شمالی علاقہ جات ہم سب اس لیے جاتے ہیں کہ تھوڑی دیر شہر سے دور پرفضا مقام پر کچھ وقت اپنے ساتھ تنہا گزاریں۔ پہاڑ دیکھیں، ٹراوٹ کھائیں، جھیلوں و دریاؤں کے کنارے بیٹھیں، خود کلامی کریں اور قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔ پر وہاں جانا آسان نہیں۔ راستہ طویل ہے اور دشوارگزار بھی ہے۔ ہمت والے اور سیاحت کے شوقین ہی وہاں جاسکتے ہیں۔ پر اس بار کا منظر تو بظاہر کچھ الگ ہی تھا۔ لوگ تو ناران کاغان ایسے آنا شروع ہوگئے ہیں جیسے ایک زمانے میں مری کے مال روڈ آیا کرتے تھے۔ گاڑیاں، کوسٹر، منی بس، بائکس اور چھوٹے ٹرک تک یہاں موجود تھے۔ شور، ٹریفک کا دھواں اور رش مجھے پریشان کر رہے تھے۔ کچھ زندہ دل لوگ تو اس کو بھی انجوائے کر رہے تھے۔ ٹولیاں بنا کر ہنس گا رہے تھے۔ کچھ چٹائی لگا کر وہیں ہی پکنک منا رہے تھے۔ میں نے اور فیملی نے فیصلہ کیا ہم ناران میں قیام نہیں کریں گے لہذا ہم بٹہ کنڈی کی طرف چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر سفر کی طویل تھکان دور ہوئی۔ ہمارا ہوٹل بہت آرام دہ اور جدید تھا۔ وہاں پر تین چار پرائیوٹ وینچر ہیں جوکہ بہت جدید اور سہولیات سے بھرپور ہیں۔ سامنے وادیاں پہاڑ اور دریا آنکھوں کو تسکین دے رہے تھے۔ خاموشی اور قدرت ایک رومانوی سا نظارہ دے رہے تھے۔ مجھے بطور سیاح ایسی ہی جگہیں پسند ہیں۔ تاہم کچھ سیاح رش والے بازار، بوٹنگ، مرغن کھانے کھا کر اور زپ لائن کرکے خوش ہوتے ہیں۔ پر میرے جیسے سیاح شہر کی افراتفری سے دور پہاڑوں میں سکون ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ جنگل میں مجھے پرندوں کی تصاویر مل جائیں، میں ان کی آواز سن سکوں اور ان کی پرواز دیکھ سکوں۔ بارش انجوائے کرو، چائے پیو اور قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو۔ جن لوگوں کو ہلا گلا پسند ہے وہ ناران میں رافٹنگ کریں، گھڑ سواری کریں، زپ لائن کریں، کچے پکے راستے پر جھیل سیف الملوک دیکھیں، ناران بازار جائیں۔ سڑک کنارے پکوڑے کھائیں اور گرما گرم چائے پییں۔ جو میرے جیسے ہیں وہ تھوڑا آگے نکل کر بٹہ کنڈی، لالہ زار میڈوز، بڑوئی، بیسل، لولو سر اور دودی پت سر جائیں۔ یہ جگہیں کافی پرسکون ہیں، آپ دریا کنارے بھی بیٹھ سکتے ہیں، ہائکنگ اور کیمپنگ بھی کرسکتے ہیں۔ ان علاقوں میں موسم ٹھنڈا ہے اور رش کم ہے۔ بہت عرصے بعد مجھے سب کچھ بہت اچھا لگا۔ ٹھنڈی ہوا، سکون، کوئی شور نہیں۔ درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ، ہوا کی آواز اور بادلوں کی گھن گھرج اور تیز بارش بہت اچھی لگ رہی تھی۔ میں نے ناران کاغان میں لان پہن رکھی تھی لیکن بٹہ کنڈی میں سویٹر اور شال کی ضرورت پڑی۔ میں نے سفر کے لیے کیپ، سویٹر، ٹوپی، موزے اور دستانے بھی رکھے تھے لیکن ان کی ضرورت کم ہی پڑی۔ میں نے زیادہ تر لان اور سینڈل پر اکتفا کیا۔ جب ایک دو بار بارش کی وجہ سے میں اپنے گرم کپڑے استعمال کیے تو دل کو تھوڑی تسلی ہوئی کہ چلو اتنی پیکنگ ضائع نہیں گئی۔ IMG_6397. jpeg جب بٹہ کنڈی سے آگے سفر شروع کیا تو لولوسر تک سورج آب وتاب سے چمک رہا تھا۔ میں امید کرتی رہی کہ شاید بادل آجائیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بابوسر پر بھی موسم گرم تھا۔ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں ہمیشہ موسم سرد ہوتا تھا۔ پر اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں بھی درجہ حرارت زیادہ ہوگیا ہے۔ ہر طرف سیاحوں کا پھیلایا ہوا کچرا پڑا ہوا تھا۔ جہاں میں نے کھڑے ہوکر پہاڑوں کی حسین تصاویر لیں وہاں میرے پاوں تلے انسانوں کا پھیلایا ہوا کچرہ پڑا تھا۔ میں نے ایک ویڈیو پوسٹ کی کہ نظارہ دیکھیں کتنا اعلی ہے کیونکہ ان پہاڑوں تک سیاحوں کا جانا ناممکن ہے لیکن جہاں کھڑے ہوکر میں تصویر لے رہی ہوں وہاں بدبو اور کچرہ ہے۔ بوتل، تھیلیاں، رئیپر، ڈائپر سارے بابوسر بازار میں پھیلے ہوئے تھے۔ بابو سر بازار کی حالت بھی بہت خستہ ہے۔ وہاں قدرتی گیس نہیں ہے سب کام سیلنڈز پر ہوتا ہے۔ ایک دوکان دار دو سیلنڈز کو رول کرتا ہوا لے جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا بھائی خالی ہے نہ تو ہنسنے لگ گیا اور دوکان کی طرف اشارہ کیا کہ پیچھے کوئی اور پچاس مزید سیلنڈر پڑے تھے۔ مجھے اپنا گلا خشک ہوتا محسوس ہوا تو اس نے میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے کہا کہ باجی سب خالی ہیں۔ ’گیس یہاں ہے نہیں تو ہم سب سیلنڈر ہی استعمال کرتے ہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کاش کہ اس بازار کو کوئی دھو کر صاف کرے، یہاں سے کچرہ ہٹائے اور کوئی اچھی تعمیر ہو۔ بابو سر پر گندگی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ ایک زپ لائن لگائی ہوئی ہے جو سیاحوں کی واحد تفریح ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے سٹال ہیں اور مہنگی اشیائے خوردونوش اور آپ کا بٹوہ۔ بابوسر ٹاپ جب میں دو سال پہلے گئی تھی تو جولائی میں وہاں سردی تھی آج جب 2026 میں گئی تو بہت گرمی تھی۔ یہ موسمیاتی تبدیلی دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ پھر گندگی آلودگی یہاں بھی پہنچ گئی ہے تو ہم اپنے قدرتی اثاثوں کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں۔ دل بہت خفا ہوا کہ انتظامیہ، حکومت اور سیاح سب اس بربادی میں برابر کے شریک ہیں۔ میں جب لولوسر جھیل پہنچی تو یہ جگہ پرسکون تھی کیونکہ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی ہوٹل، بوٹنگ اور تفریح کی سہولت نہیں ہے۔ اس لیے یہ جگہ صاف ہے۔ لیکن یہاں پر گداگر موجود ہیں۔ جہاں جہاں چشمے آتے ہیں وہاں خاص کر بہت گداگر ہیں جو ایک دم گاڑی کے سامنے آجاتے ہیں۔ ان میں بچے اور خواتین زیادہ تھے۔ اس کا تدارک ضروری ہے۔ وہاں کے لوگ بہت محنت کش ہیں اور میزبانی کرکے کماتے ہیں۔ گداگر گروپ کی صورت میں سرگرم تھے اور سیاحوں کو تنگ کر رہے تھے۔ مجھے وہ مقامی بھی نہیں لگ رہے تھے۔ اگر ان علاقوں میں مکمل بجلی آجائے، گیس آجائے، 24 گھنٹے انٹرنیٹ دستیاب ہو تو یہ علاقے یورپ سے کم نہیں ہیں۔ یہاں کے لوگ خوش اخلاق ہیں یہاں امن ہے۔ سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگ بہت اچھا سلوک اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہاں سہولیات میں اضافہ ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔ ایک اور جگہ جہاں سب سیاحوں کو جانا چاہیے وہ ہے ناران میں رافٹنگ پوائنٹ۔ ادھر موجود نوجوانوں پر مشتمل عملہ مکمل نگرانی میں رافٹنگ کرواتا ہے۔ لائف جیکٹس، ہیلمٹ سیاحوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ سیاحوں کی فوٹوگرافی کے لیے فوٹوگرافرز اور ڈرون کی سہولت بھی موجود ہے۔ یوں سیاحوں کے یادگار لمحات آسانی سے قید ہوجاتے ہیں۔ رافٹ کرتے ہوئے اپنا فون نکالنا بےوقوفی ہے کیونکہ ایک بار یہ گرا تو دریا کی لہریں اس کو پلک چھپکتے ہوئے غائب کر دیں گی۔ اس لیے زیادہ تر لوگ مقامی فوٹوگرافر اور ویڈیو گرافر کی مدد لیتے ہیں۔ یہاں پر ٹراوٹ بھی ضرور کھائیں روڈ سائیڈ ہوٹل والے اس ہی وقت پکڑ کر تازہ مچھلی آپ کے سامنے تیار کرتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں جاتے ہوئے کچھ چیزیں یاد رکھیں۔ آپ کی گاڑی ٹھیک ہونا چاہیے جو زیادہ دھواں نہ چھوڑے، پیٹرول کا ٹینک فل ہو، کیش ہو، پانی ہو، کچھ خشک خوراک بھی ہو۔ ویسے تو سیاحتی مقامات پر ہر سہولت ہوتی ہے لیکن جہاں ایک سے دوسری جگہ پر راستہ طویل ہو وہاں پر سہولیات نہیں ہوتیں۔ ہینڈ سیناٹائزر، دھوپ کا چشمہ اور سن بلاک رکھیں کیونکہ دھوپ بہت تیز ہے۔ بہت سے لوگوں کو ماونٹن سکنس ہوتی ہے۔ اس کے لیے بھی دوائی ساتھ رکھیں۔ دوران سفر مرغن کھانا نہ کھائیں۔ احتیاط سے گاڑی چلائیں جان ہے تو جہان ہے۔ ایک بار زندگی میں ان علاقوں میں ضرور جائیں آپ کو بہت اچھا محسوس ہوگا۔ شمالی علاقہ جات سیاحت کچرا گرمی گندگی آلودگی یہاں بھی پہنچ گئی ہے تو ہم اپنے قدرتی اثاثوں کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں۔ دل بہت خفا ہوا کہ انتظامیہ، حکومت اور سیاح سب اس بربادی میں برابر کے شریک ہیں۔ جویریہ صدیق جمعرات, جولائی 16, 2026 – 06: 45 Main image:
بابوسر ٹاپ سے برف پوش چوٹیوں کا نظارہ اور کچرا (تصویر: جویریہ صدیق)
ماحولیات type: news related nodes: پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیلاب الرٹ جاری احتجاج، انڈیا سے جنگ، کشمیر کی سیاحت تیسرے سال بھی متاثر سیاحت میں لاحق خطرات اور ان کا حل شندور: فطرت کا تاج یا ہماری بےحسی کا مقتل؟ SEO Title: سکون کی تلاش، لیکن کچرے اور گداگروں کا غلبہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



