مصنف: صادق حسینقسط: 34اب ایک طویل مدت کے بعد آناً فاناً پرویز نے ششی کو طوائف کے روپ میں دیکھا تھا وہ کافی بدل چکی تھی، اس کا نام بھی بدل چکا تھا اب وہ الماس تھی جس کی آواز بکتی تھی جس کی مسکراہٹ محفلوں کو گرماتی تھی، جس کی اداؤں کے چرچے ہوتے تھے اجشاہی والی ششی مر چکی تھی۔
وہ کافی بدل چکی تھی، اس کا نام بھی بدل چکا تھا، وہ پھر جمود کی دنیا میں آ گیا، ذہن کے صحرا میں خیالات کے قافلے دوڑ رہے تھے، اب وہ سری نگر پہنچا
RELATED ARTICLES



