82.8 F
Pakistan
Wednesday, July 1, 2026
HomePoliticsہسٹری تخلیق ہو رہی ہے

ہسٹری تخلیق ہو رہی ہے

ہسٹری تخلیق ہو رہی ہے۔ ہم سب تخلیق میں شامل ہیں، شعوری طور پر بھی اور غیر شعوری طور پر بھی۔میڈیکل سے واقفیت رکھنے والے احباب جانتے ہیں کسی بھی مریض کی میڈیکل ہسٹری بہت اہم ہوتی ہے۔اکثریت کے والدین ان بیماریوں کا شکار نہیں تھے جن کا شکا ر آج کل کے بچے ہو رہے ہیں۔ بزرگوں کو نہ اتنی تعداد میں ذیابیطس لاحق تھی، نہ بلڈ پریشر، نہ دل کے امراض۔ بیماریاں خاندان میں چلتی ہیں۔ موروثی بیماریوں کے علاوہ خاندانی بیماریوں سے بھی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ لوگ بزرگوں کی صحت کی وجہ اس دور کی خوراک بتاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے، اس دور میں تشخیص کی سہولیات میسر نہیں تھیں، اس لیے نہیں کہا جا سکتا، بزرگوں کو بیماریاں لاحق تھیں یا نہیں۔ دونوں باتوں میں صداقت ہو سکتی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے، ہم اپنے بچوں کی فیملی ہسٹری تخلیق کر رہے ہیں۔ صورتحال مثالی نہیں۔بے شک وہ زمانے نہیں رہے، وہ خوراکیں نہیں رہیں۔ہاتھی سے چوہے نے عمر پوچھی۔ ہاتھی نے عمر بتانے کے بعد چوہے سے اس کی عمر پوچھی۔ چوہے نے شرما کر کہا: ”عمر تو میری بھی اتنی ہی ہے، بس مجھے ذرا خوراک اچھی نہیں ملی۔“اچھی خوراک ضروری ہے، خوراک فقط وہ نہیں جو معدے میں جاتی ہے۔ جو دماغ میں جاتا ہے، وہ بھی خوراک ہے۔ جو زبان کے ذریعے سماعت تک پہنچتا ہے، وہ بھی خوراک ہے۔ انسان جو سوچتا ہے، وہ بھی خوراک ہے۔ جو کرتا ہے، وہ بھی خوراک ہے۔ مسکراہٹ بھی غذا ہے۔ ڈیپریشن، اداسی، فوڈ پوائزننگ سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ سب اپنی اولاد کی فیملی ہسٹری لکھ رہے ہیں۔ کوئی سموکر ہے تو وہ آنے والی نسلوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ کوئی ورزش نہیں کرتا تو وہ صرف خود کو نہیں،آنے والی نسلوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے،کوئی اداس رہتا ہے،ٹینشن سے نمٹنے کا بندوبست نہیں کرتا، وہ اپنی آنے والی نسلوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ سب اپنی ہی نہیں، نسلوں کی ہسٹری بھی تخلیق کر رہے ہیں۔خوراک پر دھیان دیجئے، مثبت سوچئے، اچھے تعلقات بنائیے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق صحت جسمانی، روحانی، سماجی اور ذہنی طور پر متوازن رویّے اپنانے کا نام ہے۔اچھی غذا سادہ غذا ہے۔ اچھی غذا شفا ہے۔ مل جل کر کھانا، وقت پر کھانا، خالص کھانا،شکر ادا کرنا نعمت ہے۔دوستوں سے ملنا،فنکشنز میں جانا، خوشی غمی میں شریک ہونا صحت ہے۔بزرگ اچھا کھاتے تھے، حسد اور لالچ سے دامن بچاتے تھے، توکل کرتے تھے، تواضع اپناتے تھے، خوشی غمی میں جاتے تھے، لوگوں پر فتوے نہیں لگاتے تھے، فرائض احسن طریقے سے بجا لاتے تھے۔تھوڑا کھاتے تھے، تھوڑا بچاتے تھے، مل جل کر زندگی گزارتے تھے، اچھے برے کی تمیز سکھاتے تھے۔ اسی لیے بڑے لوگ کہلاتے تھے۔ماہ و سال کے اعتبار سے بڑے ہونا ااور بات ہے، کردار کے اعتبار سے بڑے ہونا اور بات۔انسان احساسِ ذمہ داری ہے۔ احساسِ ذمہ داری نہیں تو خواری ہے، بیماری ہے۔ہمارا طرزِ زندگی صحت مندانہ نہیں، درویشانہ تو کیا، ہمدردانہ بھی نہیں۔ہمدردی کیجیے، اپنے ساتھ، دوسروں کے ساتھ،خیر خواہی کیجیے۔ ٹانگے والوں کی زندگی کا مطالعہ کیجیے، پرانے گانے سنیے۔ لاہور جائیے، جھنگ بھی جائیے۔ دربار دیکھیے، تاریخی آثار دیکھیے، دیہاتی لوگوں کے گھر بار دیکھیے۔ زندہ رہیے، تابندہ رہیے۔زندہ رہنا، تابندہ رہنا مشکل نہیں۔صبح کی سیر کیجیے، لوگوں سے رابطہ استوار رکھیے، ماحول خوشگوار رکھیے۔صحت کا حصول ناممکن نہیں۔ ایم باپے کا میگا ایونٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں میں دوسرا نمبر نبی پاکؐ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے تھے، پیدل چلتے تھے۔ ڈائٹنگ کا شوق رکھنے والے احباب کی خدمت میں گزارش ہے، محبوبِ ربانیؐ سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو روزہ رکھتے تھے۔ محبوب ترین پیغمبرؐ پیدل چلتے تھے، تیز تیز بھی چلتے تھے۔ بریسک واک کے فوائد بیان کرنے والوں سے گزارش ہے، نبی پاکؐ کی سیرت کا مطالعہ ضرور کریں۔ ”صفائی نصف ایمان ہے“ لکھنے والے لکھتے ہیں: صفائی مکمل ایمان ہے۔ بدنی طہارت نصف ایمان ہے اور روح کی صفائی نصف ایمان ہے۔ بدن اور روح دونوں صاف ہوں تو ایمان مکمل ہوتا ہے۔پیرنٹنگ کے لیے ہر کسی کے علم سے استفادہ کرنے والوں سے گزارش ہے، اسوہ حسنہ سے استفادہ کریں۔آخری نبیؐ اللہ تعالیٰ کے انتہائی شکر گزار تھے۔ ہم شکر گزار ہونا بھولتے جا رہے ہیں، خالق و مالک کے شکر گزار نہیں ہوتے، اپنے پاک پیغمبرؐ کے شکر گزار نہیں ہوتے، اہلِ بیت کے شکر گزار نہیں ہوتے، صحابہ کرامؓ کے شکر گزار نہیں ہوتے، قائدِ اعظم، علامہ اقبال کے شکر گزار نہیں ہوتے، والدین کے شکر گزار نہیں ہوتے۔ ناشکرے لوگ غیر مطمئن ہوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں۔ بچوں کو شکر گزاری کے فوائد سے آگاہ کیجیے۔ایمان مکمل نہیں، اگر کوئی پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اردگرد لوگ بھوکے سوئیں۔عالی مرتبت ہستی ؐ کا ہرفرمان طرزِ زندگی ہے۔مل جل کر کھانے سے برکت ہوتی ہے، برکت صحت ہے۔ حکمت صحت ہے۔برکت اور حکمت کی تلاش کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن و حدیث ہر مسئلے کا شافی علاج ہیں۔نئی ٹیکنالوجیز کے باوجود نئے مسائل پر قابو پانا دشوار سے دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہسپتال آباد ہیں، ذہنی امراض کے مراکز بھی۔ کم سن بچیاں محفوظ نہیں۔ لوگ خوف کی کیفیت کا شکار ہیں۔ قصور، جھنگ، سرگودھا جیسے علاقوں میں کم سن بچیوں کے ساتھ ہونے والے درندگی کے واقعات ذہنی صحت پر سوالیہ نشان ہیں، تربیت پر سوالیہ نشان ہیں۔قاتل، قتل کرنے کے بعد بھی حیوانیت سے باز نہیں آتے، گھناؤنے جرائم کرتے ہیں۔برصغیر کی تقسیم کے وقت جو شیطانیت خواتین کے لیے دشمنوں نے دکھائی، ویسی شیطانیت کا ارتکاب اب نفسیاتی طور پر بیمار افراد اپنے ملنے جلنے والوں کی بچیوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ روحانیت شرما رہی ہے، شیطانیت سر اٹھا رہی ہے۔وقت آ گیا ہے، ہم نئی نسل کی تربیت کے لیے اکابرین کے قائم کیے ہوئے معیار کی طرف رجوع کریں۔ قرآن اور احادیث پر عمل کرنے سے ہمارا معاشرہ بہتر ہو سکتا ہے۔قران و حدیث کا مطالعہ کیجیے،بچوں کو بھی اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگاہ کیجئے۔ سپریم کورٹ کا بہنوں کو 71 سال بعد وراثتی جائیدار میں حصہ دینے کا حکم

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments