80.2 F
Pakistan
Thursday, September 3, 2026
HomeCrimeلاہور: موٹرسائیکل سوار نوجوان زین کی میت ورثا کے حوالے، ٹریفک وارڈن...

لاہور: موٹرسائیکل سوار نوجوان زین کی میت ورثا کے حوالے، ٹریفک وارڈن معطل

لاہور کے علاقے شاد مان میں ٹریفک وارڈن کی جانب سے موٹرسائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کے دوران شدید زخمی ہونے والے 30 سالہ محمد زین کی ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سی ٹی او لاہور نے غفلت اور لاپرواہی کے الزام میں ٹریفک وارڈن سلطان الحق کو معطل کردیا ہے جب کہ اہل خانہ نے متعلقہ وارڈن کے خلاف اندارج مقدمہ کی درخواست دے دی۔ دوسری جانب پولیس نے محمد زین کے خلاف تیز رفتاری اور ٹریفک اہلکار سے ٹکرانے کے معاملے میں پہلے ہی مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ افسوسناک واقعہ 26 اگست 2026 کو شام تقریباً ساڑھے 5 بجے شادمان مارکیٹ یوٹرن کے قریب پیش آیا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ڈیوٹی پر موجود ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق نے بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والے محمد زین کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس کے مطابق زین رکنے کے بجائے موٹرسائیکل آگے لے جانے کی کوشش میں ٹریفک اسسٹنٹ سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہوگئے۔ زین موٹرسائیکل سمیت بے قابو ہوکر فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا اور اس کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق بھی حادثے میں زخمی ہوا۔ دوسری جانب سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹریفک وارڈن موٹرسائیکل سوار کو روکنے کے لیے سڑک کے درمیان آیا، جس کے بعد موٹرسائیکل وارڈن سے ٹکرائی اور زین فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا۔ حادثے کے بعد محمد زین کو شدید زخمی حالت میں سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً پانچ روز تک زیر علاج رہا۔ اس دوران اس کے سر پر آنے والی شدید چوٹوں کا علاج کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا اور یکم ستمبر 2026 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کو بھی طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسے طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا جب کہ ابتدائی پولیس بیان میں اس کے زیر علاج رہنے کا بھی ذکر سامنے آیا۔ واقعے کے 2 روز بعد یعنی 28 اگست کو تھانہ شادمان میں ڈیوٹی پر موجود سینئر ٹریفک وارڈن کی مدعیت میں محمد زین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موٹرسائیکل سوار تیز رفتاری، غفلت اور بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلا رہا تھا، اسے رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ نہ رکا اور ٹریفک اسسٹنٹ سے جا ٹکرایا۔ اس مقدمے میں زین کے خلاف حسبِ ضابطہ کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔ ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن عثمان عزیز میر کے مطابق زین یکم ستمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوا، جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت کے حوالے سے ورثا سے رابطہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ورثا نے پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر اصرار کیا، بعد ازاں 2 ستمبر کو مجاز عدالت کے حکم پر محمد زین کی میت ورثا کے حوالے کردی گئی۔ محمد زین کے بھائی ایاز اور والدہ نے ٹریفک وارڈن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو درخواستیں دی ہیں۔ درخواست میں اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹریفک وارڈن نے زین کو روکنے کے لیے سڑک کے درمیان آکر مبینہ طور پر اسے دھکا دیا، جس کے نتیجے میں وہ موٹرسائیکل سمیت زمین پر گرا اور اس کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ اہل خانہ کے مطابق زین کے سر کی ہڈی متاثر ہوئی اور اسے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچ روز زیر علاج رہنے کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ اہل خانہ نے پولیس کی جانب سے زین کے خلاف درج مقدمے کو بھی من گھڑت حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے وارڈن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وارڈن نے مبینہ طور پر خود کو بچانے کے لیے زین کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور موقع پر موجود افراد کے بیانات سے حادثے کی اصل صورت حال واضح ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق فوٹیج میں ٹریفک اہلکار کی جانب سے موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش دیکھی جاسکتی ہے۔ اہل خانہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ محمد زین کے بھائی ایاز کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس ان کی درخواست پر کارروائی نہیں کررہی۔ ایاز کے مطابق وہ انصاف کے حصول کے لیے ایس پی ماڈل ٹاؤن کے دفتر بھی گئے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں دفتر سے باہر نکال دیا گیا۔ زین کے بھائی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی واقعے کا نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق زین نجی کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند ہفتے قبل ہی اس کی منگنی ہوئی تھی اور خاندان میں اس کی شادی کے حوالے سے تیاریاں جاری تھیں۔ زین کی ہلاکت کے بعد میت کی حوالگی کے معاملے پر بھی اہل خانہ اور پولیس کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ انہیں مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ وہ تحریری طور پر زین کی غلطی تسلیم کریں، جس کے بعد میت حوالے کی جائے گی۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ میت کی حوالگی کے لیے کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی اور دستخط لیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا تاہم پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد 2 ستمبر کو مجاز عدالت کے حکم پر میت ورثا کے حوالے کی گئی۔ واقعے کے بعد سی ٹی او لاہور نے ٹریفک وارڈن سلطان الحق کو غفلت اور لاپرواہی برتنے کے الزام میں معطل کردیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق واقعے کی مزید انکوائری ایس ایس پی صدر زون حافظ خضر زمان کو سونپی گئی ہے، جس میں حادثے کے محرکات اور تمام متعلقہ حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس اور ٹریفک حکام کے مطابق زین بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور اسے رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم اس نے رکنے کے بجائے آگے نکلنے کی کوشش کی، جس دوران وہ ٹریفک اسسٹنٹ سے ٹکرا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل حقیقت انکوائری کے بعد سامنے آئے گی اور اگر زین کے ورثا قانونی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کرتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ حادثے کی اصل وجہ وارڈن کی جانب سے موٹرسائیکل کو روکنے کا مبینہ غیر محفوظ طریقہ تھا اور وہ وارڈن کے خلاف مقدمہ درج کرکے شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ یوں 26 اگست کو پیش آنے والا حادثہ، پانچ روز بعد زین کی موت، اس کے خلاف پہلے سے درج مقدمہ، اہل خانہ کی جانب سے وارڈن کے خلاف مقدمے کی درخواست اور اب وارڈن کی معطلی نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین پولیس انکوائری اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہوگا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments