76.8 F
Pakistan
Friday, July 3, 2026
HomeEnvironmentبایئوفلوک فش فارمنگ: کم جگہ پر مچھلی کی زیادہ پیدوار

بایئوفلوک فش فارمنگ: کم جگہ پر مچھلی کی زیادہ پیدوار

پاکستان میں روایتی فش فارمنگ کے مقابلے میں جدید بایئوفلوک (Biofloc) ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جسے ماہرین فشریز سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ کراچی کے علاقے گڈاپ میں شوکت حسین بھی اب بایئوفلوک فش فارمنگ کر رہے ہیں۔ شوکت حسین کے مطابق یہ ایک ایسا جدید نظام ہے جس کے ذریعے محدود جگہ میں زیادہ مچھلی کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’جس طرح پولٹری فارمنگ میں جدید طریقوں سے کم جگہ پر زیادہ پیداوار لی جا رہی ہے، اسی طرح بایوفلوک سسٹم بھی کم رقبے میں زیادہ مچھلی پالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تقریباً 90 فیصد تک پانی اور 30 فیصد تک فیڈ کی بچت ممکن ہوتی ہے۔ ماہرین بائیوفلوک فش فارمنگ کو فشریز سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو) بقول شوکت حسین: ’بایوفلوک سسٹم میں مخصوص مفید بیکٹیریا مچھلی کے فضلے کو تحلیل کر کے پروٹین سے بھرپور غذائی ذرات میں تبدیل کرتے ہیں، جنہیں مچھلی دوبارہ بطور خوراک استعمال کرتی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف پانی کا معیار بہتر رہتا ہے بلکہ فیڈ کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔‘ شوکت حسین کے مطابق مناسب مینجمنٹ کے ساتھ ایک گرام وزن کی مچھلی کو ایک سال میں ڈیڑھ کلوگرام تک پہنچایا جا سکتا ہے، جبکہ بڑے سائز کے فنگر لِنگز کے استعمال سے یہ مدت چھ سے نو ماہ تک بھی کم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سسٹم میں ٹینکس کا سائز فکس نہیں ہوتا بلکہ یہ دستیاب جگہ اور سرمایہ کاری پر منحصر ہوتا ہے۔ چھت، کمرہ یا کھلی زمین پر بھی ایک یا ایک سے زائد ٹینکس لگائے جا سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت 20 فٹ قطر کے ٹینکس پر کام کر رہے ہیں، جن میں سے ایک ٹینک سے تقریباً 750 کلوگرام تک مچھلی کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بقول شوکت حسین: ’یہ ٹیکنالوجی زیادہ انفراسٹرکچر کی محتاج نہیں اور اسے چھت، کمرے، کھلی زمین یا صحرائی علاقوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ پانی اور بجلی کی بنیادی سہولت موجود ہو۔‘ سابق وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر شیخ کے ایک بیان مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں فشریز سیکٹر کا حصہ 0. 31 فیصد ہے، جب کہ مالی سال 2024 میں ملک میں مجموعی طور پر سات لاکھ 20 ہزار 900 میٹرک ٹن مچھلی کی پیداوار ریکارڈ کی گئی، جس میں 4 لاکھ 10 ہزار 900 میٹرک ٹن حصہ سمندری مچھلی پر مشتمل تھا۔ محکمہ سرمایہ کاری حکومت سندھ کے مطابق صوبہ سندھ ملک میں مچھلی کے مجموعی کیچ کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ شعبہ سالانہ تقریباً 150 ارب روپے کی آمدنی پیدا کرتا ہے۔ مچھلی کا کاروبار مچھلی ماہی پروری ماہی گیری ماہرین کے مطابق پاکستان میں روایتی فش فارمنگ کے مقابلے میں جدید بایئوفلوک ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ ممتاز جمالی جمعہ, جولائی 3, 2026 – 09: 15 Main image:

ماہرین کے مطابق بایئوفلوک فش فارمنگ سے کم جگہ پر مچھلی کی زیادہ پیدوار حاصل کی جا سکتی ہے (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو)

ماحولیات jw id: cKXC5CHf type: video related nodes: سانگھڑ: مچھلی کا وہ حلوہ جسے آپ ’کھائیں گے تو بار بار آئیں گے‘ پنجاب: سیلاب فش فارمز کی مچھلیاں بہا لے گیا، کروڑوں کا نقصان چھت پر فش فارم: فیصل آباد میں شہری ماہی پروری کا نیا تجربہ ’جنگ سے قبل خرچہ 10 اور اب 30 ہزار‘: مہنگے ڈیزل سے ماہی گیر بھی پریشان SEO Title: بایئوفلوک فش فارمنگ: کم جگہ پر مچھلی کی زیادہ پیدوار copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments