74.4 F
Pakistan
Friday, July 31, 2026
HomeBreaking Newsمون سون اور اپنا لاہور

مون سون اور اپنا لاہور

لاہور صرف شہر نہیں ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے۔ ایسی تہذیب جس نے بے رحم حملہ آوروں کے قدموں کی چاپ بھی سنی اور اسے جلتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ ہزاروں سال کے ارتقا کا چشم دید بھی ہے اور بزرگان ِ دین کی رواداری کا روشن مینار بھی۔ یہاں کلچر جنم لیتے رہے اور تہذیب کی گود میں اترتے رہے۔ اس کی پہلوانوں سے لے کر اہلِ علم تک تاریخ ہیں، بارہ دروازوں سے نکل کر پنجاب کو اپنی گود میں پالنے والے اس شہر نے نہ جانے کتنی زبانیں، تہذیبیں، کھیل تماشے اور تحریکیں دیکھیں۔ اب یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ محبوبہ ہے، دل دکھا بھی دے تو کوچہ یار چھوڑ کر کون جاتا ہے۔ اس لیے لاہور کو صرف پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہی نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، تعلیم، تجارت اور سیاست کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے جو کسی صورت غلط بھی نہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں شہر کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع، قدرتی نالوں پر تجاوزات، زیر زمین نکاسی آب کے فرسودہ نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث لاہور ہر مون سون میں ایک ہی منظر پیش کرتا ہے۔ صرف چند گھنٹوں کی بارش شہر کو مفلوج کر دیتی ہے، سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، ٹریفک جام ہو جاتی ہے، کاروبار رک جاتا ہے اور شہری کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہوتے ہیں۔ کیا یہ مسئلہ صرف بارش کا ہے تو میں اسے مقامی لاہوریا ہونے کے ناتے کسی صورت ماننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ یہ منصوبہ بندی کا بدترین فقدان ہے۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں اور ممالک نے اپنے شہروں کے اس مسئلے پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔ جاپان کے شہر ٹوکیو نے زیر زمین وسیع سرنگوں اور دیوہیکل آبی ذخائر تعمیر کیے جہاں بارش کا پانی عارضی طور پر جمع کیا جاتا ہے اور بعد میں دریا¶ں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سنگاپور نے بارش کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے قومی اثاثہ بنایا اور اسے ذخیرہ کر کے شہری ضروریات میں استعمال کیا۔ ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم نے سمندر سے نیچے ہونے کے باوجود جدید پمپنگ سٹیشن، حفاظتی پشتوں اور واٹر پلازوں کے ذریعے سیلاب کو قابو میں رکھا، جبکہ کوپن ہیگن نے پارکوں، سبز میدانوں اور مخصوص سڑکوں کو اس انداز سے ڈیزائن کیا کہ شدید بارش کے دوران وہ عارضی آبی گزرگاہ بن جائیں۔ کیا ہم نے کسی سے کچھ بھی نہ سیکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے؟ کیا اندھی تقلید کے بجائے اپنی جغرافیائی اور معاشی ضروریات کے مطابق ایک مربوط منصوبہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا؟ تاکہ اس تاریخی شہر کو ہر مون سون میں غرقاب ہونے سے بچایا جا سکے۔ لوگوں کی عمر بھر کی کمائی اور اولاد ایسے بارشوں کی نذر ہو جاتی ہے جس سے کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔ کوئی کرنٹ لگنے سے مر رہا ہے اور کہیں پوش علاقے میں اپنے گھر کے تہہ خانے سے پانی نکالتا شہری موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ہمیں سارے شہر کا جدید ہائیڈرولوجیکل سروے کرانا پڑے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ پانی کہاں جمع ہوتا ہے، کہاں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور کن علاقوں کو فوری توجہ درکار ہے۔ اس کے بعد شہر کو مختلف ڈرینج زونز میں تقسیم کر کے ہر زون کے لیے الگ منصوبہ تیار کرنا ہو گا۔ اہم قدم زیر زمین نکاسی آب کے مرکزی نظام کی ازسرنو تعمیر ہے تو شاید انگریزوں کے جانے کے بعد آج تک ہمیں حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ دہائیوں پرانے پائپ آج کی آبادی اور بارش کی شدت کو برداشت کرنے کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔ بڑے قطر کے نئے ڈرین، اضافی زیر زمین سرنگیں اور مرکزی نکاسی کے راستے تعمیر کیے جائیں تاکہ پانی گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں نکالا جا سکے۔ بارش کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے محفوظ کرنا چاہیے جس کیلئے لاہور کے بڑے پارکوں، کھیل کے میدانوں اور سرکاری اراضی کے نیچے زیر زمین واٹر ٹینک تعمیر کیے جائیں جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا رہے۔ بعدازاں یہی پانی پارکوں کی آبپاشی، صفائی، صنعتی استعمال اور زیر زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پانی کی قلت میں بھی کمی آئے گی۔ شہر کے تاریخی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر جہاں تجاوزات قائم ہو چکی ہیں، انہیں مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ نالوں کو کنکریٹ کی بند نالیوں کے بجائے ماحول دوست انداز میں بحال کیا جائے تاکہ پانی کی روانی برقرار رہ سکے۔ شہر بھر میں بارش ناپنے والے سینسر، پانی کی سطح جانچنے والے آلات اور خودکار پمپنگ سٹیشن نصب کیے جائیں۔ ایک مرکزی کنٹرول روم مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ پیش گوئی کرے کہ کس علاقے میں پانی جمع ہونے کا امکان ہے اور وہاں بروقت کارروائی عمل میں لائے جائے۔ نئی ہائوسنگ سکیموں، پلازوں اور کمرشل عمارتوں کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ بارش کے پانی کو اپنی حدود میں جذب یا ذخیرہ کریں۔ ہر نئی تعمیر کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ اور واٹر ری چارج سسٹم قانونی شرط ہونا چاہیے۔ کنکریٹ اور اسفالٹ کی جگہ جہاں ممکن ہو پانی جذب کرنے والی سطحیں، سبز پٹیاں، بارشی باغات اور کھلے میدان بنائے جائیں تاکہ بارش کا کچھ حصہ قدرتی طور پر زمین میں جذب ہو جائے۔ واسا، ایل ڈی اے، میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کو ایک مشترکہ کمانڈ سسٹم کے تحت کام کرنا چاہیے تاکہ مختلف اداروں کی ذمہ داریاں آپس میں نہ ٹکرائیں۔عوامی شمولیت کے بغیر کسی بھی حکومتی پروگرام کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر شہری نالوں میں کچرا پھینکتے رہیں گے تو دنیا کا بہترین نظام بھی ناکام ہو جائے گا۔ سکولوں، کالجوں، میڈیا اور سماجی تنظیموں کے ذریعے صفائی اور نکاسی آب کے بارے میں مستقل آگاہی مہم چلائی جائے جبکہ کچرا نالوں میں پھینکنے پر مو¿ثر جرمانے بھی نافذ کیے جائیں۔ جرمانوں کا اثر ہیلمٹ پہنے والوں کی تعداد دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے کہ ہم اخلاق سے سمجھنے کی حدود سے نکل آئے ہیں لیکن جرمانہ عائد کرتے وقت حکومت یہ بھی ذہن میں رکھے کہ وہ شہریوں کو ڈلیور کیا کر رہی ہے تاکہ اُسے شہریوں کی استطاعت کا بھی بخوبی اندازہ ہو سکے۔ ایسے منصوبے سیاسی منصوبہ نہیںہونے چاہئیں جو حکومتوں کی تبدیلی سے ختم ہو جائیں یا پھر اس کی رفتار متاثر ہو۔ پچیس سے تیس سالہ شہری حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ نئی نسل ایک صاف ستھرے اور ڈوبتے ہوئے لاہور میں آنکھ ہی نہ کھولے اور اپنے شہرکی حفاظت کر سکے۔ اس کے لیے ایک خودمختار ”لاہور اربن واٹر اتھارٹی“ قائم کی جا سکتی ہے جو منصوبہ بندی، نگرانی اور احتساب کی ذمہ دار ہو۔اگر یہ اقدامات مرحلہ وار نافذ کیے جائیں تو لاہور ہر سال بارش کے بعد بحران کا شکار ہونے کے بجائے ایک جدید، محفوظ اور ماحول دوست شہر بن سکتا ہے۔ نکاسی آب محض نالیاں بنانے کا نام نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، ماحولیات، ٹیکنالوجی، قانون اور عوامی شعور کا مشترکہ نظام ہے۔ دنیا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیلاب قسمت نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو لاہور کو ہر مون سون کے خوف سے نکال کر ایک محفوظ، پائیدار اور جدید عالمی شہر بنا سکتا ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments