امین مغل ایک مارکسی دانشور تھے۔ تمام عمر طبقاتی جدوجہد کرتے رہے۔ پاکستان کی اس آخری مارکسی نسل سے ان کا تعلق تھا جو نظریے کو ہی حرفِ آخر سمجھتی ہے اور اپنی زندگی مارکس ازم کی ترویج کے لیے بسر کی۔ 1984ء میں خود ساختہ جلاوطنی کے بعد لندن میں ہی کام کرتے رہے۔ وہ استاد، صحافی اور ٹریڈ یونین میں سرگرم کارکن رہے۔ لندن میں ان کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں نیسم باجوہ، محمد حنیف، تقی امام اور ڈاکٹر سعادت سعید نے خطاب کیا۔ محمد نواز وٹو کا مضمون بھی پڑھ کر سنایا گیا، جو انہوں نے چین سے لکھ کر ارسال کیا تھا۔ یونیورسٹی آف لندن میں یار لوگوں کا ایک ہجوم تھا، جو امین مغل کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع تھا۔ نامور ناول نگار صفدر زیدی ہالینڈ سے شرکت کے لیے آئے تھے۔ مترجم اور قانون دان عابد محمود بھی راقم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ امین مغل کی زندگی کے کئی پہلو تھے۔ پہلے درس و تدریس سے وابستہ رہے اور سرکاری کالجوں میں پڑھاتے رہے۔ پھر پروفیسر ایرک سپرین کے ساتھ مل کر شاہ حسین کالج بھی بنایا۔ صحافت بھی کی اور معروف جریدے ’ویو پوائنٹ‘ سے وابستہ رہے۔ وہ بائیں بازو کی فکری تحریک کے سرخیل تھے اور ساری زندگی اسی کے لیے دان کر دی۔ لندن میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستانی، بھارتی اور برطانوی سب شریک تھے، جو تین زبانوں—اردو، پنجابی اور انگریزی—میں اظہارِ خیال کرتے رہے اور امین مغل کو خراجِ تحسین پیش کرتے رہے۔ ثقلین امام لکھتے ہیں: ’’ امین مغل کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی جدائی کا غم سب کو ہے۔ انہوں نے لاکھوں سوگوار چھوڑے، لیکن ان کے جیسا کوئی بھی نہیں، اور وہ اس سے بھی راضی تھے۔ ان کی یادیں، ان کے خیالات اور ان کی دیانت داری ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی اصول پسندی پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔‘‘ راقم کے مطابق، ان کے خیالات اور تحریروں کو کتابی صورت میں شائع کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ اس مارکسی فکر کو ریکارڈ پر لایا جا سکے جس کی ترویج وہ ساری زندگی کرتے رہے۔



