78.8 F
Pakistan
Tuesday, August 25, 2026
HomeBreaking Newsبینک کس کے؟

بینک کس کے؟

پاکستان میں ایک عجیب کاروبار ہے۔ اس کاروبار کے پاس گاہک بھی ہیں، سرمایہ بھی، شاندار عمارتیں بھی، ڈیجیٹل ایپس بھی، اربوں روپے کے اشتہارات بھی اور ہر سال بڑھتا ہوا منافع بھی بس وہ کام کم ہوتا جا رہا ہے جس کے لیے یہ کاروبار وجود میں آیا تھا۔ یہ کاروبار بینکاری ہے۔ بینک کا بنیادی تصور بہت سادہ تھا۔ معاشرے میں کچھ لوگوں کے پاس بچت ہوتی ہے مگر کاروبار کا تجربہ نہیں ہوتا، اور کچھ لوگوں کے پاس کاروباری صلاحیت، منصوبہ اور محنت ہوتی ہے مگر سرمایہ نہیں ہوتا۔ بینک ان دونوں کے درمیان پل بنتا ہے۔ ایک سے رقم لیتا ہے، دوسرے کو قرض دیتا ہے، خطرہ جانچتا ہے، منصوبہ پرکھتا ہے اور اس عمل کے بدلے منافع کماتا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ پل آہستہ آہستہ ایک سرکاری پارکنگ لاٹ میں تبدیل ہو گیا ہے۔بینک عوام سے ڈیپازٹس لیتے ہیں اور پھر اس رقم کا بڑا حصہ حکومت کو قرض دے دیتے ہیں۔ حکومت کو بھی آسان قرض مل جاتا ہے اور بینک کو بھی نسبتا محفوظ منافع۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس خوبصورت انتظام میں صنعت کار، دکاندار، برآمد کنندہ، نوجوان کاروباری اور کسان کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ذرا ایک نوجوان کا تصور کریں۔ اس نے دس سال ملازمت کی، کسی شعبے کا تجربہ حاصل کیا اور اب ایک چھوٹی فیکٹری لگانا چاہتا ہے۔ اسے پانچ کروڑ روپے درکار ہیں۔ وہ بینک جاتا ہے۔ بینک اس سے زمین، عمارت، مالی حسابات، ٹیکس ریکارڈ، ضمانتیں، کیش فلو اور نہ جانے کیا کیا مانگتا ہے۔ وہ یہ سب کسی نہ کسی طرح پورا کر بھی دے تو سامنے مہنگا قرض کھڑا ہے۔ اسی صبح حکومت بھی اسی بینک کے دروازے پر آتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں سرکاری کاغذ ہے۔ بینک کو فیکٹری دیکھنے کی ضرورت نہیں، کاروباری منصوبہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، مشینوں کی قیمت لگانے کی ضرورت نہیں، مالک کی صلاحیت جانچنے کی ضرورت نہیں اور وصولی کے لیے عدالتوں کے چکر کا خوف بھی نہیں۔ اب آپ خود بینکار ہوتے تو کس کو قرض دیتے؟ یہی پاکستان کے بینکاری بحران کا اصل سوال ہے۔ہم اکثر بینکوں کو الزام دیتے ہیں کہ وہ صنعت اور چھوٹے کاروبار کو قرض نہیں دیتے۔ الزام مکمل طور پر غلط نہیں لیکن بیماری صرف بینکوں کی نیت میں نہیں، پورے نظام کی ساخت میں ہے۔ حکومت اگر مسلسل بڑے پیمانے پر قرض لے، شرح سود بلند اور نسبتاً محفوظ اور منافع بخش ہو تو بینک آخر مشکل گاہک کے پیچھے کیوں جائے گا؟ یہاں ایک خطرناک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ بینکاری کا اصل ہنر قرض دینا نہیں بلکہ اچھا قرض دار تلاش کرنا ہے۔ ایک اچھا کریڈٹ افسر کسی کاروبار کی بیلنس شیٹ دیکھتا ہے، مارکیٹ سمجھتا ہے، مالک کی صلاحیت پرکھتا ہے، مستقبل کے کیش فلو کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر خطرہ مول لیتا ہے۔ لیکن جب یہی افسر سرکاری قرض سے منافع کماتا رہے تو یہ ہنر مرنے لگتا ہے۔ یوں بینک آہستہ آہستہ بینک نہیں رہتا، وہ برانچوں والا بانڈ فنڈ بن جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان بڑے صنعت کار کو نہیں بلکہ چھوٹے کاروباری کو ہوتا ہے۔ بڑی کمپنی کے پاس زمین بھی ہے، عمارت بھی، آڈٹ شدہ حسابات بھی اور بینک سے مذاکرات کی طاقت بھی۔ چھوٹے دکاندار، ورکشاپ والے، چھوٹی فیکٹری، نوجوان کاروباری اور کسان کے پاس یہ سہولت نہیں۔ وہ رسمی بینکاری سے نکل کر غیر رسمی قرض کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔دیہات میں اس خلا کو آڑھتی پُر کرتا ہے۔ وہ کسان کو بیج دیتا ہے، کھاد دیتا ہے، نقد رقم دیتا ہے اور بدلے میں فصل اپنے ذریعے فروخت کرنے کی شرط لگا دیتا ہے۔ کاغذ پر شاید شرح سود لکھی نہ ہو لیکن قیمت، کمیشن اور خریداری کی شرائط ملا کر کسان بھاری مالی قیمت ادا کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آڑھتی وہاں کیوں موجود ہے؟ کیونکہ بینک وہاں موجود نہیں۔ اسی طرح شہر میں چھوٹا کاروباری دوستوں، خاندان، سپلائر کریڈٹ یا غیر رسمی قرض پر چلتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس معیشت کو سرمایہ سب سے زیادہ درکار ہوتا ہے، سرمایہ اسی تک سب سے مہنگا پہنچتا ہے۔ یہ صرف کاروباری مسئلہ نہیں، روزگار کا مسئلہ بھی ہے۔ بڑی صنعتیں اہم ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں روزگار کا بڑا حصہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار پیدا کرتے ہیں۔ اگر ایک لاکھ چھوٹے کاروباروں کو توسیع کے لیے مناسب قرض ملے اور ہر کاروبار صرف دو اضافی ملازمین رکھ لے تو دو لاکھ ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہی قرض اگر سرکاری کھاتے میں چلا جائے تو بینک کو منافع ضرور ملتا ہے لیکن نئی دکان، نئی مشین اور نئی ملازمت پیدا نہیں ہوتی۔یہاں حکومت بھی ایک عجیب دائرے میں پھنس جاتی ہے۔ حکومت خسارہ پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لیتی ہے۔ بینک حکومت کو قرض دینے کے لیے نجی شعبے سے دور ہوتے ہیں۔ نجی سرمایہ کاری کم ہوتی ہے، معاشی ترقی سست پڑتی ہے، ٹیکس آمدن مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھتی، حکومت کا خسارہ برقرار رہتا ہے اور پھر حکومت مزید قرض لیتی ہے۔ یعنی قرض مزید قرض کو جنم دیتا ہے۔ اس دائرے کو توڑنے کے لیے صرف بینکوں کو تقریریں سنانا کافی نہیں۔ اگر حکومت ایک طرف بینکوں سے کھربوں روپے قرض لے اور دوسری طرف انہیں کہے کہ SMEs کو قرض دو تو بینکار تقریر سن لے گا مگر رقم وہاں رکھے گا جہاں خطرہ کم اور منافع زیادہ ہے۔ اس لیے ترغیب کا معاشی ڈھانچہ بدلنا ہو گا۔سٹیٹ بینک ہر بینک کا سالانہ کریڈٹ سکور کارڈ جاری کر سکتا ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ کس بینک کے ڈیپازٹس کتنے ہیں اور اس نے ان میں سے کتنی رقم نجی شعبے، SMEs، زراعت، خواتین کے کاروبار اور نئے کاروباری افراد کو دی۔ صرف قرض کی مجموعی رقم نہیں بلکہ نئے قرض داروں کی تعداد بھی سامنے آنی چاہیے۔ دوسرا قدم بینک انتظامیہ کی مراعات سے متعلق ہونا چاہیے۔ اگر اعلیٰ انتظامیہ کا پورا بونس صرف منافع سے جڑا ہو گا تو وہ لازماً محفوظ سرکاری منافع تلاش کرے گی۔ بونس کا ایک حصہ حقیقی نجی کریڈٹ، SMEs، زراعت اور نئے قرض دار پیدا کرنے سے منسلک ہونا چاہیے۔ تیسرا قدم سرکاری اداروں کے ڈیپازٹس ہیں۔ حکومت خود اربوں کھربوں روپے بینکوں میں رکھتی ہے۔ یہ رقم ان بینکوں کو ترجیح دے کر کیوں نہ دی جائے جو حقیقی معیشت کو زیادہ قرض دیتے ہیں؟ چوتھا قدم کولیٹرل کے تصور کو بدلنا ہے۔ اکیسویں صدی میں قرض کی ضمانت صرف زمین اور عمارت نہیں ہونی چاہیے۔ مشینری، سٹاک، گودام کی ڈیجیٹل رسید، قابل وصول بل اور بعض صورتوں میں کھڑی فصل بھی قابل قبول ضمانت بن سکتی ہے۔ اور پانچواں قدم فصل بیمہ ہے۔ کسان کو قرض دیتے وقت بینک دراصل صرف کسان کا خطرہ نہیں لیتا، وہ بارش، سیلاب، ژالہ باری اور خشک سالی کا خطرہ بھی لیتا ہے۔ اگر قومی سطح پر قابل اعتماد فصل بیمہ موجود ہو تو یہ خطرہ بینک کی بیلنس شیٹ سے نکل کر انشورنس کے کھاتے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ان تمام اقدامات سے پہلے حکومت کو ایک بنیادی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی: جب تک حکومت خود بینکاری نظام کی سب سے بڑی اور سب سے پُرکشش قرض دار رہے گی، نجی کاروبار بینک کی پہلی ترجیح نہیں بن سکتا۔ معیشت سرکاری بانڈ خریدنے سے نہیں، نئی مشین لگنے سے بڑھتی ہے۔ روزگار ٹریژری بل سے نہیں، نئی فیکٹری، نئی دکان، نئی فصل اور نئے کاروبار سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمارے بینکوں کا کام حکومت کے قرض کی مالی معاونت ہے یا پاکستان کی معیشت کی۔ کیونکہ جس ملک میں بینک محفوظ کاغذ خرید کر امیر ہوتے جائیں اور کاروباری سرمایہ ڈھونڈتے پھریں، وہاں مسئلہ سرمائے کی کمی نہیں ہوتا۔ مسئلہ سرمائے کے راستے کا ہوتا ہے۔ اور پاکستان میں پیسہ موجود ہے، بینک موجود ہیں، کاروباری صلاحیت بھی موجود ہے بس ان تینوں کے درمیان وہ پُل دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جسے ہم کبھی بینکاری کہا کرتے تھے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments