بولی ووڈ سپر اسٹار عامر خان نے اپنے اوپر لگائے جانے والے ’لو جہاد‘ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کسی بھی شادی میں مذہب کی تبدیلی شامل نہیں رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے ہمیشہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو قبول کیا ہے اور یہی ان کی خاندانی روایت بھی ہے۔ عامر خان نے 5 جولائی کو ممبئی میں اپنی پرانی دوست گوری اسپرٹ کے ساتھ ایک سادہ اور نجی تقریب میں شادی کی تھی۔ اس شادی کے بعد سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے انہیں ’لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر‘ قرار دیا گیا، جس پر اداکار نے پہلی بار کھل کر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں عامر خان نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’حقیقت یہ ہے کہ ہمارا خاندان بہت کشادہ دل ہے۔ میری دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو خاندانوں میں ہوئی ہیں، میری بیٹی نے بھی ایک ہندو سے شادی کی ہے جبکہ میرے کزن منصور کی اہلیہ عیسائی ہیں۔‘ انہوں نے اپنی شادیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ، ’نہ گوری، نہ کرن اور نہ ہی رینا نے اپنا مذہب تبدیل کیا کیونکہ ہماری شادیاں سول میرج کے تحت ہوئیں۔ گوری تو ہندو بھی نہیں ہیں بلکہ عیسائی ہیں اور وہ بھی اپنے مذہب کی بہت زیادہ پابند نہیں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی مزید دلچسپ اور مزاحیہ ہوتی جا رہی ہے۔‘ عامر خان کی پہلی شادی 1986 میں رینا دتہ سے ہوئی تھی جو 2002 میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے دوسری شادی کی، تاہم دونوں نے 2021 میں علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ اگرچہ ان کی ازدواجی زندگی ختم ہو گئی، لیکن دونوں آج بھی ایک دوسرے کے ساتھ پیشہ ورانہ اور خاندانی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اب انہوں نے گوری سپریٹ سے شادی کی ہے جنہیں وہ پچھلے تقریباً 25 برس سے جانتے تھے، تاہم دو سال قبل بنگلورو میں عامر کی کزن نزہت خان کے ذریعے دونوں کا دوبارہ رابطہ ہوا۔ یہ دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی اور دونوں نے دو سال سے زائد عرصے تک ایک دوسرے کو جاننے کے بعد شادی کا فیصلہ کیا۔ عامر خان نے گزشتہ برس مارچ میں اپنی 60 ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران پہلی بار گوری اسپرٹ کو میڈیا سے متعارف کرایا تھا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گوری کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا تھا۔ 5 جولائی کو ہونے والی شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ اور نجی رکھا گیا، جس میں تقریباً 150 مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب میں عامر خان کے اہل خانہ، قریبی دوستوں اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی چند معروف شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر عامر خان کے صاحبزادے جنید خان، صاحبزادی ایرا خان اور ان کے شوہر نوپور شکھرے بھی موجود تھے۔ شادی میں شریک دیگر معروف شخصیات میں صنعت کار مکیش امبانی، سیاست دان راج ٹھاکرے، فلم ساز آشوتوش گواریکر، سابق کرکٹر عرفان پٹھان، کامیڈین ویر داس اور اداکارہ ایلی آوررام شامل تھے۔ عامر خان کے حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، تاہم اداکار نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی تمام شادیاں باہمی احترام اور ذاتی پسند کی بنیاد پر ہوئیں اور ان میں کبھی بھی مذہب کی تبدیلی کو شرط نہیں بنایا گیا۔
‘لَو جہاد’ کا الزام؛ عامر خان نے اندھ بھکتوں کو کیسے غلط ثابت کیا؟
RELATED ARTICLES



