72.8 F
Pakistan
Sunday, July 26, 2026
HomeBreaking Newsایران امریکا جنگ بندی اور چیٹ جی پی ٹی

ایران امریکا جنگ بندی اور چیٹ جی پی ٹی

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ دوبارہ جاری ہے ۔امریکا نے بارھویں روز بھی ایران پر حملے کیے اور ایران نے جوابی وار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں خلیجی ممالک پر حملے کیے ۔پاکستان کی کوششوں سے یہ خطہ جنگ سے محفوظ رہ گیا تھا لیکن اسی وقت ہم نے کہا تھا کہ اس جنگ بندی کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں اس لیے دوبارہ شرارتیں ہوسکتی ہیں اور پھر اب ایسا ہی ہورہا ہے ۔ اسلام آباد ایم او یو ،جس کے تحت دوماہ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے تھے اور مذاکرات کو ایک مکمل امن معاہدے میں بدلنا تھا وہ نہیں ہوا ۔دوبارہ جنگ کا مطلب پھر وہی ہے کہ دنیا میں توانائی کا بحران اور پاکستان میں پٹرول مسلسل مہنگا جو کہ اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگا ہورہا ہے۔وہ ستر روپے جس کی کمی وزیراعظم شہبازشریف نے ایک ہی وقت میں کردی ہے وہ کمی اب اضافے کی صورت دوبارہ عوام پر مسلسل ڈالی جارہی ہے ۔ایک بات طے ہے کہ مہنگے پٹرول سے ہماری نجات صرف جنگ کے خاتمے میں ہی ہے کیونکہ حکومت بہت بھی کرے تو تیل خرید کر پاکستا ن لاسکے گی تاکہ ہمارے ہاں تیل کا بحران پیدا نہ ہو لیکن قیمتو ں پر اس کا کوئی کنٹرول ممکن نہیں ہے ۔پہلے بھی حکومت کی اتنی مہربانی کہ اس نے ہماری گاڑیوں کے ٹینک خشک نہیں ہونے دیے تھے وہ اب بھی یہی کوشش کررہی ہے ۔اب اس جنگ سے مستقل نجات کیسے ہوسکتی ہے ۔ میں اپنی رائے اور ایک قابل عمل تجویز آخر میں دوں گا لیکن پہلے جو میں نے آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی سے دریافت کیا کہ اس کے نزدیک اس جنگ کے خاتمے کے لیے قابل عمل تجاویز کیا ہوسکتی ہیں تو چیٹ جی پی ٹی نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں آپ بھی یہ تجاویز پڑھیں پھر بات کرتے ہیں ۔فوری جنگ بندی: ایران اور امریکہ فوری طور پر سب سے پہلے جنگ بندی پر متفق ہوں اور اقوام متحدہ اس پر عمل درآمد کی نگرانی کرے۔ پاکستان کی ثالثی: پاکستان، جو دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے، غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر بھی رہا اور مستقبل میں بھی کرسکتا ہے۔پاکستان اپنے سفارتی روابط استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ غیر جانبدار ملک میں مذاکرات: مذاکرات پاکستان، عمان، قطر یا سوئٹزرلینڈ جیسے امن پسند ممالک میں منعقد کیے جائیں تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو۔ اعتماد سازی کے اقدامات: قیدیوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی فراہمی اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جائے۔جوہری مسئلے کا سفارتی حل: ایران اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی قبول کرے جبکہ امریکہ مرحلہ وار پابندیاں نرم کرے۔پاکستان کا علاقائی کردار: پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقوام متحدہ میں فعال سفارتی کردار ادا کرے۔پاکستان چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن مذاکرات کی حمایت کرے۔انسانی امداد: پاکستان متاثرہ افراد کے لیے طبی امداد، ادویات اور انسانی امدادی سامان فراہم کرے اور بین الاقوامی امدادی کوششوں میں حصہ لے۔خطے میں امن و استحکام: پاکستان تمام فریقوں پر زور دے کہ اختلافات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تلاش کیا جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم ہو۔مسلسل سفارتی رابطہ: دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل ہاٹ لائن اور ہنگامی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کو فوری طور پر دور کیا جا سکے۔ نتیجہ: اگر دونوں ممالک فوجی طاقت کے بجائے سفارت کاری، مرحلہ وار اعتماد سازی، جوہری مسئلے کے متوازن حل اور علاقائی تعاون پر توجہ دیں تو پائیدار امن کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی متعدد ممالک اور ثالث جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ ابھی تک مستقل معاہدہ طے نہیں ہو سکا۔پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے۔ اپنی متوازن خارجہ پالیسی، مسلم دنیا میں مقام اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات کی بدولت پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور خطے میں دیرپا امن کے قیام میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔چیٹ جی پی ٹی کے نزدیک یہ تجاویز قابل عمل حل ہیں ۔لیکن جو کچھ بھی اس نے لکھا ہے وہ انتہائی سطحی اور عامیانہ سا ہے اور یہ سارے آپشنز استعمال کیے جاچکے ہیں ۔چیٹ جی پی ٹی نے اصل فساد کی جڑآبنائے ہرمز کا ذکر تک نہیں کیا حالانکہ موجودہ لڑائی شروع ہی وہیں سے ہوئی ہے تو میرے نزدیک ایک قابل عمل تجویز یہ ہوسکتی ہے کہ ایران اور امریکا دونوں آبنائے ہرمز کے سے باہر نکل کر اس کا کنٹرو ل اس وقت تک پاکستان یا دوسرے ثالث کی نگرانی میں دے دیں جب تک مذاکرات مکمل نہیں ہوجاتے ۔دونوں ملک مکمل مذاکرات کریں اوراس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی ثالثوں کے پاس ہو تاکہ تیل کے جہاز بلاروک ٹوک آبنائے ہرمز سے گزرتے رہیں ۔ایران اور امریکا کے درمیان معاہد ہ ہوجائے تو طے شدہ معاہدے کے مطابق کنٹرول ایران اور عمان کو دے دیا جائے ۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہے کیونکہ اس کو ڈر پیدا ہوگیا ہے کہ یہ وہ ہتھیار ہے جس سے وہ دنیا کا گلا دبا سکتا ہے ۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ کب تک دنیا کاگلا دبایا جاسکتا ہے یا دنیا اس کی اجازت کب تک دے گی یا پھر متبادل راستے بنالے گی ۔اس وقت تک ایران اسی راستے کو بلیک میلنگ کے لیے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اس لیے مذاکرات کی کامیابی کے لیے آبنائے ہرمز کا کنٹرو ل اور امریکی ناکہ بندی کا مسئلہ حل کرنا ناگزیر ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے جب اس کا کنٹرول ثالثو ں کے حوالے کرکے مذاکرات کیے جائیں ۔ یہ میری تجویز ہے چیٹ جی پی ٹی کے وہم وگمان میں بھی ایسی کوئی قابل عمل تجویز نہیں ہے ۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments