امریکا اور اسرائیل کی فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اقتصادی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ خام تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ عالمی سپلائی کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی منڈیوں سے اچانک کٹ گیا تھا۔ تاہم، ماہرین کی یہ پیش گوئی ابھی تک سچ ثابت نہیں ہوسکی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں 126 ڈالر کی اعلیٰ ترین سطح پر ہی پہنچ سکی ہیں، جو کہ سال 2008 کی تاریخی بلندی 147 ڈالر فی بیرل سے کافی کم ہے، جبکہ 28 فروری سے 11 جون کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملے معطل کیے جانے تک تیل کی اوسط قیمت 101 ڈالر فی بیرل رہی، اور جولائی کے اوائل میں یہ کچھ عرصے کے لیے جنگ سے پہلے کی 70 ڈالر کی سطح پر واپس بھی آ گئی تھی۔ اس تحریر میں ان بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کی وجہ سے تیل کی قیمتیں توقعات کے برعکس قابو میں رہیں۔ قیمتیں نہ بڑھنے کی سب سے بڑی حیران کن وجہ دنیا میں تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک چین رہا، جس نے جون تک خام تیل کی درآمدات کو پچھلی ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا۔ چین میں ایندھن کی برآمدات کو محدود کیا گیا، وہاں کی عوام نے ذاتی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک ٹیکسیوں کا استعمال شروع کر دیا اور پیٹرو کیمیکل شعبے نے بھی پیداوار گھٹا دی۔ بشکریہ رائٹرز دوسری جانب دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کنندہ ملک امریکا نے اپریل تک اپنی پیداوار کو 13. 93 ملین بیرل روزانہ کے ریکارڈ پر پہنچا دیا، جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے تحت امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل جاری کیا گیا جس نے عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے جھٹکے کو سنبھالنے میں مدد دی۔ بشکریہ رائٹرز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن معاہدوں اور آبنائے ہرمز سے تیل کی بحالی کے متواتر بیانات نے بھی مارکیٹ کے ان سرمایہ کاروں کے اندازوں کو غلط ثابت کیا جو قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ مارکیٹ کی اچانک تبدیلیوں کے ڈر سے تاجروں نے بڑے پیمانے پر بولی لگانے سے احتیاط برتی۔ رائٹرز کے مطابق، آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے الیا بوچوئوف نے مارکیٹ کی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس وقت ہر کوئی مارکیٹ میں تیزی کی توقع تو رکھتا ہے، لیکن طویل المدتی خطرہ مول لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے“۔ سیکسو بینک میں کموڈٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے بھی کہا کہ مارکیٹ کی تازہ ترین خبروں پر ردِعمل کی صلاحیت سست ہو چکی ہے، جس کے باعث نئی سنسنی خیز خبروں کا قیمتوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا۔ بشکریہ رائٹرز اس کے علاوہ خلیجی خطے کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک سعودی عرب نے اپنی بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ سے تیل کی منتقلی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نقصان کا ازالہ کرنے میں مدد ملی۔ اگرچہ جولائی میں دوبارہ لڑائی کے باعث ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کم ہوئی، لیکن جون میں یہ سلسلہ عارضی طور پر بحال ہونے سے بھی تشویش میں کمی آئی تھی۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں فوری استعمال کے لیے خام تیل کی وافر مقدار موجود ہے۔ اس حوالے سے تجربہ کار تاجر عدی امسیرووک نے رائٹرز کو بتایا کہ ”اس وقت فوری دستیابی کے لیے خام تیل کی وافر مقدار مارکیٹ میں موجود ہے، تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں بھی رہ سکتی“۔



