خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں دو ہفتے قبل پٹھان کالونی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ معصوم بچی آیت نور کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک کنویں سے مل گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق معصوم بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کو کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پھیلا ہوا تھا اور علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں صدیق اکبر چوک پر جمع ہو کر احتجاج بھی کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، آیت نور پندرہ روز قبل اپنے گھر کے پاس سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا جس میں بچی کو ایک لڑکے کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کیس میں پولیس نے اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر کی عمریں سولہ سال سے کم ہیں اور وہ اسی کالونی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ دورانِ تفتیش مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بچی کو اغوا کر کے قریبی گراؤنڈ میں لے گئے جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ تاہم، ملزمان نے لاش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ بچی کی لاش ملنے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں آیت نور کے والد نے شدید بے بسی کے عالم میں دردناک اپیل کی تھی۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج 14 دن گزر گئے ہیں اور میں بہت زیادہ پریشان ہوں، اس دوران میں نے انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی داد رسی نہ ہو سکی۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں ایک غریب انسان ہوں، میری مدد کیجیے، اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری بچی کو ڈھونڈ نکالنے میں میری مدد کریں کیونکہ اس پریشانی میں مجھے نیند بھی نہیں آ رہی“۔ واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مظاہرین اور غصے میں بھرے عوام حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حراست میں لیے گئے ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور معصوم کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے تاکہ انہیں جلد از جلد کٹہرے میں لایا جا سکے۔



