ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں قلم سے لکھنے کی جگہ کی بورڈ اور ٹچ سکرین نے لے لی ہے، وہاں پشاور کے شہری عطا اللہ شاہ نے پین سے اپنی محبت کو ایسے انمول خزانے میں بدل دیا ہے جو دیکھنے والوں کو ماضی کی حسین یادوں میں لے جاتا ہے۔ ان کے پاس دنیا کے مختلف ممالک کے بنائے ہوئے نایاب فاؤنٹین پینوں کا ایک ایسا ذخیرہ موجود ہے، جس میں 1890 سے لے کر آج تک کے تاریخی اور قیمتی پین شامل ہیں۔ یہ کلیکشن صرف پینز کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک صدی سے زیادہ پر محیط تاریخ اور فن کی زندہ مثال ہے۔ اس مجموعے میں جرمنی، جاپان، امریکہ، فرانس، اٹلی اور انگلینڈ کے مشہور برانڈز کے فاؤنٹین پینز شامل ہیں۔ کئی فاؤنٹین پینز ایسے ہیں جو اپنی عمر کی ایک صدی مکمل کر چکے ہیں، جب کہ متعدد پینز پر ہاتھ سے نفیس نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ بعض پینز پر چاندی اور سونے سے پھولوں اور دیگر خوبصورت ڈیزائنوں کی آرائش کی گئی ہے، جو انہیں ایک فن پارے کا درجہ دیتی ہے۔ اس کلیکشن کا سب سے قیمتی قلم جرمنی کا ایک نایاب فاؤنٹین پین ہے، جسے تقریباً 16 لاکھ روپے میں خریدا گیا۔ اسی طرح جرمنی کے معروف برانڈ روٹرنگ کا ایک خصوصی قلم بھی اس مجموعے کی زینت ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اس کے صرف دو پینز موجود ہیں۔ عطا اللہ شاہ کے پاس نایاب فاؤنٹین پینوں کا ایک ایسا ذخیرہ موجود ہے جس میں 1890 سے لے کر آج تک کے تاریخی اور قیمتی پین شامل ہیں (شازیہ نثار/انڈپینڈنٹ اردو) دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پینز کی اکثریت کے نب (Nib) سونے سے تیار کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تحریر نہایت دلکش محسوس ہوتی ہے۔ پین جمع کرنے والے عطا اللہ شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ شوق انہیں صرف پین جمع کرنے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ہر پین کے پیچھے موجود تاریخ، ثقافت اور فن کو جاننے کا موقع بھی دیتا ہے۔‘ ان کے نزدیک ہر پین ایک کہانی سناتا ہے اور اپنے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے تمام پین قیمتی ہیں، البتہ ایک نسبتاً زیادہ مہنگا ہے کیوں اس کا تعلق محدود ایڈیشن کے ساتھ ہے۔ یہ روٹرنگ کمپنی کا پین ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس کمپنی کی بنیاد 1928 میں رکھی گئی تھی، اسی مناسبت سے دنیا بھر میں صرف 1928 پین بنائے گئے۔ روٹرنگ جرمن زبان کا لفظ ہے۔ ’روٹ‘ کا مطلب سرخ اور ’رنگ‘ کا مطلب دائرہ ہے۔ پینز کے اس مجموعے میں برطانیہ کے مشہور برانڈز پارکر، کان وے سٹیورٹ اور ڈی لا رو اونوٹو بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے کونکلین، شیفر اور وہال ایورشارپ بھی اس ذخیرے کا حصہ ہیں۔ جرمنی کے پیلی کان، لامی، مونٹ بلانک، روٹرنگ، کا وی کو اور فیبر کاسٹیل جیسے عالمی شہرت یافتہ نام بھی یہاں موجود ہیں۔ فرانس کے واٹر مین اور ایس ٹی ڈیو پونٹ جبکہ اٹلی کے ارورا، وسکونٹی، او ماس اور مونٹی گراپہ جیسے برانڈز اس کلیکشن کی شان بڑھاتے ہیں۔ جاپان کے معروف فاؤنٹین پینز بھی ان کے مجموعے میں شامل ہیں جو اپنی اعلیٰ کاریگری اور معیار کے باعث دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان فاؤنٹین پینز میں استعمال ہونے والی روشنائی ایسی بھی ہے جس میں سونے کے باریک ذرات شامل ہوتے ہیں۔ خوشبو دار روشنائی بھی اس ذخیرے کا حصہ ہے۔ یہ روشنائی تحریر کو نہ صرف خوبصورت بناتی ہے بلکہ لکھنے والے کو ایک منفرد خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے۔ نوادرات پشاور کلیکشن شوق کا مول نہیں عطا اللہ شاہ کے پاس موجود پینز کے نادر مجموعے میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت مختلف ملکوں میں بنے تاریخی پین شامل ہیں۔ شازیہ نثار ہفتہ, جون 27, 2026 – 09: 00 Main image:
عطا اللہ شاہ کے فاؤنٹین پنز کے ذخیرے میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت مختلف ملکوں میں بنے تاریخی پین شامل ہیں (شازیہ نثار/انڈپینڈنٹ اردو)
میگزین jw id: JYakFRXy type: video related nodes: سکردو: فرمان علی کے میوزیم میں ’کروڑوں روپے کےنوادرات‘ موجود افغانستان: ’ہزاروں سال پرانے نوادرات‘ کی بازاروں میں فروخت کراچی کا چائنا سینٹر جہاں نوادرات دکانوں پر دستیاب ہیں کیا وہ وقت آ چکا ہے جب برطانیہ لوٹے گئے نوادرات واپس کر دے؟ SEO Title: پشاور کے شہری کا نایاب فاؤنٹین پینز کا تاریخی خزانہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



