حنا جاوید قتل کیس میں پولیس نے دونوں ملزمان کو لاہور منتقل کردیا، جہاں ان کے ڈی این اے ٹیسٹ آج پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری میں کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان میں مقتولہ حنا جاوید کا شوہر فیصل فیاض اور گھریلو ملازم شامل ہیں۔ دونوں ملزمان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے فرانزک جانچ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کروائے جانے کا امکان ہے، جس کے ذریعے تفتیش میں سامنے آنے والے بیانات کی مزید جانچ کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کا آج آخری روز ہے، جس کے بعد انہیں کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت میں ملزمان کے ریمانڈ سے متعلق مزید کارروائی ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے اور فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جبکہ پسلیوں اور کولہے پر بھی زخم کے نشانات موجود تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کے دل کے گرد موجود جھلی خون سے بھری ہوئی تھی۔ حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں حنا جاوید کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا۔ پولیس نے 20 اگست کو مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے دونوں ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق حنا جاوید کی لاش 20 اگست کی صبح گھر کے باتھ روم سے ملی تھی۔ مقدمے میں درج تفصیلات کے مطابق مقتولہ کے دونوں ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار لپٹی ہوئی تھی، جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔



