76.9 F
Pakistan
Tuesday, July 14, 2026
HomeTechnologyمصنوعی ذہانت: اصل امتحان مشین کا نہیں، انسان کا ہے

مصنوعی ذہانت: اصل امتحان مشین کا نہیں، انسان کا ہے

ایک پرانی حکایت ہے کہ دو مچھلیاں سمندر میں تیر رہی تھیں۔ راستے میں ایک بوڑھی مچھلی نے مسکراتے ہوئے پوچھا، ’پانی کیسا ہے؟‘ دونوں آگے بڑھ گئیں۔ کچھ فاصلے پر ایک نے دوسری سے پوچھا، ’آخر یہ پانی کیا چیز ہے؟‘ وہ پانی میں رہتی تھیں، مگر انہیں اس کی موجودگی کا شعور نہ تھا۔ شاید آج ہماری کیفیت بھی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے ساتھ کچھ ایسی ہی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل فون ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ گوگل ہماری تلاش مکمل کر دیتا ہے، فون اگلا لفظ خود تجویز کر دیتا ہے، یوٹیوب ہماری پسند کی ویڈیوز دکھاتا ہے، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارم وہی خبریں اور تحریریں سامنے لاتے ہیں جن میں ہماری دلچسپی ہو۔ ہم برسوں سے مصنوعی ذہانت کے سمندر میں رہ رہے ہیں، لیکن اکثر ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ہماری زندگی، ہمارے فیصلوں اور حتیٰ کہ ہمارے خیالات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہی احساس مجھے یونیسکو کے آن لائن کورس ’Educating in the Age of Artificial Intelligence: Digital Citizenship‘ کے دوران ہوا۔ اس کورس نے مصنوعی ذہانت کو محض ایک سافٹ ویئر یا تکنیکی ایجاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور جمہوری مسئلے کے طور پر پیش کیا۔ اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی کتنی طاقتور ہو گئی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کس طرح رہنا سیکھ رہے ہیں۔ ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ اے آئی ایک تخلیقی ذہن ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک پیداواری نظام ہے۔ یہ بے شمار کتابوں، مضامین، تصاویر اور اعداد و شمار سے نمونے سیکھ کر جواب تیار کرتی ہے۔ اس کے پاس نہ ضمیر ہے، نہ احساس، نہ اخلاقی شعور اور نہ ہی ذاتی تجربہ۔ تخلیق اب بھی انسان کرتا ہے، اے آئی صرف اس عمل میں معاون بنتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اے آئی کے انجینیئرز اور مشین لرننگ انجینیئرز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے (پکسا بے) اسی کورس میں ایک اصطلاح سامنے آئی: ڈیجیٹل ببل۔ الگورتھمز ہماری پسند و ناپسند کا مسلسل مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر آپ چند دن ایک ہی موضوع دیکھتے رہیں تو سوشل میڈیا آپ کے سامنے اسی نوعیت کا مزید مواد لاتا رہتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ہم ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں جہاں ہمیں صرف وہی خیالات سنائی دیتے ہیں جن سے ہم پہلے ہی اتفاق رکھتے ہیں۔ مختلف آراء نظروں سے اوجھل ہونے لگتی ہیں اور یہی کیفیت معاشرے میں تقسیم، غلط معلومات اور عدم برداشت کو جنم دے سکتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) چند روز قبل ادبی حلقوں میں بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک بحث سامنے آئی۔ معروف مترجم انور سن رائے کی جانب سے Ulysses کے اردو ترجمے پر بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا اس میں مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہے۔ میرا انور سن رائے سے بی بی سی لندن کے ذریعے ایک تعارف ضرور ہے، لیکن نہ میں نے ان کا یہ ترجمہ پڑھا ہے اور نہ میرے پاس یہ کہنے کا کوئی ثبوت ہے کہ اس میں اے آئی استعمال ہوئی یا نہیں۔ اس لیے میں اس بحث میں کسی فیصلے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ البتہ اس بحث نے میرے ذہن میں ایک بڑا سوال ضرور پیدا کیا، اور اس سوال کو مزید واضح کرنے میں یونیسکو کے کورس نے میری رہنمائی کی۔ اگر کوئی مترجم، محقق یا ادیب مصنوعی ذہانت سے صرف معاونت حاصل کرے تو کیا یہ قابل اعتراض ہے؟ میرا خیال ہے کہ اصل مسئلہ اے آئی کا استعمال نہیں بلکہ اس کے استعمال کی نوعیت اور شفافیت ہے۔ اگر اے آئی ابتدائی مسودہ تیار کرنے، متبادل الفاظ تجویز کرنے، زبان کو بہتر بنانے یا تحقیق میں معاونت فراہم کرے، جبکہ حتمی متن کی فکری، ادبی اور اخلاقی ذمہ داری انسان خود قبول کرے، تو اسے ایک مفید علمی معاون سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر پورا تخلیقی یا تحقیقی عمل بغیر انسانی تنقید اور نظرثانی کے مشین کے حوالے کر دیا جائے تو اصالت، تخلیقی انفرادیت اور علمی دیانت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی فرق ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک بہت اچھا استاد بن سکتی ہے، لیکن طالب علم نہیں، ایک بہترین معاون بن سکتی ہے، لیکن مصنف یا مفکر کا متبادل نہیں۔ تعلیم کے میدان میں بھی اصل تبدیلی یہی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ طالب علم کتنی معلومات یاد رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے اچھے سوال پوچھتا ہے، مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کا تجزیہ کیسے کرتا ہے اور سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کرتا ہے۔ شاید مستقبل کی سب سے اہم مہارت Prompt لکھنا نہیں بلکہ درست سوال کرنا ہوگی، کیونکہ اچھا سوال ہی اچھے جواب کی بنیاد بنتا ہے۔ یونیسکو اسی لیے ’ڈیجیٹل شہریت‘ کی بات کرتا ہے۔ ایک ذمہ دار ڈیجیٹل شہری وہ ہے جو معلومات کی تصدیق کرے، الگورتھمز کے اثرات کو سمجھے، اپنی رائے بنانے سے پہلے مختلف نقطۂ نظر پڑھے، اپنی رازداری کی حفاظت کرے اور مصنوعی ذہانت کو انسانی فلاح کے لیے استعمال کرے، نہ کہ نفرت، تعصب یا گمراہ کن معلومات پھیلانے کے لیے۔ شاید آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ ’یہ تحریر اے آئی نے لکھی ہے یا انسان نے؟‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’کیا اس تحریر میں انسانی فکر، دیانت، تنقیدی شعور اور اخلاقی ذمہ داری موجود ہے؟‘ کیونکہ ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، سچائی کی تلاش، اخلاقی فیصلہ، تخلیقی وجدان اور انسان دوستی اب بھی انسان ہی کی ذمہ داری ہیں۔ آخر میں مجھے پھر وہی مچھلیوں کی حکایت یاد آتی ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کے سمندر میں رہ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پانی موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمیں اس پانی کی نوعیت، اس کی گہرائی اور اس کے بہاؤ کا شعور بھی ہے؟ اگر ہم نے یہ شعور حاصل کر لیا تو اے آئی انسانی ترقی کا عظیم ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر ہم نے سوچنا، سوال کرنا اور تحقیق کرنا چھوڑ دیا تو شاید سب سے بڑا نقصان ہماری اپنی آزادیِ فکر کا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اصل امتحان مشین کا نہیں، انسان کا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اے آئی مصنوعی ذہانت انسان مصنوعی ذہانت ایک بہت اچھا استاد بن سکتی ہے، لیکن طالب علم نہیں، ایک بہترین معاون بن سکتی ہے، لیکن مصنف یا مفکر کا متبادل نہیں۔ ڈاکٹر نجم الحسن خان منگل, جولائی 14, 2026 – 07: 00 Main image:

28 جنوری 2025 کو برسلز میں ایک موبائل فون پر ڈسپلے ہونے والے ڈیپ سیک ایپ کا لوگو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

ٹیکنالوجی type: news related nodes: بڑھتی دھوکہ دہی کے خلاف جاپان کا نیا ہتھیار، اے آئی پولیس چیف برطانیہ: تاریخ میں پہلی بار اے آئی وکیل نے مقدمہ جیت لیا اے آئی ’چند ماہ میں‘ تباہ کن سائبر خطرہ بن سکتی ہے: فائیو آئیز مصنوعی ذہانت کے دور میں نوجوانوں کو کامیاب کیسے بنائیں؟ SEO Title: مصنوعی ذہانت: اصل امتحان مشین کا نہیں، انسان کا ہے copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments