73.8 F
Pakistan
Saturday, August 29, 2026
HomeCrimeسانحہ پمز: وفاقی وزیرِ صحت احتجاج اور سخت سوالات پر نیوز کانفرنس...

سانحہ پمز: وفاقی وزیرِ صحت احتجاج اور سخت سوالات پر نیوز کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتش زدگی کے باعث پیش آنے والے سانحے پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے علاوہ ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے بھی واقعے کو سنگین غفلت اور بدانتظامی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح بھڑکنے والی آگ نے کئی نومولود بچوں کی زندگیاں چھین لی ہیں۔ حکام کے مطابق صبح 7 بجے وارڈ کے تیسرے فلور میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔ پمزحکام کے مطابق وارڈ میں آتشزدگی کے وقت 15 نوزائیدہ بچے موجود تھے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اب تک 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، پمز اسپتال کی انتظامیہ اور وفاقی وزیرِ صحت کے بیانات میں بھی واضح تضاد سامنے آیا ہے جب کہ سیاسی جماعتیں، عوام اور بچوں کے اہل خانہ کی جانب سے سنگین غفلت اور بدانتظامی پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ پمز اسپتال کے متاثرہ وارڈ کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اس واقعے کو دلخراش سانحہ قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق جس کی بھی غلطی ہوئی، اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور جس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اسے قرارِ واقعی سزا ملے گی۔ وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ایئر کنڈیشن کے کمپریسر میں لگنے والی آگ کو واقعے کی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 6 بج کر38 منٹ پر وارڈ کے ایئر کنڈیشن میں اسپارک کے واقعے کی فوٹیج بھی موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ اسپتال بنا تھا تو اس وقت اسلام آباد کی آبادی 3 لاکھ تھی جو آج 35 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے دوران انہیں بچوں کے اہل خانہ کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس پر وہ نیوز کانفرنس چھوڑ کے چلے گئے۔ واضح رہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال میں آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ سی ڈی اے کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 55 منٹ پر پمز اسپتال میں آگ کی اطلاع ملتے ہی پہلی گاڑی 6 منٹ میں موقع پر پہنچ گئی تھی، تاہم امدادی ٹیم کو ریسکیو آپریشن کے دوران شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی ٹیموں کی جانب سے اسپتال کی راہداریوں کی جالی اور کھڑکیوں کے شیشے توڑکر بچوں کووارڈ سے باہرمنتقل کرنے کے فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ نرسری میں موجود انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے کے باعث پیش آیا۔ اسی آتش زدگی کے نتیجے میں دھواں پائپ کے ذریعے معصوم بچوں کے پھیپھڑوں میں داخل ہوا۔ رپورٹ میں حادثے کے دوران آکسیجن کی بندش کو نومولود بچوں کی اموات کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پمز اسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے اس کے برعکس مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا اور عملے نے بچوں کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ مصطفیٰ کمال کے دورے کے موقع پر ایئرکنڈیشن کے کمپریسر کو حادثے کی وجہ قرار دینے پر بھی اسپتال میں موجود اہل خانہ مشتعل نظر آئے۔ پیپلزپارٹی پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے پمز میں میڈیا سے گفتگو میں کرتے کہا کہ سب سے بڑے وفاقی اسپتال کی یہ حالت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ پمز پر سیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن اس سانحے نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے جس کا احتساب لازمی ہے۔ شیری رحمان نے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو اس معاملے پر فوری مستعفی ہونا چاہئے۔ ایم کیوایم کے رہنما فاروق ستار نے بھی سانحہ پمز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے پر پورا پاکستان غمگین ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کے استعفے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہونے کے لیے جو بھی ذمہ دار ہیں، انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے پمزاسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سے اسلام آباد کے دو اسپتال بھی نہیں چلائے جارہے۔ انہوں نے وفاقی وزیرصحت کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پمز واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ حکومت کی نااہلی اوربد انتظامی کا ثبوت ہے۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر صحت مصطفیٰ کمال اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئی سزا نہیں، اس اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے۔ وفاقی حکومت نے پمز سانحے پر وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے کی تحقیقات کے لےی سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments