ڈیفنس خیابانِ بخاری میں خواتین کے درمیان جھگڑے اور مبینہ تشدد کے کیس میں ویڈیو میں نظر آنے والے تمام پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے، جبکہ متاثرہ خاتون حمیرا اور ان کے بھائی علی احسن نے بھی ڈی آئی جی ساؤتھ کے روبرو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ تشدد کرنے والی خاتون مریم علی تاحال شاملِ تفتیش نہیں ہوئی ہیں۔ متاثرہ خاندان نے مبینہ جعلی ایف آئی آر سے متعلق بھی پولیس حکام کو آگاہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان اور ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں نے ایس ایس پی فدا جانوری کا نام نہیں لیا۔ ویڈیو میں نظر آنے والے دو اہلکار کورنگی، تین درخشاں جبکہ دیگر مددگار 15 میں تعینات ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض اہلکار طویل عرصے سے فلیٹس میں تعینات ہیں۔ دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت میں ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے مقدمہ درج کرنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ درخواست میں مریم علی رضا اور پولیس اہلکاروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نورالعین کے مطابق مریم علی رضا مینٹیننس کے نام پر انہیں مسلسل تنگ کرتی تھیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مینٹیننس کے اخراجات متاثرہ خاندان خود برداشت کرتا تھا، اس کے باوجود ان سے رقم طلب کی جاتی تھی۔ درخواست گزاروں کے مطابق پارکنگ کا بہانہ بنا کر جھگڑا کیا گیا، جبکہ تشدد بھی ان ہی پر کیا گیا اور مقدمہ بھی ان کے خلاف درج کردیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس سے مقدمہ درج کرنے کے لیے رجوع کرنے کے باوجود بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔ تشدد اور مقدمے کے بعد متاثرہ خاندان شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب مریم علی کے وکیل نے مقدمے کی تیاری کے لیے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔



