80.1 F
Pakistan
Wednesday, September 2, 2026
HomeTechnologyہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ

ہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ

میں 2008 سے سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہوں۔ اس وقت فیس بک زیادہ مقبول تھا لیکن میں اس وقت کے ٹوئٹر اور یو ٹیوب کا استعمال زیادہ پسند کرتی تھی۔ فیس بک اس وقت زیادہ رشتہ دار یا دوست احباب جیسے نجی روابط کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے اس کو ایکٹوزم، وی لاگز اور سماجی جدوجہد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٹوئٹر اس وقت بھی سماجی مسائل کی موثر آواز تھا اور اب بھی ہے۔ وہاں پر شروع سے ہیش ٹیگ اور ٹرینڈنگ بہت اہم تھے۔ آہستہ آہستہ انصاف کی آواز کے لیے ٹوئٹر، جو ایلان مسک کی خریداری کے بعد ایکس بنا ہے، سب سے موثر آواز کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا۔ اس ہی طرح یہ پاکستانی سیاست کا محور بھی ہے۔ پاکستان کے سیاست دان، مقتدرہ، اشرافیہ، کھلاڑی ادا کار سب یہاں سے اپنے پیغام جاری کرتے ہیں۔ اس کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں کہ ٹوئٹر یعنی ایکس پر اپنی اجارہ داری بنا لیں۔ یہاں پر ٹویٹ خبر بن جاتی ہے، ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہے اور موضوع بحث بن جاتی ہے۔ یہاں پر موجود سرکاری اور بظاہر غیرسرکاری ٹیمیں اس جدوجہد میں ہوتی ہیں کہ ان کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرے۔ ان کا ذکر ہر طرف ہو۔ پر لوگ انفرادی طور پر بھی یہاں اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ سماجی مسائل کو کسی ٹیم کی مدد کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی انسانی حقوق کا معاملہ ہو وہ خود ہی زیر بحث آجاتا ہے۔ میں اور میرے طرح دیگر سوشل میڈیا صارف سماجی مسائل کو لے کر بہت آواز اٹھاتے ہیں۔ 2009 سے ٹویٹ کرتے ہوئے اور ظلم کا شکار لوگوں کے لیے ہیش ٹیگ استمال کرتے ہوئے مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میں اور اہل خانہ بھی ایک دن ہیش ٹیگ بن جائیں گے۔ اب بھی جب کوئی مرحوم صحافی ارشد شریف لیے آواز بلند کرتا ہے وہ جسٹس فار ارشد شریف کا #ہیش ٹیگ لگانا نہیں بھولتا۔ 9 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’کوائشو‘ پر اپنے چینل کو سکرول کر رہی ہیں (گریگ بیکر / اے ایف پی) کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم سب صرف عدد ہی ہیں، کاش کہ ہمیں انسان سمجھا جاتا اور ہم سب کو انصاف دیا جاتا۔ جب بھی کوئی سانحہ، حادثہ، جرم یا ظلم ہوتا ہے تو جن پر ہوتا ہے وہ صرف عدد یا ہیش ٹیگ نہیں ہوتے وہ جیتے جاگتے انسان ہوتے ہیں۔ ایک خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی بھی نارمل ہوتی ہے بہت سے خواب اور امنگیں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی ناانصافی صرف اس شخص کو متاثر نہیں کرتی جس کے ساتھ وہ ہوتی ہے۔ بلکہ یہ ظلم ناانصافی ان تمام لوگوں کو بھی بری طرح متاثر کر دیتی ہے جو اس شخص کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت بچے اور خواتین خاصا مشکل وقت دیکھ رہے ہیں۔ روز ایسے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کوئی بھی انسان اتنی سفاکی کیسے کر سکتا ہے۔ ہمارے بچے گلی بازاروں میں اور ہماری خواتین اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں۔ اگر آپ گذشتہ دنوں ہونے واقعات دیکھیں تو بالغ خواتین کو ان کے محرم نے قتل کیا۔ شمسو بی بی ٹِک ٹاکر تھیں۔ انہیں ٹیکسلا سے متصل ایک رہائشی کالونی میں دن دھاڑے گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس قتل پر یہ توجیہہ دینی کی کوشش کی وہ ٹک ٹاکر تھیں اس لیے انہیں مارا گیا۔ عورت اپنی معاشی تعلیمی مجبوریوں کے پیش نظر اگر کسی بھی شعبے کو اختیار کرتی ہے تو کیا کسی کو بھی اسے قتل کرنے کا لائیسنس مل جائے گا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اس ہی طرح اسلام آباد کی حدود نیلور میں حنا ظریف کو ان کے والد اور سابق شوہر نے مبینہ طور پر مل کر قتل کیا اور لاش ہسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔ راولپنڈی کی حنا جاوید کی طرف دیکھیں تو وہ اعلی تعلیم یافتہ، دھیمے مزاج کی خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنے بزرگ والدین کی خوب خدمت کی اور صرف نو ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی۔ ان کے شقی القلب شوہر نے کافی بےدردی سے قتل کیا۔ کیا اس پر بھی کوئی وضاحت بنتی ہے جیسے مقتولہ کا شوہر خود اپنے شاگردوں کو بیوی کے قتل کی وجوہات کچھ عرصہ قبل پڑھا رہا تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہمارے ملک میں قانون کی خلاف ورزی، خواتین پر ظلم کو غیرت کے ساتھ جوڑ کر پوری امپونٹی کے ساتھ جرم کیا جاتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں کہتا ہے کہ کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو ہمارا معاشرہ خواتین کے قتل کو اتنا ہلکا کیسے لے رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ شروع سے ہمارا ہاں مردوں کی تربیت ایسی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ خواتین کو معاشرے میں برابر کا حصہ دار نہیں سمجھتے۔ مرد ان کی عزت نہیں کرتے، ان کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کرتے۔ یہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں پھر پڑھنے والی لڑکی کا گلا دبا دیا جاتا ہے، خوش شکل لڑکی پر شادی سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے، جائیداد غیرت کے تنازعے پر لڑکی کو ونی کر دیا جاتا ہے۔ کاروکاری، سورا، ریپ، پسند کی شادی پر قتل، اعلی تعلیم کی اجازت نہ ہونا اور عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھنا ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ جب ایسے واقعات جن میں خواتین کو ان کے اہل خانہ یا جاننے والے کی طرف سے قتل کیا جاتا ہے اور یہ ہیش ٹیگ کی صورت سوشل میڈیا پر پھیلتے ہیں تو قاتلوں کو بچانے کے لیے ان کو پاگل قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مرنے والے کے اہل خانہ غریب ہو تو ان کو ڈرا دھمکا کر چپ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ مرنے والی خاتون کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ ایسے مقدمات میں ریاست کیوں مدعی نہیں بن جاتی؟ ریاست سے بڑھ کر تو کوئی نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی ‘ منگنی ‘ پی پی پی کی افواہوں کی تردید #BilawalBhutto #PPP #independenturdu pic. twitter. com/DnY8C7OKPS — Independent Urdu (@indyurdu) August 30, 2026 ایسا لگتا ہے بچوں اور خواتین پر ظلم کی وبا پھیل گئی ہے۔ ہمارے ملک میں انصاف کا عمل سست ہے اس لیے جرائم پھیل رہے ہیں۔ امیر مجرمین جانتے ہیں کہ وہ نظام سے اوپر ہیں اور غریب مجرمین کو یہ پتہ ہے کہ ہر روز تو ایک نیا کیس سامنے آ جاتا ہے، ایک نیا ہیش ٹیگ آ جاتا ہے۔ اس لیے جرم کرنے والے سفاک ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لواحقین بددل ہو کر کیسز کی پیروی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز 138 خواتین صنفی بنیادوں پر نشانہ بنائی جا رہی ہیں۔ گھریلو تشدد، ہراسانی، قتل و غارت بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کے تدارک کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس ہی طرح بچوں کے خلاف جنسی جرائم خوفناک حد تک بڑھتے جا رہے اور حکومت اس ضمن کچھ نہیں کر رہی۔ اگست میں کم سن آیت نور، نور فاطمہ، جولائی میں محمد ولی کا سفاکانہ قتل اس طرف نشاندہی کر رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔ پدر شاہی، مردانہ بالادستی، مردانہ تفخر، خود ساختہ ہر چیز کا مالک خود کو سمجھنا غلط ہے۔ بچوں اور عورتوں کو جینے کا حق ہے اور قتل کی کوئی جسٹی فیکشن نہیں ہے۔ نہ ہی ہم سب ہندسے اور عدد ہیں ہم سب انسان ہیں۔ اب بھی وقت ہے مقتدر، اشرافیہ، علما، میڈیا، ریاستی ادارے، اساتذہ، سماجی کارکن مل کر بیٹھیں اور ان مسائل کا حل نکالیں ورنہ اس ملک میں ہیش ٹیگ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ ہیش ٹیگ ایکس ٹوئٹر خواتین قتل بچے ہمارے ملک میں انصاف کا عمل سست ہے اس لیے جرائم پھیل رہے ہیں۔ امیر مجرمین جانتے ہیں کہ وہ نظام سے اوپر ہیں اور غریب مجرمین کو یہ پتہ ہے کہ ہر روز تو ایک نیا کیس سامنے آ جاتا ہے، ایک نیا ہیش ٹیگ آ جاتا ہے۔ جویریہ صدیق بدھ, ستمبر 2, 2026 – 08: 00 Main image:

اس ملک میں ہیش ٹیگ بننے میں دیر نہیں لگتی (گرافک: کو پائلٹ اے آئی)

ٹرینڈنگ type: news related nodes: اشرافیہ کی ہیش ٹیگ شادیاں اور عوام انصاف کا ہیش ٹیگ بس ایک ہیش ٹیگ کی ضرورت ہے ’افغان ڈیورنڈ لائن تسلیم نہیں کریں گے‘: ہیش ٹیگ کے پیچھے کون ہے؟ SEO Title: ہر روز ایک نیا ہیش ٹیگ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments