مصنف: صادق حسینقسط: 65 وہ لکیر جو ہر صبح ابھرتے ہوئے سورج کی شعاعوں میں بنائی تھی اور اس کے کنوارے رخساروں سے شفق کی دھاریاں پھوٹ نکلتی تھیں وہ نظارہ دیکھ کر پرویز کو زینت یاد آنے لگتی اور پھر اس سفید لکیر پر سلیٹی رنگ کی لمبی کار دوڑتی ہوئی پانچ منزلہ عمارت کی طرف نکل جاتی اور پھر آڑھت کی منڈی سے روپے کی جھنکار بلند ہو کر چیڑھ کے درختوں کی. .. ۔
”میں اپنی جان دے دوں گی“ کوئی کسی کیلئے زہر نہیں کھا سکتا، ہر شخص جینا چاہتا ہے، کوئی کسی کیلئے جان نہیں دے سکتا، میں خود جینے کیلئے پہاڑ پر آیا ہوں
RELATED ARTICLES



