’جنتر منتر کا کال کلنتر، بڑھیا لارالائی کی چھومنتر بھئی چھومنتر‘ شاید دیوندر ستیارتھی کے افسانے کی سطر ہے مگر ہم نے اپنے بچپن میں جب سکول کے سٹیج پہ جادو کا کوئی سین دکھانا ہوتا تھا تو یہ ہی بولتے تھے۔ سننے والے (جن کے ابھی خود بھی دودھ کے دانت ٹوٹ رہے ہوتے تھے) اس جادوئی منتر سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ ہلتی میزوں کے اس سٹیج پہ جو کچھ چل رہا ہوتا تھا اسے سچ مان لیتے تھے، حالانکہ وہ سب تو ڈراما تھا، جو ہمیں بہلانے کے لیے کرنے دیا جاتا تھا۔ وقت گزرا اور زندگی کی سٹیج پہ چھو منتر بھئی چھو منتر کرتے کرتے اس جگہ آ گئے کہ آج ہمارے سامنے ایک نسل جوان ہو گئی۔ ہمارے ہی بچے جنہیں جنریشن زی کہا گیا۔ ان بچوں کو، چاہے وہ کسی بھی خطے میں ہوں جو دنیا ملی، وہ ایک کھوکھلی اور منافق دنیا تھی۔ بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلی، جنگ، سماجی ناانصافی اور اقربا پروری کی یہ دنیا انہیں پسند نہیں آئی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ نیپال، بنگلہ دیش اور اب انڈیا میں بھی یہ جنریشن زی، کاکروچ جنتا پارٹی بن کے اپنے اپنے سیل فونز اور آئی پیڈز چھوڑ کے جنتر منتر پہ آئی اور لارالائی کی بڑھیا چھو منتر ہوگئی۔ 10 ستمبر 2025 کو کھٹمنڈو میں جلی ہوئی پارلیمنٹ کی عمارت کی دیواروں پر حکومت مخالف نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ اس احتجاج کی قیادت نوجوان نسل نے کی (انوپ اوجھا / اے ایف پی) مگر کیا یہ سچ میں ہوا؟ کیا اس ایک استعفے سے سب کچھ بدل جائے گا؟ انڈیا کی بات چھوڑیے، پاکستان کی طرف آیئے۔ تعلیم، علاج، پیٹرول، رہائش، گروسری، یوٹیلیٹی بلز، یہ وہ بوجھ ہیں جو بہر صورت ایک فارغ التحصیل شخص کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ کیا ہم نے اپنی پالیسیوں کو ایسے مرتب کیا ہے کہ یہ نئی نسل، ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ایک اچھی زندگی گزار سکے؟ نہیں بھیا۔ ہمارے ہاں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور اگر قسمت یاوری کرے، تو ان تعلیم یافتہ بچوں کو پردیس کاٹنے کے لیے بن باس دے دیا جاتا ہے۔ اور جو سیدھے راستوں سے تڑی پار نہیں ہوسکتے، انہیں ڈنکی لگا کے موت یا روٹی میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جو بچے پاکستان میں رہ جاتے ہیں انہیں ایک غیر یقینی زندگی ملتی ہے۔ آج میڈیا میں نوکری مل رہی ہے، کل ڈاؤن سائزنگ ہو گئی۔ آج سافٹ ویئر کی گڈی چڑھی ہوئی ہے، کل ڈگری تھڑے پہ بکے گی۔ کاروبار کی بھی سن لیجیے، زراعت کے شعبے میں پاؤں رکھتے ہیں تو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ سیاسی حالات اچانک کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں اور زرعی برآمدات ایک دم صفر ہو جاتی ہیں۔ دیگر شعبوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ نہ کوئی دیرپا پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ۔ ڈنگ ٹپاؤ فلسفے نے نظریہ ضرورت سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور سارا سفر دائرے ہی میں ہے۔ یہ تو ہوئے روزگار کے حالات، سماجی طور پہ ان بچوں کو جو تصویر پچھلی نسل نے دکھائی اس نے انہیں رشتوں سے بھی برگشتہ کر دیا۔ میں ایک نجی یونیورسٹی کے فائنل پراجیکٹس اپروو کرنے گئی تو 30 میں سے 24 کہانیاں ٹوٹے ہوئے رشتوں اور سنگل ماؤں کی کہانیاں تھیں، جن میں باپ شدید زہریلے تھے۔ یہ کہانیاں ان کی اپنی تھیں، ان کی دیکھی بھالی اور برتی ہوئی۔ بچے تو گنبد کی بازگشت ہوتے ہیں۔ جو سنا، وہی دہرا دیا۔ جو دیکھا اس کا عکس دکھا دیا۔ ہمارے بچے بولتے نہیں، دیگر ملکوں کے بچوں کی طرح سوال نہیں کرتے۔ باہر نہیں نکلتے، گریبان نہیں پکڑتے۔ اپنے گھروں میں دیکھیے، موٹے موٹے چشموں کے پیچھے چھپی یہ ذہین آنکھیں، سارا دن سکرین پہ کیا تلاش کرتی ہیں؟ کن آوازوں سے بچنے کے لیے ہیڈ فونز لگا کر بیٹھے رہتے ہیں؟ ہمارے پکائے ہوئے کھانے رد کر کے بازار کے کھانے کیوں کھاتے ہیں؟ ہماری جنریشن زی باقی دنیا سے مختلف کیوں ہے؟ کس چیز نے ان کو سہما رکھا ہے؟ سوچتے رہیے اور دہلی میں جنتر منتر پہ ہونے والے چھومنتر پہ غور کرتے رہیے۔ بدترین جمہوری نظام بھی بہترین ہائبرڈ نظام سے بہتر ہوتے ہیں۔ جنتر منتر کال کلنتر بڑھیا لارالائی کی چھومنتر بھئی چھومنتر نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ انڈیا نئی دہلی طلبہ احتجاج ہمارے بچے بولتے نہیں، دیگر ملکوں کے بچوں کی طرح سوال نہیں کرتے۔ باہر نہیں نکلتے، گریبان نہیں پکڑتے۔ اپنے گھروں میں دیکھیے، موٹے موٹے چشموں کے پیچھے چھپی یہ ذہین آنکھیں، سارا دن سکرین پہ کیا تلاش کرتی ہیں؟ آمنہ مفتی جمعہ, جولائی 31, 2026 – 06: 45 Main image:
ہماری جنریشن زی باقی دنیا سے مختلف کیوں ہے؟ کس چیز نے ان کو سہما رکھا ہے؟ (اینواتو)
نقطۂ نظر type: news related nodes: جنتر منتر پر کشمیر احتجاج نہیں ہوا جنتر منتر پر نعرہ کشمیر پاکستان میں ہندو مذہبی کتابیں اور جنتریاں چھپتی کہاں ہیں؟ کاکروچ جنتا پارٹی اور بدلتا انڈیا SEO Title: چھومنتر بھئی چھومنتر copyright: show related homepage: Hide from Homepage



