74 F
Pakistan
Saturday, August 1, 2026
HomeCrimeنیویارک میں نایاب اور خطرناک وائرس کا پھیلاؤ، نہ کوئی علاج، نہ...

نیویارک میں نایاب اور خطرناک وائرس کا پھیلاؤ، نہ کوئی علاج، نہ کوئی ویکسین

امریکا کی ریاست نیویارک میں پہلی بار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلنے والے نایاب اور ممکنہ طور پر جان لیوا بوربن وائرس کے ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف نہ کوئی ویکسین موجود ہے، نہ اس کی تشخیص کے لیے عام ٹیسٹ دستیاب ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص علاج ہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 67 سالہ مائیکل لارکن نیویارک کے سفوک کاؤنٹی میں کھلے ماحول میں کام کر رہے تھے، جہاں انہیں دو ”لون اسٹار ٹِکس“ نے کاٹا۔ بعد ازاں وہ بوربن وائرس سے متاثر ہو گئے۔ چونکہ اس بیماری کی علامات لائم بیماری سمیت دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں سے بہت ملتی جلتی ہیں، اس لیے ابتدا میں ڈاکٹروں نے انہیں لائم بیماری سمجھ کر اینٹی بایوٹک دوا دی، لیکن اس کا بوربن وائرس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ غلط تشخیص کے باعث وائرس جسم میں پھیلتا گیا اور مائیکل لارکن کو جسم پر سرخ دھبے، تیز بخار، رات کے وقت شدید پسینہ آنے اور ناقابل برداشت سر درد جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پانچ روز تک اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں اب تک کنساس، اوکلاہوما، میسوری اور اب نیویارک سمیت چند ہی ریاستوں میں اس وائرس کے انتہائی کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اوسطاً سال میں ایک سے بھی کم مریض سامنے آتا ہے، جبکہ اب تک تصدیق شدہ مریضوں میں سے دو افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ مائیکل لارکن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لوئس مارکوس نے کہا ہے کہ اب ہم جان چکے ہیں کہ یہ وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ کم از کم لانگ آئی لینڈ میں لون اسٹار ٹِکس کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور سچ کہوں توتو یہ شاید اس بڑے خطرے کا صرف ایک چھوٹا سا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”ہمارے خیال میں ہمارے علاقے میں بوربن وائرس کے کیسز ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تشخیص نہیں ہو رہی۔“ ڈاکٹر لوئس مارکوس کے مطابق، ”اگر ہم کسی انفیکشن کی اصل وجہ ہی معلوم نہ کر سکیں تو درست تشخیصی ٹیسٹ یا مؤثر علاج تیار کرنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں اس وائرس کے حقیقی اثرات کو پہلے اچھی طرح سمجھا جائے۔“ بوربن وائرس پہلی بار 2014 میں امریکی ریاست کنساس کے بوربن کاؤنٹی میں سامنے آیا تھا، جہاں متعدد ٹِکس کے کاٹنے کے بعد ایک شخص پراسرار بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گیا تھا۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ اسی وائرس کا شکار تھا۔ اسی علاقے کے نام پر اس وائرس کو ”بوربن وائرس“ کہا گیا۔ یہ وائرس ”تھوگوٹو وائرسز“نامی گروپ سے تعلق رکھتا ہے، جو انفلوئنزا وائرس سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا بلکہ متاثرہ لون اسٹار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ ان ٹِکس کی پہچان ان کی پشت پر موجود سفید دھبہ ہے، اسی وجہ سے انہیں ”لون اسٹار ٹِک“ کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً جنگلات، اونچی گھاس اور جھاڑیوں والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹِکس زیادہ تر سفید دم والے ہرنوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں پھیلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں ہرنوں کی آبادی بڑھنے اور موسم گرم رہنے کی وجہ سے یہ کیڑے تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس سے اس وائرس کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ قدرتی شکاریوں کی کمی، نسبتاً گرم موسم اور ہلکی سردیوں کی وجہ سے ٹِکس کی تعداد اور ان کا پھیلاؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس وائرس کے مزید کیسز بھی ماضی میں سامنے آئے ہوں، لیکن چونکہ اس کی علامات دیگر ٹِکس سے پھیلنے والی بیماریوں، خصوصاً لائم بیماری، سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، اس لیے بہت سے مریضوں کو دوسری بیماری سمجھ لیا گیا ہو۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات عام طور پر متاثرہ ٹِک کے کاٹنے کے چند دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں تیز بخار، شدید تھکن، کمزوری، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، بھوک نہ لگنا، متلی، قے اور بعض اوقات جسم پر سرخ دھبے یا خارش شامل ہیں۔ شدید حالت میں مریض کے جسم میں سفید خون کے خلیوں اور پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو سکتی ہے، جگر متاثر ہو سکتا ہے، سانس لینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے اور مریض کو اسپتال میں داخل کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بیماری کی تشخیص بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کے لیے عام لیبارٹریوں میں کوئی ٹیسٹ موجود نہیں۔ اس کی جانچ صرف مخصوص سرکاری یا جدید طبی لیبارٹریوں میں کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر ابتدا میں لائم بیماری یا ٹِکس سے پھیلنے والی دیگر عام بیماریوں کا علاج شروع کر دیتے ہیں، اور جب مریض کی حالت بہتر نہیں ہوتی تو پھر بوربن وائرس کا شبہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بوربن وائرس کے خلاف نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے، نہ کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا اور نہ ہی اس کا کوئی معیاری علاج دستیاب ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کی پوری توجہ مریض کی علامات کم کرنے پر ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈرپ لگائی جاتی ہے، بخار اور درد کی ادویات دی جاتی ہیں، جبکہ سانس لینے میں دشواری کی صورت میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے تاکہ جسم خود وائرس کا مقابلہ کر سکے۔ اگرچہ کوئی بھی شخص متاثرہ ٹِک کے کاٹنے سے اس وائرس کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن کھلے میدانوں میں کام کرنے والے افراد، کسان، باغبانی کرنے والے، جنگلات یا گھاس والے علاقوں میں جانے والے افراد، شکاری، عمر رسیدہ افراد اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے لوگوں میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس وائرس کی بروقت شناخت کے لیے بہتر نگرانی، جدید تشخیصی ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چونکہ اس بیماری سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں، اس لیے ماہرین کے نزدیک ٹِکس کے کاٹنے سے بچنا ہی سب سے مؤثر حفاظتی طریقہ ہے۔ باہر جاتے وقت پورے بازو والے کپڑے پہنیں، اونچی گھاس، جھاڑیوں اور جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں، اگر ایسے علاقوں میں جانا ضروری ہو تو راستے کے درمیان چلیں اور کپڑوں پر پرمیتھرین یا منظور شدہ کیڑوں سے بچاؤ کا اسپرے استعمال کریں۔ ماہرین نے مزید ہدایت کی ہے کہ گھاس یا جنگلاتی علاقوں سے واپس آنے کے بعد اپنے جسم، کپڑوں اور سامان کو اچھی طرح چیک کریں، جلد نہائیں اور اگر جسم سے کوئی ٹِک چمٹا ہوا ہو تو اسے باریک چمٹی کی مدد سے احتیاط سے نکال دیں۔ اگر ٹِک کے کاٹنے کے بعد بخار، شدید تھکن، جسم میں درد یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو بغیر کسی تاخیر کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ نوٹ: یہ معلومات صرف عوامی آگاہی کے لیے ہیں۔ کسی بھی بیماری یا علامات کی صورت میں مستند ڈاکٹر یا متعلقہ طبی ماہر سے ضرور مشورہ کریں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments