پاکستان کی تاریخ میں سیاست دان زیر عتاب رہے ہیں۔ کبھی قید و بند کی صعوبتیں کبھی تختہ دار اور کبھی ملک بدری یہ ایک ناقابلِ فراموش تاریخ ہے۔ تاہم جرائم سیاسی یا سیاست سے منسوب تھے تو راستہ بھی دیا گیا، عدالتوں سے ریلیف بھی ملا اور عوامی حلقوں سے کامیابی کے بعد اقتدار کے ایوانوں کے دروازے بھی کھلے۔ نواز شریف صاحب تین بار کے وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ بدلنے والے لیڈر ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سب سے زیادہ ان بن رہی، اس کی پاداش میں کیا کچھ برداشت نہ کرنا پڑا۔ اپنی محبوب بیگم کو ایام علالت میں لندن کے ہسپتال میں چھوڑ کر عدالت کے نا حق فیصلے پر سر تسلیمِ خم کر کے اپنی بیٹی کے ساتھ وطن واپس آئے جب یہ طے تھا کہ آگے استقبال پھولوں سے نہیں ہتھکڑیوں سے کیا جائے گا اس کے باوجود جرأت مندانہ فیصلہ کیا۔ عمران خان اور فیض حمید کے ہر جبر کو برداشت کیا تاہم اختلافات جمہور کے دائرہ کار میں تھے۔ طیارہ سازش کیس سے پاناما سے اقامہ تک ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتی۔ اصول پر ڈٹے رہے وقت نے ثابت کیا کہ نواز شریف کے خلاف بنایا گیا ہر کیس جعلی اور نا انصافی پر مبنی تھا۔ نواز شریف نے تو سب کچھ برداشت کیا تاہم ریاست یا ریاستی اداروں کو نہ حدف تنقید بنایا اور نہ اغیار کی ایما پر فوج اور فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہوئے، نہ نواز شریف نے بھارت کی آواز میں آواز ملائی اور نہ دیار غیر میں پاکستان کی بدنامی کی۔ نہ نواز شریف نے آئی ایم ایف کو چٹھی لکھی کہ حکومت کو قرض نہ دو نہ امریکہ میں باجوہ اور فیض حمید کے خلاف مہم جوئی کی اور نہ کسی ایسی لابنگ کا حصہ رہے جس سے پاکستان کے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچے۔ نہ ہی نواز شریف کی حمایت میں اسرائیل سے آواز اٹھی۔ یہ بات واضح رہے کہ نواز شریف کو نکالا گیا تھا۔ عدالتی غنڈوں نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ دینے کیلیے پاناما سے اقامہ نکال کر سزا دی تھی۔ تاہم دوسری طرف عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ واحد وزیراعظم تھا جسے آئینی طور پر اسمبلی میں اکثریت کھونے پر قانونی طور پر نا اہل کیا گیا تھا۔ عمران کی نااہلی آئینی راستے سے ہوئی۔ مگر نا اہل عمران خان نے اس کے بعد جو راستہ اپنایا وہ سیاسی یا جمہوری نہ تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھ جاتا اور سیاسی طور پر مقابلہ کرتا مگر عمران خان نے اپنی مقبولیت، فیض حمید کی پشت پناہی اور اغیار کی ایما پر باقاعدہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کی پالیسی اپنائی اور ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے، فوج میں بغاوت اور سول نافرمانی کی ایسی تحریک شروع کی جس سے واضح ہوگیا کہ اس کے عزائم کی نوعیت کیا ہے۔ عدالتی جتھے جس میں “گڈ ٹو سی یو” والے ججز جو اپنی بیگمات اور خوش دامن کی پسند ناپسند پر فیصلے کرتے تھے عمران خان کی مکمل حمایت کی اور سنگین ترین جرائم کے باوجود اسے ایسا ریلیف دیا کہ عدالتی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پھر فیض حمید کا نیٹ ورک، بھارت اور اسرائیل کی حمایت اس سب نے عمران خان کو اتنا فری ہینڈ دے دیا کہ وہ اعلانیہ کہتا تھا کہ اگر مجھے ہاتھ لگایا تو اس سے بھی بھیانک نتائج نکلیں گے کہ خدا نخواستہ پاکستان ہی ٹوٹ جائے گا۔ ان پر ملک کی مختلف عدالتوں میں دہشت گردی، کرپشن، غداری اور توہینِ عدالت جیسے سیکڑوں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ مقدمات کی طویل فہرست میں سب سے اہم توشہ خانہ کیس ہے، جس میں ان پر سرکاری تحائف کو سستے داموں خریدنے اور حقائق چھپا کر فروخت کرنے کا الزام تھا جو ثابت ہوا۔ مزید برآں، القادر ٹرسٹ کیس میں ان پر بحریہ ٹان کو ریلیف دینے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی ٹرسٹ کے نام کرانے کا مبینہ کرپشن کیس چلا اور جرم ثابت ہوا۔ 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے بعد ان پر فوجی تنصیبات پر حملوں اور بغاوت پر اکسانے کے سنگین اور نا قابلِ تردید کیس بھی ہیں۔ عمران خان کو اب تک تین بڑے مقدمات القادر ٹرسٹ کیس، توشہ خانہ ٹو کیس، اور پہلے توشہ خانہ کیس میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جبکہ ماضی کے دیگر دو اہم مقدمات سائفر اور عدت کیس میں انہیں عدالتوں کی طرف سے بریت یا ریلیف مل چکا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس 190 ملین پانڈ کیس سزا کی بات کریں تو احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال قیدِ با مشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جبکہ توشہ خانہ ٹو میں احتساب عدالت نے دسمبر 2025 میں عمران خان کو ان کی اہلیہ سمیت 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ گزشتہ ہفتے سے عدالتی سزا یافتہ مجرم بارے قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ انکی بات ہوگئی ہے۔ جیل کا پھاٹک ٹوٹنے والا ہے، پہلے ہسپتال پھر بنی گالہ اور ممکنہ طور پر وزیراعظم ہاس کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کو للکارتے ہیں جب کہ دوسری طرف پاں بھی پکڑے ہوئے ہیں۔ پھر عدالت کا فیصلہ بھی کچھ ایسا تھا جس نے یک دم بھونچال پیدا کر دیا کہ شاید عمران خان کیلیئے راستے کھل گئے ہیں۔ ہسپتال منتقلی سے جہاں تحریک انصاف کو راحت اور امید ملی وہیں اقتدار میں موجود سیاسی جماعتوں کو قدرے پریشانی کا سامنا بھی رہا اور کچھ حکومتی لوگوں نے اسے نواز شریف کے خلاف پھر سے سازش قرار دیا تاہم ایک بات طے ہے کہ اگر نواز شریف ایک بار فوجی جرنیلوں کا نام لینے کے جرم میں وزیراعظم نہیں بن سکا تو 9 مئی کرنے والے کے جرائم غداری، بغاوت اور سول نافرمانی سے بھی بڑھ کر ہیں۔ فوجی جوانوں اور شہدا کی توہین کرنے والوں کو کبھی معافی نہیں ملے گی۔ فوجی تنصیبات پر حملہ، ایئر فورس کی بیس پر طیاروں کو آگ لگانے اور پھر اعلانیہ بیان دینا کہ اگر اب مجھے پکڑا تو اس سے بھی بُرا حال ہو گا اس سزا یافتہ مجرم کو کیونکر معافی دی جائے گی۔ جو سیاسی سوچ ہی نہ رکھتا ہو جس کے نزدیک ہر مسئلے کا حل بلوائیوں اور جتھوں کی طاقت سے ہی ممکن ہو ریاست ایسے مجرم کو کیونکر چھوڑے گی۔ جو ایٹمی اثاثوں بارے واضح کہہ چکا ہو کہ غیر ضروری ہیں۔ کشمیر بیچ چکا ہو، اسرائیل سے اس بارے مکمل حمایت اور رہائی تحریک چلائی جا رہی ہو، جو طالبان کے نظام کو رائج کرنا چاہتا ہو، جس کے نزدیک اس کا قد ریاست سے بڑا ہے تو ریاست ایسے مجرم کو ایک منٹ کا ریلیف بھی نہیں دے گی۔ میں اپنے کالم میں یہ خبر بھی دیتا جاؤں کہ ہسپتال کی رپورٹ، بہن ڈاکٹر عظمی خان کی طرف سے سزا یافتہ مجرم کو مکمل صحت مند قرار دینا اب ایک نئی سزا کا پیش خیمہ ہے اب 9 مئی سازش، فوج میں بغاوت کرنے، فوجی تنصیبات پر سنگین نوعیت کے حملوں کے جرم میں مجرم کو ”فیلڈ جنرل کورٹ مارشل“ کیس میں فوجی عدالتوں میں پیش کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مجرم عمران خان ولد اکرام اللہ خان کو جلد فوجی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سمیت ادارے کے دیگر آفیسرز بارے تمام شواہد اور گواہیاں آ چکی ہیں۔ اب رہائی تو درکنار شاید بات کسی اور طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ فوجی عدالتوں نے اپنے ملوث تمام رینک کے آفیسرز کو بلا تفریق سزا دی ہے یقینا عمران خان کا جرم ان سے کئی زیادہ اور ماسٹر مائنڈ کا ہے۔ ایک صوبائی یونٹ کا سربراہ بلوائیوں اور جتھوں کی دھمکی دے یا چڑھائی کرے اب فیلڈ جنرل کورٹ مارشل ہو گا۔ اگر وفاق پاکستان ہر حملہ کیا جاتا ہے تو یقینا یہ بھی 9 مئی کا ہی تسلسل ہو گا۔ اب نازک وقت شروع ہو گیا ہے۔ اب ریاست اپنی رٹ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ تمام سیاسی و عسکری سٹیک ہولڈرز ایک پیج بلکہ ایک نقطے پر اکٹھے ہیں کہ پاکستان کی ترقی میں حائل ہر عنصر کو نشان عبرت بنایا جائے گا جو پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہوگا۔ پاکستان کے امن وامان کو سبوتاژ کرنے والوں، ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیلنے والوں، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ، بھارتی حمایت یافتہ فتنوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ تحریک انصاف میں سیاسی سوچ اور سیاسی عمل پر یقین رکھنے والے چند لوگوں کا امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی سیاسی پہچان برقرار رکھ سکیں گے یا پھر کلٹ کا شکار ہوکر سب کچھ کھو دیں گے۔
نہ ڈیل نہ ڈھیل ”فیلڈ جنرل کورٹ مارشل……“
RELATED ARTICLES



