76.1 F
Pakistan
Sunday, July 12, 2026
HomeSportsپاکستان کی بقا

پاکستان کی بقا

ایک گاو¿ں میں دو لڑاکے گروپ رہتے تھے ۔دونوں آپس میں طویل رنجش رکھتے تھے ۔ ایک کے پاس وسائل بہت زیادہ تھے تودوسرے کا مقابلہ کرنے کا عزم بہت پکا تھا۔ایک دن ایک نے دوسرے پر سخت حملہ کردیا۔ایک فریق کا کافی نقصان کیا تو دوسرے نے اس کے دوستوں کو ساتھ لپیٹ لیا۔چودھری کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ دونوں میں لڑائی بند کروائی جائے ۔چودھری نے کوششیں شروع کردیں دونوں کو قائل کیا کہ لڑائی میں کیا رکھا ہے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔دونوں راضی ہوگئے تو چودھری نے اعلان کردیا کہ لڑائی آج سے بند ہے اب صلح ہوگی ۔صلح کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا لیکن صلح کی شرائط کافی سخت اور ٹیڑھی تھیں تو وقت لے لیا گیا۔ایسے میں چودھری کو ایک دن پتہ چلا کہ لڑائی کے میدان میں موجود چند جذباتی لڑکوں نے پھر چھیڑ چھاڑ کی ہے تو چودھری نے پھر کوشش کی اور سمجھادیا کہ صلح پر بات کرودونوں پھر صلح کی پنچایت میں بیٹھ گئے ۔آخرکار ایک عبوری روڈ میپ بن گیا ۔طے ہوا کہ اس دوران کوئی کسی پر حملہ نہیں کرے گا ۔بات چیت کریں گے ۔کچھ دن گزرے تو پھر لڑائی شروع ہوگئی ۔ایک نے دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگادیا۔اب چودھری کو بھی تشویش ہونے لگی کہ کیسے لوگ ہیں ۔صبر ہی نہیں کرتے ۔اس نے ایک طرف سمجھا نے کی کوشش کی تو دوسری طرف ملازم سے کہا کہ دو اچھے مضبوط ڈنڈے نکال لو ۔ملازم نے کہا کہ اب لگتا ہے چودھری صاحب خود دونوں کی پٹائی کرنے جارہے ہیں ۔ملازم نے ڈنڈے پکڑ لیے اور چودھری کے ساتھ ہو لیا۔ چودھری صاحب دونوں لڑنے والوں کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ لڑائی نہ کریں کیونکہ اس میں نقصان ہی نقصان ہے۔لیکن آپ باز ہی نہیں آرہے تو آپ یہ ایک بار شوق مکمل ہی پورا کرلیں ۔چودھری نے دونوں کو ایک ایک ڈنڈا پکڑایا اور کہا کہ آپ لڑلیں اور جب تھک جائیں یا ایک دوسرے کو چِت کرلے تو بتادینا میں آکر صلح کروادوں گا کیونکہ مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں ۔یہ تو ایک کہانی ہے ایک لطیفہ ہے لیکن جو حالات ایران اور امریکا کے ہیں کہ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے کیے جارہے ہیں تو لگتا ہے کہ اب پاکستان اور دیگر ثالثوں کو بھی یہی کرنا پڑے گا کہ دونوں ایک بار مکمل لڑکر دیکھ لیں کیونکہ بیٹھنا تو پھر بھی مذاکرات کی میز پر ہی ہے لیکن بہتر ہے کہ ایسی نوبت نہ ہی آئے اور جو ساٹھ دن میں جومذاکرات کا راستہ طے ہوا ہے اس پر عمل کرکے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرلیا جائے کیونکہ یہ معاہدہ مکمل طورپر ایران کے حق میں ہے ۔ایران کو لازمی طورپر اس کو انجام تک لے جانا چاہئے بھلے اس دوران اپنی انا اور غصے کو ضبط ہی کرنا پڑے ۔دوسری طرف اب پاکستان میں بلوچستان کا ایشو دوبارہ سے بہت گرم ہورہا ہے ۔پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی شہادت نے مسئلہ دوبارہ گھمبیر بنادیا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ ، وزیراعظم شہبازشریف کا فوری کوئٹہ جانا ۔اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا این ڈی یو میں خطاب سب اس سنجیدگی کے عکاس ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کا عزم تو ہمارے سامنے ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری صاحب نے حکومت اور ریاست کے حوالے سے بھی بتادیا کہ کسی طرف کوئی ابہام نہیں ہے کہ دہشتگردوں سے کس طرح نمٹنا ہے ۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ بلوچستان کے امن اور خوشحالی کے لیے صرف عسکری کارروائیوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ ایک جامع، متوازن اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ایک بات طے ہے کہ جو ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ۔جس کو ریاست کے ساتھ لڑنے کا شوق ہے اس کاشوق پورا کردیا جائے اور ہماری بہادر افواج یہ کام مسلسل کررہی ہیں ۔اس کے لیے امن و امان کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کی معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ بے روزگاری، غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیتی ہے، جس سے شدت پسند عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی کچھ بی وائی سی جیسی تنظیموں نے بلوچستان میں کیا ہے ۔تعلیم دہشت گردی کے خلاف سب سے م¶ثر ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں نئے اسکول، کالج اور فنی تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ اساتذہ کی کمی دور کی جائے اور طالب علموں کو وظائف فراہم کیے جائیں تاکہ کوئی بھی بچہ صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ معیاری تعلیم نوجوانوں میں برداشت، تنقیدی سوچ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتی ہے۔صحت، پانی، بجلی، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب ریاست عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو شہریوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور شدت پسند بیانیے کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو روزگار دینا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ خود کو ترقی کے عمل کا حصہ محسوس کریں۔بلوچستان کے عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ م¶ثر نمائندگی دینا بھی اہم ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے شفاف اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد جتنا مضبوط ہوگا، امن کے امکانات بھی اتنے ہی روشن ہوں گے۔شدت پسندی کے نظریات کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ مثبت سوچ، مکالمے اور آگاہی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ علمائ، اساتذہ، قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لے کر ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں جو رواداری، قانون کی پاسداری اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے نفرت انگیز اور گمراہ کن مواد کا م¶ثر اور قانونی طریقے سے تدارک بھی ضروری ہے۔یہ وہ تجاویز ہیں جو آپ کو ہر طرف سے دی جاتی ہیں ۔ان میں سے بہت سی چیزیں درست بھی ہیں کہ بلوچستان میں ترقی کی رفتار سست رہی ہے اس کے ذمہ دار وہاں کا سرداری نظام بھی ہے ۔لیکن اس کے پیچھے بھارت اور افغانستان کی موجود گی کے نشان بھی موجود ہیں ۔افغانستان ایک ناسور کی طرح پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ،امن کے پیچھے ہے۔ہم چار دہائیوں سے یہ عذاب بھگت رہے ہیں ۔ جب پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ہم نہیں بھگتےں گے تو افغان رجیم نے کھلم کھلا ہندوستان سے ہاتھ ملالیا۔اس وقت بھی افغانستان کا وزیرزراعت ہندوستان میں ہے اور کہہ رہا ہے میں اب اپنے لوگو ں میں آیا ہوں۔یہاں ”افغان باقی کوہسار باقی “ جیسے نعروں سے ان کی عظمت کے گن گاتے رہے اور وہ آستین کے سانپ بنے ہمیں ہی ڈستے رہے ۔بلوچستان پاکستان ہے اور رہے گا۔یہ قضیہ اب حل کرنا لازمی ہے چاہے وہ فوجی کارروائیوں سے کیا جائے یا پھر محرومیوں والے بیانیے کو مان لیا جائے کیونکہ اب یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments