81 F
Pakistan
Friday, August 28, 2026
HomeTechnologyانسٹاگرام اور فیس بک پر نوجوانوں کے لیے نئی پابندیاں

انسٹاگرام اور فیس بک پر نوجوانوں کے لیے نئی پابندیاں

میٹا نے انسٹاگرام اور فیس بک استعمال کرنے والے نوعمر افراد کے لیے بڑے حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ان تبدیلیوں کے تحت نوجوانوں کے روزانہ اسکرین ٹائم کو محدود کیا جائے گا، رات کے اوقات میں ایپس تک رسائی بند ہوگی، اجنبی بالغ افراد سے رابطے پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی اور عمر کی تصدیق کا نظام بھی سخت کیا جائے گا۔ دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات امریکا کی 47 ریاستوں، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا اور امریکی علاقوں کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا کے نوجوان صارفین میں حد سے زیادہ استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عادت یا انحصار کے خدشات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ میٹا آئندہ چھ ماہ کے دوران ان میں سے بیشتر تبدیلیاں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ عمر کی تصدیق سے متعلق بعض اقدامات کو مکمل طور پر نافذ ہونے میں ایک سال تک لگ سکتا ہے۔ نئے نظام کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے انسٹاگرام اور فیس بک کا روزانہ استعمال ابتدائی طور پر دو گھنٹے تک محدود ہوگا۔ تاہم والدین اپنے بچوں کے لیے والدین کی نگرانی سے متعلق سیٹنگز کے ذریعے اضافی وقت کی اجازت دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک ان ایپس کا استعمال خودکار طور پر روک دیا جائے گا۔ میٹا نوجوانوں کے اسکول کے اوقات میں بھی سوشل میڈیا کی توجہ کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ صبح 8 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک نوعمر صارفین کو آنے والی اطلاعات خاموش کر دی جائیں گی۔ اگر کوئی نوجوان مسلسل زیادہ دیر تک ایپ استعمال کرے گا تو اسے وقفہ لینے کے لیے یاد دہانی بھی کرائی جائے گی۔ یہ پیغام 15 منٹ مسلسل استعمال کے بعد اور پھر 60 اور 90 منٹ پر دکھایا جائے گا۔ نوجوان صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ ویڈیوز اور دیگر مواد کے خودکار طور پر چلنے کا فیچر بند کر سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اسکرول کرتے ہوئے ویڈیوز خود بخود چلنے کے بجائے صارف کی مرضی سے چلیں گی۔ ایک اور اہم تبدیلی ذاتی نوعیت کی الگورتھم پر مبنی فیڈ سے متعلق ہے۔ نوجوانوں کو ایسا آپشن دیا جائے گا جس کے ذریعے وہ اپنی سرگرمیوں اور پسند کو دیکھتے ہوئے تیار کی جانے والی فیڈ کو بند کرکے ایسا مواد دیکھ سکیں گے جو ان کی سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر خاص طور پر منتخب نہ کیا گیا ہو۔ میٹا نوعمر صارفین کے لیے لائکس کی تعداد چھپانے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے بعض انتہائی میک اپ فلٹرز اور ایفیکٹس تک رسائی محدود کی جائے گی جو کاسمیٹک سرجری جیسی ظاہری تبدیلیوں کی نقل کرتے ہیں۔ نئے حفاظتی اقدامات کا ایک بڑا حصہ اجنبی بالغ افراد سے رابطے کو محدود کرنے سے متعلق ہوگا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ ایسے نظام کو مزید مضبوط کرے گی جس کے ذریعے بالغ افراد کے لیے نوعمر صارفین کو پیغام بھیجنا یا ان کا مواد دیکھنا مشکل بنایا جائے گا۔ تاہم کمپنی نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندیاں عملی طور پر کس طرح نافذ ہوں گی۔ نوجوانوں کو نقصان دہ مواد کی رپورٹ کرنے کے لیے بھی ایک نیا طریقہ فراہم کیا جائے گا۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ ایسی 90 فیصد رپورٹس کا چھ گھنٹے کے اندر جواب دینے کا ہدف رکھتی ہے۔ والدین کے لیے موجود نگرانی کے ٹولز بھی برقرار رہیں گے۔ ان کے ذریعے والدین یہ دیکھ سکیں گے کہ ان کے بچے سوشل میڈیا پر کتنا وقت گزارتے ہیں، کیا چیزیں تلاش کرتے ہیں اور بالغ افراد کے ساتھ ان کی کس نوعیت کی بات چیت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بچہ نیا اکاؤنٹ بناتا ہے یا میٹا کو کسی بالغ فرد کے ساتھ اس کا رابطہ مشکوک محسوس ہوتا ہے تو والدین کو اطلاع بھی دی جا سکتی ہے۔ عمر کی تصدیق بھی میٹا کے نئے منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ کمپنی نوجوان صارفین کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کرے گی اور 13 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کو تلاش کرکے ہٹانے کی کوشش کرے گی۔ میٹا پہلے ہی اپنے ’ٹین اکاؤنٹس‘ کے ذریعے 18 سال سے کم عمر صارفین پر نسبتاً سخت پرائیویسی اور حفاظتی سیٹنگز لاگو کر رہی ہے۔ نئے معاہدے کے بعد ان حفاظتی اقدامات کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ان کے استعمال کے دورانیے، رابطوں اور دیکھے جانے والے مواد پر زیادہ کنٹرول فراہم کرنا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ نئے نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ میٹا عمر کی درست شناخت، حفاظتی پابندیوں اور والدین کے کنٹرولز کو عملی طور پر کتنی مؤثر انداز میں نافذ کر پاتی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments