی محل وقوع کے ذریعے سعودی عرب عالمی توانائی منڈیوں، بحری سلامتی، خلیج عرب میں طاقت کے توازن، مشرق وسطیٰ کے وسیع تر خطے اور بڑی عالمی طاقتوں کے تعلقات پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے مزید واضح کیا کہ بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی پوزیشن کس قدر تزویراتی اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح اس کی بندرگاہوں اور معاون انفراسٹرکچر کی تیاری بھی نمایاں ہوئی، جو توانائی کی فراہمی کے متبادل راستے اور عالمی سپلائی و تقسیم کے نظام کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز فراہم کر سکتے ہیں۔ تیل اب بھی سعودی عرب کے اہم ترین تزویراتی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر میں سے ایک کا مالک ہے اور اوپیک میں مستقل طور پر نمایاں پیداواری اور برآمدی ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے۔ مملکت کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے، جس سے وہ بہت سے بڑے پیداواری ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیداوار بڑھا یا کم کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت ریاض کو عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔ سعودی پیداوار سے متعلق فیصلے مہنگائی، نقل و حمل کے اخراجات، حکومتی آمدنی اور ترقی یافتہ و ترقی پذیر دونوں اقسام کے ممالک میں اقتصادی نمو پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب محض تیل برآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی کے انتظام میں ایک اہم کردار بھی ادا کرتا ہے۔ آج مملکت ویژن 2030 کے ذریعے اپنی تیل پر مبنی دولت کو پائیدار اقتصادی، تکنیکی اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کی کامیابی سے اپنی جغرافیائی سیاسی اہمیت کو مزید مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاری، سیاحت، تفریح، لاجسٹکس، صنعت، کان کنی، قابل تجدید اور جوہری توانائی اور دفاعی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں بھی توسیع کر رہی ہے۔ اگر تزویراتی مقام اور تیل کے ذخائر جغرافیائی و تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی اہمیت کے بنیادی عوامل ہیں تو مملکت کی مذہبی حیثیت بھی اس سے کسی طور کم نہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کے قبلے، یعنی مکہ مکرمہ میں موجود خانۂ کعبہ، اور اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کا میزبان ہے، جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ یہ منفرد مذہبی اہمیت مملکت کو ایسی بین الاقوامی حیثیت عطا کرتی ہے جو کسی اور ریاست کے حصے میں نہیں آئی۔ ان مقدس مقامات کی تنظیم، انتظام اور حفاظت کی ذمہ داری، جو ایک طرف سعودی عرب کے لیے اعزاز ہے اور دوسری طرف اس کی ذمہ داری، نے سعودی عرب کو افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکہ میں حکومتوں، مسلم برادریوں اور اسلامی تنظیموں کے ساتھ گہرے اور مضبوط تعلقات قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ سعودی عرب کی مذہبی حیثیت اسے عالم اسلام میں ایک مؤثر آواز کا کردار ادا کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ اس کردار کی بنیاد ایک بڑی عرب طاقت، عالم اسلام کے مرکزی ملک، توانائی کے بڑے پیداواری ملک، مضبوط معیشت اور جی 20 سمیت بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں میں فعال رکنیت پر ہے۔ بہت کم ممالک ایسے ہیں جن کے پاس اثر و رسوخ، وقار اور تزویراتی اہمیت کے اتنے باہم مربوط ذرائع موجود ہوں۔ اگرچہ مملکت نے ماضی اور حال دونوں میں امریکہ کے ساتھ تزویراتی تعلقات برقرار رکھے ہیں، لیکن اس نے چین، روس، یورپی یونین اور دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ بھی کثیر جہتی تزویراتی شراکت داریاں قائم کی ہیں، سوائے صہیونی ریاست کے۔ یہ تعلقات مشترکہ مفادات اور باہمی فوائد پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد مملکت کی سلامتی، استحکام اور وسیع تر تزویراتی دائرۂ کار کو مضبوط بنانا ہے۔ سعودی عرب اپنے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کو احتیاط، اعتماد اور ساکھ کی بنیاد پر آگے بڑھاتی ہے۔ وہ خطے میں تنازعات اور جنگوں کے حل کے لیے کام کرتی ہے۔ فلسطینی حقوق کے فروغ اور بحرانوں میں گھرے خطے کو طویل تنازعات سے نکالنے کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتی ہے۔ اس طرزِ عمل نے سعودی عرب کو ایک ایسے غیر مستحکم بین الاقوامی نظام میں ایک اہم تزویراتی کردار عطا کیا ہے جو تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب کی تزویراتی اہمیت سے قطع نظر، سعودی عرب اعتماد کے ساتھ مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے اور اپنی اہمیت کے ذرائع کو اپنی قوت کی تعمیر کے لیے بروئے کار لا رہا ہے۔ اتحاد اس کی سلامتی اور استحکام کے حصول میں صرف ایک اضافی قوت ہیں، اور ایک محفوظ و مستحکم خطے میں اس کے بلند اہداف کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کا ذریعہ بھی۔ • شہزادہ ترکی الفیصل سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور سابق سفیر ہیں۔ وہ کنگ فیصل فاؤنڈیشن کے بانی اور ٹرسٹی، اور کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز کے چیئرمین بھی ہیں۔ نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب پاکستان ترکی تیل سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر میں سے ایک کا مالک ہے۔ مملکت کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے، جس سے وہ بہت سے بڑے پیداواری ممالک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیداوار بڑھا یا کم کر سکتا ہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل جمعرات, ستمبر 3, 2026 – 08: 30 Main image:

فوری سکیورٹی اور عسکری خطرات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں متوقع خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحاد قائم کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کا جائز حق ہے (گرافک: کو پائلٹ اے آئی)

زاویہ type: news related nodes: مکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کی پہلے تین سال پاکستان سربراہی کرے گا مکہ معاہدہ کیا مغربی ایشیا میں نئے علاقائی نظام کی پیش رفت؟ مکہ معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا: شامی وزیر خارجہ مکہ معاہدہ: علاقائی سکیورٹی کا ایک نیا ڈھانچہ SEO Title: ترکی اور پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کی حقیقی اہمیت copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments