اسلام آباد میں گذشتہ ماہ ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر رضاکار راول جھیل کے کنارے جمع ہوئے تاکہ وہاں جمع ہونے والا طبی فضلہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی جھیل کو پلاسٹک کی بوتلوں اور ریپرز سے بھی پاک کر دیا گیا۔ پاکستانی قانون کے مطابق جو طبی فضلہ ہسپتال سے سیدھا لائسنس یافتہ انسنریٹر تک پہنچنا چاہیے اور اسے کسی عوامی مقام سے نہیں گزرنا چاہیے، وہ جڑواں شہروں کے اہم آبی ذخیرے راول جھیل تک پہنچ چکا تھا جہاں سے لاکھوں افراد کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ نیسلے پاکستان کے اشتراک سے اس صفائی مہم کا اہتمام کرنے والی پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے اس صورت حال کو ایک انتباہ قرار دیا ہے۔ پاک ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید ابرار حسین نے کہا کہ اس مہم کا مقصد ’قدرت کے ساتھ اپنے تعلق کو ازسر نو تشکیل دینا‘ ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے پاک ای پی اے نے تصدیق کی کہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے لیے یہ معاملہ ان کے شعبہ قانون و نفاذ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم اس کارروائی کا کیا نتیجہ نکلے گا اور ماضی میں ایسے معاملات کے کیا نتائج برآمد ہوئے، اس حوالے سے عوام کے لیے کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ کہانی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ راول جھیل میں موجود طبی فضلہ، پلاسٹک کی بوتلیں اور ریپرز پانی کو آلودہ کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو) ایسا قانون جس کے نفاذ کا مؤثر نظام موجود نہیں پاکستان میں طبی فضلے سے متعلق قواعد موجود ہیں۔ ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ رولز 2005، جو پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کی دفعہ 31 کے تحت نافذ کیے گئے تھے، ہسپتالوں کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ انفیکشن پھیلانے والے فضلے کو پیدا ہونے والی جگہ پر ہی الگ کیا جائے۔ اسے رنگوں کے لحاظ سے مخصوص ڈبوں میں رکھا جائے، لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں کے ذریعے منتقل کیا جائے اور منظور شدہ جگہوں پر تلف کیا جائے۔ یہ ضابطہ ضابطہ تفصیلی تو ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ 2018 میں ایسٹرن میڈیٹیرینین ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، جائزے میں شامل 70 فیصد ہسپتالوں میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا۔ 80 فیصد ہسپتالوں میں کوئی تحریری طریقہ کار موجود نہیں تھا جب کہ 90 فیصد کے پاس اس کا سرے سے کوئی ریکارڈ ہی نہیں تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بھی 10 بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی کارکردگی عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور 2005 کے قواعد، دونوں سے کم پائی گئی۔ پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی محقق زینب نعیم، جو سرکلر اکانومی اور شہری ماحولیاتی پائیداری پر کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر ادارہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق: ’ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ رولز 2005 مستقل ادارہ جاتی خلا اور پالیسی کو ترجیح نہ دینے کی وجہ سے بڑی حد تک نافذ نہیں ہو سکے۔‘ انھوں نے کہا کہ پشاور، فیصل آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون بننے کی ایک دہائی بعد بھی فضلہ الگ کرنے کا عمل غیر مستقل ہے، عملہ غیر تربیت یافتہ ہے اور باضابطہ معائنہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ زینب نعیم کے مطابق 2011 کے بعد اختیارات کی منتقلی نے قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری صوبائی محکمہ صحت اور ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں میں تقسیم کر دی، جس کے بعد صوبوں کے پاس نہ تو جدید قواعد رہے اور نہ ہی نگرانی کی صلاحیت۔ وہ کہتی ہیں کہ قومی سطح پر بھی کچرا الگ کرنے کی کوئی جامع حکمت عملی موجود نہیں۔ حالیہ برسوں میں منظور ہونے والی نیشنل ہیزرڈس ویسٹ مینجمنٹ پالیسی بھی ہسپتال کے فضلے کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم نہیں کرتی۔ انھوں نے کہا کہ ’کچھ نجی ہسپتالوں میں تین درجوں پر فضلہ الگ کیا جاتا ہے، مگر اس کے انتظام اور اسے مناسب طریقے سے تلف کرنے پر کوئی مؤثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔‘ وہ آبی ذخیرہ جو لاکھوں افراد کو پانی فراہم کرتا ہے راول جھیل صرف ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ عوامی صحت کا ایک اہم ڈھانچہ ہے۔ جنوری 2026 میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کو بریفنگ دی گئی کہ کورنگ، لیک ویو اور جناح نامی تین بڑے نالے قریبی آبادیوں کا بغیر صاف کیا گیا سیوریج براہ راست جھیل میں ڈال رہے ہیں۔ تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر ان میں سے کوئی بھی فعال نہیں تھا۔ وزیر نے پوچھا کہ کیا وہ یہ پانی اپنے بچوں کو پلانا پسند کریں گے؟ دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس کا جواب نفی میں تھا۔ ایسا شہر جو اپنا کچرا خود سنبھال نہیں سکتا راول جھیل میں ملنے والا طبی فضلہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ یہ شہر کی انتظامی ناکامی کا حصہ ہے۔ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 1575 ٹن ٹھوس بلدیاتی فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ زینب نعیم کے مطابق، مختلف جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ کچرا جمع کرنے کی شرح 70 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ فضلہ آئی الیون جیسے ٹرانسفر سٹیشنز پر جمع ہوتا رہتا ہے اور اس کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی مناسب انداز میں تلف کیا جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی باقاعدہ ’انجینیئرڈ لینڈ فل‘ موجود نہیں ہے۔ غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکن محدود وسائل میں رہتے ہوئے کچرے سے کارآمد چیزیں الگ کرتے ہیں مگر انھیں نہ تو پالیسی کی سطح پر کوئی معاونت حاصل ہے اور نہ ہی اداروں کی پشت پناہی، جب کہ جمع نہ ہونے والا زیادہ تر کچرا کھلے عام میٹھے پانی کے نالوں اور دریا کے کناروں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جب کوئی کلینک یا تشخیصی مرکز فضلہ پیدا کرتا ہے اور اسے اٹھانے کے لیے کوئی لائسنس یافتہ ٹھیکیدار موجود نہیں ہوتا، تو وہ فضلہ انہی غیر رسمی راستوں یعنی برسانی نالوں، نالیوں سے گرزرتا ہوا اور آخر کار جھیل تک پہنچ جاتا ہے۔ زینب نعیم کا کہنا ہے یہ بنیادی طور پر گورننس کی ناکامی ہے۔ سی ڈی اے، مقامی اداروں اور ٹھیکےداروں کے درمیان کمزور رابطہ، ناقص منصوبہ بندی اور تسلسل کے ساتھ کام کرنے کو کم ترجیح دینا اس کی وجوہات ہیں۔ دستیاب وسائل بھی نااہلی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مؤثر نتائج نہیں دے پاتے۔ زینب نعیم کے بقول: ’جب کوئی کارپوریٹ ادارہ کسی اہم عوامی آبی ذخیرے سے خطرناک فضلہ ہٹانے کی مہم میں شریک ہوتا ہے، تو یہ گورننس کے ایک سنگین مسئلے کی نشان دہی کرتا ہے۔ نجی شرکت کسی مضبوط سرکاری نظام کی تکمیل کے بجائے ریاست کی ذمہ داری کی جگہ لے رہی ہے۔ اس سے یہ تصور عام ہو سکتا ہے کہ صاف پانی جیسے عوامی وسائل ٹیکس دہندگان کی جواب دہی کے بجائے خیر سگالی یا فوٹو سیشن جیسی مہمات پر منحصر ہیں۔‘ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے جاری عالمی پلاسٹک معاہدے کے مذاکرات میں موجود ’توسیعی پیداواری ذمہ داری‘ جیسا کوئی فریم ورک موجود نہیں۔ اس لیے پلاسٹک کی آلودگی کی قیمت ریاست، مقامی آبادیوں اور رضاکاروں کو ادا کرنا پڑتی ہے، جب کہ کچرا پیدا کرنے والا ادارہ محض تصاویر بنواتا اور پریس ریلیز جاری کرتا ہے۔ حقیقی جواب دہی کا تقاضہ کیا ہے؟ ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ رولز ایک ایسے مؤثر نفاذی نظام کا تقاضہ کرتے ہیں جس کے پاس واضح دائرہ اختیار ہو، مگر اختیارات کی تقسیم نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر تیار کیا گیا مربوط ویسٹ مینیجمنٹ منصوبہ کابینہ کی تجویز سے آگے بڑھے اور عملی شکل اختیار کرے۔ منصوبے کے مطابق راول جھیل کے معاون نالوں کے لیے تینوں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس تعمیر کیے جائیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو کچرا الگ کرنے کی ایک ایسی قومی حکمت عملی درکار ہے جو ہسپتال کے فضلے کو اس تفصیل کے ساتھ شامل کرے جس کی موجودہ پالیسی کے ڈھانچے میں کمی ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ایس ڈی پی آئی کی تیار کردہ نیشنل سرکلر اکانومی پالیسی تاحال کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو موجود تو ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ پاک ای پی اے نے راول جھیل کی آلودگی کا معاملہ اپنے شعبہ قانون و نفاذ کو بھیج دیا ہے لیکن یہ قدم ضروری تو ہے مگر کافی نہیں۔ آلودگی ماحولیات راول ڈیم فضائی آلودگی سولڈ ویسٹ مینجمنٹ ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ رولز پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے طبی فضلہ برساتی نالوں سے گزرتا ہوا راول جھیل تک پہنچ جاتا ہے۔ علیزہ ارشد ہفتہ, جولائی 4, 2026 – 07: 45 Main image:
ہسپتال ویسٹ مینیجمنٹ رولز 2005 عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے طبی فضلہ راول جھیل تک پہنچ جاتا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)
ماحولیات type: news related nodes: فضائی آلودگی: اسلام آباد میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی راول جھیل سو موٹو مانگتی ہے ’سانس لینے کا حق‘: ماحولیاتی آلودگی کے خلاف پاکستانی شہریوں کی جدوجہد برطانیہ کا پاکستان کے ساتھ تجارت، ماحولیات، تعلیم میں نئی شراکت داری کا اعلان SEO Title: طبی فضلہ، بوتلیں اور ریپر، راول جھیل میں تشویشناک آلودگی کا ذمہ دار کون؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



