76.4 F
Pakistan
Thursday, August 6, 2026
HomeCrimeامریکا: ہری مرچوں اور سلاد کے پتوں میں خطرناک وائرس کا انکشاف،...

امریکا: ہری مرچوں اور سلاد کے پتوں میں خطرناک وائرس کا انکشاف، کئی ریاستیں متاثر

امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی جانے والی آئس برگ لیٹس اور جلاپینو مرچوں سے پیٹ کے انفیکشنز سے ہزاروں افراد بیمار ہو گئے ہیں، جس کے بعد خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ صحت کے دو مختلف اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان آلودہ سبزیوں سے پھیلنے والی بیماریاں سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا ہیں جن سے ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور متعدد کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان وباؤں کے خطرناک پھیلاؤ کے بعد امریکی صحت کے اداروں ایف ڈی اے اور سی ڈی سی نے اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور ان دونوں صحت کے اداروں کے مطابق سائیکلوسپوریاسس کی تحقیقات اب 15 ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ تازہ شامل ہونے والی ریاستوں میں مسوری، آرکنساس، آئیووا، نیبراسکا، نیو ہیمپشائر اور نارتھ کیرولائنا شامل ہیں۔ صحت حکام کے مطابق اس قدر وسیع پیمانے پر وبا کے پھیلاؤ سے اب تک 6 ہزار 358 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 278 مریض اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والی رپورٹس میں وقت لگتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس وبا کا تعلق میکسیکو کے وسطی علاقے سے درآمد کی گئی آئس برگ لیٹس (سلاد کے پتوں) سے ہے، جو ٹاکو بیل کے بعض ریسٹورنٹس میں استعمال ہوئی تھی۔ بعد ازاں حکام نے میکسیکو میں ٹیلر فارمز کی تنصیبات کو اس لیٹس کا ذریعہ قرار دیا، تاہم دیگر ممکنہ ذرائع کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ سائیکلوسپوریاسس ایک آنتوں کی بیماری ہے جو فضلے سے آلودہ خوراک اور پانی، خصوصاً کچی سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے پھیل سکتی ہے۔ اس کے باعث اسہال، متلی، پیٹ میں درد اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق دیگر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ مشی گن اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے، جہاں کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق وبا سے منسلک دو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں، تاہم دونوں افراد پہلے سے دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔ دوسری جانب امریکی صحت حکام میکسیکو سے درآمد ہونے والی جلاپینو مرچوں سے منسلک سالمونیلا کے پھیلاؤ کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 27 ریاستوں میں 345 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 36 مریضوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس وبا میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایف ڈی اے کے مطابق سالمونیلا کا تعلق میکسیکو کی ریاست سینالوا میں اگائی جانے والی جلاپینو مرچوں سے ہے، جنہیں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے امریکا میں مختلف ریسٹورنٹس کو فراہم کیا گیا تھا۔ کمپنی نے متاثرہ مرچیں واپس منگوانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ صارفین کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ جلاپینو مرچیں چیپوٹلے اور کیوڈوبا سمیت بعض ریسٹورنٹس تک بھی پہنچی تھیں۔ ایف ڈی اے کے مطابق چیپوٹلے نے 20 جولائی سے جلاپینو مرچوں کے سپلائر کو تبدیل کر دیا، جبکہ کیوڈوبا نے 28 جولائی سے ان کا استعمال بند کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بعد ان ریسٹورنٹس سے صارفین کو اس وبا کے حوالے سے کسی موجودہ خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ سالمونیلا انفیکشن عام طور پر اسہال، بخار اور پیٹ میں درد کا باعث بنتا ہے اور یہ بیماری بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں وباؤں کے بعد امریکا میں خوراک کے تحفظ اور درآمدی زرعی مصنوعات کی نگرانی پر توجہ مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صحت حکام کا کہنا ہے کہ دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور بیماریوں کے ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کے لیے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments