محققین کو شاید نیند کی کمی کے اثرات کم کرنے کا ایک نیا طریقہ مل گیا ہے۔ عام طور پر نیند پوری نہ ہونے سے غنودگی ہوتی ہے، جسمانی ردعمل سست ہو جاتا ہے، توجہ کم ہو جاتی ہے اور مزاج میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اس سے دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ لیکن چوہوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سائنس دان دماغ کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ اسے وہ بحالی مل رہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اس عمل سے دماغی خلیوں کے درمیان رابطے دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ عمل صرف نیند کے دوران ہوتا ہے اور یہی ہماری یادداشت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ سائنس دانوں نے چوہوں کے دماغ میں نہایت باریک فائبر آپٹک تاریں لگائیں۔ یہ تاریں 30 منٹ تک روشنی کی لہریں پیدا کرتی رہیں، جس سے چوہوں کے دماغ کے ایک حصے میں گہری نیند جیسی کیفیت پیدا کی گئی۔ ان چوہوں کو جگائے رکھا گیا تھا تاکہ وہ زیادہ تھکے ہوئے ہوں۔ وسکونسن میڈیسن یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ڈاکٹر کیارا چیریلی کا کہنا ہے کہ ’بنیادی طور پر ہم دماغ کے ایک مخصوص حصے کو سونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جب دماغ کا وہ حصہ یادداشت کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے اور سیکھنے کی صلاحیت بحال کر رہا ہوتا ہے، تو باقی حصے بیدار، چوکس اور اردگرد کے ماحول سے جڑے رہتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ڈولفن مچھلیاں بھی کچھ ایسا ہی کرتی ہیں۔ وہ ایک وقت میں اپنے دماغ کے صرف ایک حصے کو سلاتی ہیں۔‘ ان تجربات کے بعد چوہوں میں کم نیند کی ضرورت کے آثار دکھائی دیے۔ ان کے دماغ کے جن حصوں کو تحریک دی گئی تھی، وہاں دماغ کی سست لہریں کم ہو گئیں۔ یہ سست لہریں گہری نیند کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہیں۔ دماغی لہریں وہ برقی لہریں ہوتی ہیں جو دماغی خلیے نیند کے دوران پیدا کرتے ہیں، جب دماغ خود کو بحال کر رہا ہوتا ہے۔ یہ لہریں تیز بھی ہو سکتی ہیں اور سست بھی۔ اس کے بعد محققین نے یادداشت کے ایک ٹیسٹ کے ذریعے اپنے لگائے گئے آلات کی افادیت کو مزید آزمایا۔ جن چوہوں کی نیند پوری نہیں تھی لیکن ان کے دماغ کے دونوں حصوں کو یہ روشنی والی تحریک دی گئی تھی، انھوں نے تقریباً اتنی ہی اچھی کارکردگی دکھائی جتنی پوری نیند لینے والے چوہوں نے دکھائی تھی۔ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق، جن چوہوں کی نیند پوری نہیں تھی اور انھیں یہ تحریک نہیں دی گئی تھی ان کی کارکردگی ’کافی خراب رہی۔‘ اگرچہ یہ طریقہ ابھی انسانوں پر نہیں آزمایا گیا، لیکن انسانوں اور چوہوں دونوں میں جاگتے ہوئے بھی گہری نیند کی علامات، یعنی دماغ کی سست لہریں، دیکھی جاتی ہیں۔ آئندہ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا کم تکلیف دہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانوں میں بھی ایسی ہی تحریک دے کر اسی طرح کے اثرات پیدا کیے جا سکتے ہیں؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) امریکہ میں زیادہ تر بالغ افراد اتنی نیند نہیں لیتے جتنی اچھی صحت کے لیے وفاقی طور پر تجویز کی گئی ہے، یعنی سات سے نو گھنٹے۔ امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ امریکی بے خوابی کا شکار ہیں۔ بے خوابی عارضہ ہے جو ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تاہم یو سی ایل اے ہیلتھ کے مطابق دائمی بے خوابی کا تعلق طویل مدتی طبی مسائل سے بھی ہو سکتا ہے، جیسے سانس، معدے یا اعصابی نظام کی بیماریاں۔ امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق وقت کے ساتھ یہ عارضہ دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ این آئی ایچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈس آرڈرز اینڈ سٹروک کی قائم مقام ڈائریکٹر ایمی بینی ایڈمز نے ایک بیان میں کہا: ’یہ تحقیق مزید واضح کرتی ہے کہ ہم کیوں سوتے ہیں اور کیسے سیکھتے ہیں۔ اس سے ہم یہ سمجھنے کے ایک قدم اور قریب آ گئے ہیں کہ ذہنی صلاحیتوں میں کمی کو بہتر طریقے سے کیسے روکا اور اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘ نیند پرسکون نیند بہتر صحت تحقیق سائنس دان نیند پوری نہ ہونے سے غنودگی ہوتی ہے، جسمانی ردعمل سست ہو جاتا ہے اور دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ جولیا مستو سوموار, جون 29, 2026 – 10: 00 Main image:
محققین کو شاید نیند کی کمی کے اثرات کم کرنے کا ایک نیا طریقہ مل گیا ہے (اینواتو)
تحقیق type: news related nodes: آٹھ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی ہم تھکا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں؟ جم سپلیمنٹ نیند کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں: تحقیق نیند کے معیار کو بہتر بنانے کی سب سے مؤثر ورزش کا انکشاف جینیاتی تبدیلی سے چار گھنٹے کی نیند سے اچھی زندگی ممکن: تحقیق SEO Title: کیا سوئے بغیر دماغ کو نیند کا احساس دلایا جا سکتا ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/news/health/mice-research-sleep-brain-insomnia-deprivation-b3002979. html show related homepage: Hide from Homepage



