مصنف: صادق حسینقسط: 19تن سازی کا یہ عالم تھا کہ جب یہ تینوں دوست، سرسوں کے تیل سے جسم کی مالش کر کے، سانس روک کر، خداداد طاقت کا مظاہرہ کرتے تو ان کے بازوؤں کی مچھلیاں، رانوں، پنڈلیوں اور پیٹ کے کسے ہوئے پٹھے دیکھ کر دہشت چھا جاتی۔
بلھے شاہ کی کافیاں سناتا تو راہ چلتوں کے قدم رُک جاتے،’’پہچانو ہم کون ہیں؟“ سائیں بابا کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے،گریبان بھیگ جاتا
RELATED ARTICLES



