82 F
Pakistan
Saturday, July 4, 2026
HomeBreaking Newsپروفیسر تیمور الحسن شکر ہے آپ ایک استاد ہیں

پروفیسر تیمور الحسن شکر ہے آپ ایک استاد ہیں

میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ پڑھی تو چونک گیا۔ ابھی چند دن پہلے تو اُس سے ڈھیروں ملاقاتیں تھیں اور وہ ایک ہنستا مسکراتا خوبرو لڑکا تھا۔ اب اُس نے لکھا ہے کہ وہ تقریباً 40برس تک پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو رہا ہے۔ میں نے ٹھٹھک کر اپنی یادوں میں دوبارہ جھانکا۔ میں بھی صحیح تھا اور وہ بھی صحیح ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں سال 1983ءکے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں ہم سب کلاس فیلو بنے اور اُس وقت تیمور الحسن وہی تھا جو میں نے اوپر لکھا اور اب 40برس بعد وہ لڑکا یونیورسٹی کی فیکلٹی سے پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن کی حیثیت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بیشک یہ لمبا عرصہ مجھے چند دن پہلے کی بات ہی لگی لیکن جب غور کیا تو پتا چلا کہ تیمور الحسن نے پروفیسر ڈاکٹر بننے اور بعد کے سفر میں ایسے میدان مارے ہیں جنہیں پڑھ کر ایک دم یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ علمی گراف میں اتنا اضافہ ایک اکیلی شخصیت کی بجائے ایک بڑے ادارے کا کام ہوتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ وہ ادارہ اکیلے پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن ہیں۔ یونیورسٹی کے جنرلزم ڈیپارٹمنٹ سے جانے کے بعد تیمور الحسن نے وہ سب کچھ کیا جو تعلیمی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُس میدان میں روزگار جاری رکھنے کے لیے سب ہی کرتے ہیں مگر تیمور نے علم کے حصول اور اُسے دوسروں تک پہنچانے کے عشق میں کیا کیا نہیں کیا۔ انہوں نے جواں سال صحافی کی حیثیت سے پاکستان ٹائمز میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور نیوز ایڈیٹر، ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ میں رپورٹر، ڈیلی سن میں مینجنگ ایڈیٹر اور گروپ مینجنگ ایڈیٹر، فرنٹیئر پوسٹ میں ایگزیکٹو ایڈیٹر، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن میں ایڈیٹر ویب ریسرچ پورٹل، ڈیلی پوسٹ میں جوائنٹ ایڈیٹر اور ہیرالڈ، دی نیوز، دی نیشن میں فری لانس رائٹر کے طور پر کام کیا۔ لگتا ہے کہ اس صحافت گردی کے بعد تیمور نے کچھ اور سوچنا شروع کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی روشنی دوسروں تک براہِ راست پہنچائیں۔ اس کے تجربے کے طور پر انہوں نے بزنس ریکارڈر اور آج ٹی وی میں بطور ٹرینر، کنیئرڈ کالج میں وزیٹنگ فیکلٹی ممبر، سوشل اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں بطور کنسلٹنٹ اور میڈیا سپیشلسٹ طبع آزمائی کی اور اپنے آپ کو منوایا۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ اپنے علم میں اضافہ اور اپنی پی ایچ ڈی کے لیے ریسرچ بھی کرتے رہے۔ اب تیمور ایک فیصلے پر پہنچ چکے تھے اور وہ تھا ایک ہمہ وقت استاد بننا۔ پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ انہوں نے بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں سکول آف میڈیا اینڈ ماس کمیونی کیشن قائم کیا اور اس کے بانی ایسوسی ایٹ پروفیسر پھر پروفیسر اور بعد میں ڈین بنے۔ بعد ازاں یوسی پی یونیورسٹی میں پروفیسر اور فیکلٹی آف میڈیا اینڈ ماس کمیونی کیشن کے ڈین کے طور پر اب تک ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ اس دوران انہوں نے اِس یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف فلم، ٹی وی اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کا ایک نیا شعبہ شروع کیا اور دو نئے ڈگری پروگرامز کا آغاز بھی کروایا۔ پروفیسر تیمور الحسن نے اپنے 40برس کے میڈیا و ایجوکیشن اور ریسرچ کیرئیر میں 2ہزار سے زائد نیوزپیپر آرٹیکل و ایڈیٹوریل لکھے اور 70 سے زائد ریسرچ پبلی کیشنز بھی سامنے لائے۔ اُن کی ایک کتاب ”پریس اینڈ سول سوسائٹی اِن پاکستان“کے ٹائٹل سے شائع ہوچکی ہے جبکہ دو کتابیں ابھی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ وہ ایچ ای سی میں پی ایچ ڈی سپروائزر، ممبر ماس کمیونی کیشن نصابی کمیٹی، ممبر ٹیکسٹ بک اور مونوگراف ایویلیوایشن کمیٹی سمیت پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ممبر سلیکشن کمیٹی اور ممبر نصابی کمیٹی بھی رہے۔ ڈاکٹر تیمورالحسن ملکی اور بین الاقوامی تحقیقی جرنلز کے ممبر رہنے کے ساتھ بہت سی ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں بطور محقق اور میڈیا ماہر شرکت کرچکے ہیں۔ خاص طور پر انہوں نے جرمنی میں گلوبل میڈیا فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اُنہوں نے کئی ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ایم او یوز بھی سائن کئے۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ”بیسٹ ٹیچر ایوارڈ“ بھی دیا گیا۔ سقراط نے کہا تھا کہ ”میں کسی کو کچھ نہیں پڑھا سکتا، میں صرف انہیں سوچنے کے قابل بناسکتا ہوں“۔ پروفیسر تیمور اسی بات کو ماننے والے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”ہمارے ہاں ایسی تعلیم کو پسند نہیں کیا جاتا جو ذہنوں کو آزاد کرے“۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کا سنا تو خیال آیا کہ استاد کو ملازمتوں اور ریٹائرمنٹ کا پابند نہیں کرنا چاہئے۔ جن معاشروں میں استاد کو ریٹائرمنٹ کا پابند کردیا جاتا ہے اُن معاشروں کو صدیوں بعد آرکیالوجسٹ آکر دبی ہوئی مٹی سے نکالتے ہیں۔ جن معاشروں میں استاد کو ریٹائرمنٹ کا پابند نہیں کیا جاتا وہاں وہ سدابہار درختوں کی مانند ہوتے ہیں جن کی جڑیں مزید سدابہار درخت پیدا کرتی رہتی ہیں اور پورا خطہ سرسبز رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں آج کل ایک اور معاشرتی بدبختی سرچڑھ کر بول رہی ہے۔ وہ یہ کہ اب ہمارے ہیرو ٹک ٹاکرز ہیں۔ لہٰذا ”کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا“ کہ استاد کا کیا رتبہ ہے؟ لیکن میرا ایمان ہے کہ استاد ایک مسلمہ ہیرو ہے۔ پروفیسر تیمور الحسن کے بیشمار شاگرد اپنے استاد سے حاصل ہونے والی علم کی روشنی کو پھیلاتے رہیں گے۔ یعنی پروفیسر تیمور الحسن سے اُن کے شاگرد اور پھر اُن کے شاگردوں کے شاگردوں کا یہ سلسلہ بہت دور تک چلے گا۔ انگرےزی ادب مےں ”گڈبائے مسٹر چپس“ اےک شاندار ناول ہے۔ اِس کے مرکزی کردار مسٹر چپس جوکہ ایک استاد ہے کے جذبات اور اُس کی محبوبہ کا مکالمہ کچھ یوں ہے۔ ”شروع شروع مےں جب اُس نے کےتھی کے بارے مےں سنجےدگی سے سوچنا شروع کےا تھا تو اُسے اےک خوف لاحق ہوا کہ نیلی آنکھوں والی پرےوں جےسی دلفرےب انگلستان کی ےہ لڑکی جس کے اےک اشارے پر اُمراءکا جلسہ عام منعقد کےا جاسکتا ہے کو جب معلوم ہوگا کہ وہ اےک استاد ہے تو وہ کےا ردعمل ظاہر کرے گی؟ آخر اےک دن اس نے ہمت کرکے کےتھی سے کہہ ہی دےا۔ ےہ سن کر کےتھی اُس کی طرف مڑتے ہوئے جان کھےنچ لےنے والی مسکراہٹ اور بدن کو ڈھےر کردےنے والی نگاہوں سے تکتے ہوئے بولی اوچپس! پےارے چپس! مےں بہت خوش ہوں کہ تم جو ہو۔ مےں جب پہلی مرتبہ تم سے ملی تھی تو خوفزدہ تھی کہ کہےں تم اےک وکےل ےا سٹاک اےکسچےنج مےں حصص کا کاروبار کرنے والے اےجنٹ ےا اےک ڈےنٹل سرجن ےا مانچسٹر مےں کاٹن کا بڑا کاروبار کرنے والے اےک بزنس مےن نہ ہو لےکن شکر ہے کہ تم اےک استاد ہو۔ استاد ہونا اےک بہت ہی مختلف کام ہے، بہت اہم کام ہے، بہت معزز کام ہے۔ کےا تمہےں معلوم ہے چپس! اےک استاد اُن بچوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو بڑے ہو رہے ہوتے ہےں اور جنہوں نے کل دنےا پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے“۔ نوجوان تیمور نے بھی ایک استاد بننا پسند کیا اور آج اُن کے دوست اُن پر نازاں ہیں اور کہتے ہیں پروفیسر ڈاکٹر تیمور الحسن شکر ہے آپ ایک استاد ہیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments