کراچی میں ڈیفنس کے علاقے خیابانِ بخاری میں واقع ایک فلیٹ میں دو خواتین کے درمیان شدید جھگڑے کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود ایک خاتون اور اس کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق ایک خاتون دو باوردی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سیڑھیوں سے نیچے اتریں جن کے ہاتھ میں ورزش کرنے والا ڈمبل تھا، خاتون نے اس ڈمبل سے دوسری خاتون پر حملہ کر دیا اور گالیاں بھی دیں۔ اس تمام تر صورتحال کے دوران وہاں موجود باوردی پولیس اہلکار بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن وہ خاتون مسلسل حملہ آور رہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب سیڑھیوں پر ہاتھا پائی جاری تھی تو فلیٹ کے اندر سے ایک خاتون نے متاثرہ عورت اور اس کے شوہر کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کر لیا۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد ایک سادہ لباس شخص ایک پولیس اہلکار کے ساتھ اوپر پہنچا اور دروازہ کھلوانے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی اثنا میں جھگڑا کرنے والی خاتون نے اس شخص کو کہا کہ اس کیمرے کو توڑو سب کچھ ریکارڈ ہورہا ہے، جس پر اس سادہ لباس شخص نے ساتھ کھڑے پولیس اہلکار کی سرکاری کلاشنکوف لے کر سی سی ٹی وی کیمرے کو مار کر توڑ دیا اور ریکارڈنگ ختم ہو گئی۔ آج نیوز کو موصول ہونے والی ایک اور نئی فوٹیج سے انکشاف ہوا ہے کہ اس تمام تر واقعے کے بعد پولیس نے تشدد کرنے والی خاتون یا کیمرہ توڑنے والے شخص کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا متاثرہ فیملی پر ہی پل پڑی۔ پولیس اہلکار تشدد کی شکار خاتون کے بھائی کو کسی دہشت گرد کی طرح گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ تھانے لے گئے، جہاں متاثرہ فیملی کو مقدمہ درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس سنگین معاملے اور پولیس کے روئیے پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ابھی تک سرکاری طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ باوردی پولیس اہلکار اس وقت اس خاتون کے ساتھ کیوں موجود تھے اور نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ کون سے اعلیٰ پولیس افسر ہیں جن کی جانب سے اس خاتون کو گارڈز کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ شہری حلقوں اور متاثرین کی جانب سے اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات اور ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔



