مصنف: صادق حسینقسط: 2 2پروفیسر ربیکا چُپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ اداس لہجے میں بولی ”آج گھانا میں مائیں بچوں کو لوریاں دیتی ہیں۔میرے بچے جوان ہو کراپنے آبا کی بپتا سن کرمشتعل نہ ہوناہر گز نہ روناچیرہ دست چلے گئےخاک کے پیوند ہوئےآج کے سفیدفامرحمدل انسان ہیں دوست مہربان ہیں مجھ قدم بوس دھرتی کو بولنے کی اجازت ہوتی تو کہتی، اے لوگو، تم نے انسانوں کو سیاہ، سفید اور زرد طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مجھ میں تو مساوات کا راج ہے۔ اپنے ماہر ارضیات سے پوچھو، مجھ میں کتنی تہذیبیں دفن ہیں میرے وجود پر خدا کے رسل کے مزارات ہیں۔ میں دُعا کرتی ہوں کہ یہ میری بخشش کا باعث ہو۔میرے اندر انسانوں، جانوروں، درندوں، پرندوں کے انجر پنجر گڈمڈ پڑے ہیں۔ یہاں انسانوں کی ایسی کھوپڑیاں دیکھو گے جن میں انسانوں کے متکبر دماغ بستے تھے۔ میری مٹی میں دفن انسانوں کی شکستہ اور سالم پسلیاں دیکھو۔ کبھی وہ زندہ اور صحت مند ہوا کرتی تھیں۔ اُن کی اوٹ میں متحرک دل ہوا کرتے تھے جو تمام جسم کو خون پہنچایا کرتے تھے۔ خون زندگی ہے۔ ضائع ہو جائے تو موت۔ اس کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو جینا محال کر دے۔ کم ہو جائے تو انسان ٹھوکریں کھاتا پھرے۔میری مٹی میں دفن یہ لوگ جب زندہ تھے تو اکثر کہا کرتے تھے ”دل زندہ ہے تو انسان زندہ ہے دل مر جائے تو انسان جیتے جی مر جاتا ہے“ میں دیکھ رہی ہوں کہ اس دور میں بیشتر لوگوں کے دل مر گئے ہیں مگر وہ جی رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ جینا بھی کوئی جینا ہے۔(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کراچی سے ملک بھر میں اجناس کی سپلائی معطل، ہول سیل مارکیٹوں میں مکمل ہڑتال
مجھ قدم بوس دھرتی کو بولنے کی اجازت ہوتی تو کہتی، اے لوگو، تم نے انسانوں کو سیاہ، سفید اور زرد طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مجھ میں تو مساوات کا راج ہے
RELATED ARTICLES



