73.4 F
Pakistan
Monday, June 22, 2026
HomeBreaking Newsسرکاری جامعات کی نجکاری ؟؟

سرکاری جامعات کی نجکاری ؟؟

تعلیمی حلقوں میں اس وقت اضطراب کی کیفیت ہے۔ تشویش کی وجہ وہ خبر ہے جو چند دن پہلے سامنے آئی۔ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے ایک تیرہ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سرکاری جامعات کے اثاثوں کے کمرشل استعمال کے امکانات کا جائزہ لے گی۔ اس حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقے اس امر پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے سرکاری اسکولوں اور کامرس کالجوں کو نجی شعبہ کے حوالے کیا ۔ اب اس نے سرکاری جامعات کی نجکاری پر کمر کس لی ہے۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کے لئے یہ یقینا ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ سرکاری جامعات کی نجکاری ہوتی ہے تو اس سے اعلیٰ تعلیم کی سمت تبدیل ہو جائے گی۔دوسری طرف حکومتی حلقوں کا مو¿قف ہے کہ حکومت سرکاری جامعات کی نجکاری کا ارادہ نہیں رکھتی۔ حکومت پنجاب نے جو تیرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے وہ دراصل سرکاری جامعات کی طرف سے جمع کروائے گئے ان پروپوزلز یا تجاویز کا جائزہ لے گی جن کے تحت سرکاری جامعات اپنے اثاثوں کی تجارتی یا کمرشل بنیادوں پر استعمال کی اجازت چاہتی ہیں۔ تاکہ اس کی مدد سے اضافی آمدنی کا بندوبست ہو سکے۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے اس ضمن میں ایک نوٹیفیکیشن پنجاب کی تمام سرکاری جامعات کو ارسال کیا ہے۔ تیرہ رکنی کمیٹی جس کے سربراہ صوبائی وزیر خزانہ ہیں، جامعات کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو قانونی اور مالیاتی تقاضوں کے مطابق پرکھے گی۔ اس کے بعد کوئی پالیسی وضع کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جن منصوبوں یا سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی ہے، وہ جامعہ کے تعلیمی مقاصد اور ادارہ جاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس وضاحت کے باوجود تعلیمی ماہرین کی طرف سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت کی نظر سرکاری جامعات کے اثاثوں پر ہے۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ یہ اقدام وائس چانسلر کے اختیارات کو مزید محدود کرنے کا سبب ہو گا۔ اساتذہ ایسوسی ایشنوں کا خیال ہے کہ حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھا کر مالی ذمہ داریوں سے دست بردار ہونا چاہتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ سالوں سے مسلسل ہم سرکاری جامعات کی نازک مالی صورتحال کا نوحہ سن رہے ہیں۔ پہلے یہ مشکل صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی جامعات کو درپیش تھی۔ ان صوبوں کی نامور جامعات کے پاس اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے فنڈ نہیں تھے۔ اب پنجاب کی سرکاری جامعات کو بھی اس مشکل کا سامنا ہے ۔بیشتر جامعات کی حالت یہ ہے کہ ہر مہینے تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت جامعہ کے ٹریژرر آفس کی جان پر بن آتی ہے۔ جوڑ توڑ کر کے تنخواہوں کی ادائیگی ہوتی ہے تو پنشن کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ نئی جامعات کو اس ضمن میں زیادہ بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا ۔ تاہم جو یونیورسٹی جتنی پرانی ہے ا س پر پنشن کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہے۔ تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے بہت سی سرکاری جامعات کی کمر دہری ہو گئی ہے۔ یوں سمجھیں کہ ان کا دم نکلنے والا ہے۔میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں کہ گزشتہ کئی مہینوں سے کچھ نامور سرکاری جامعات اپنے اثاثوں کو کمرشل سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے حکومت کو خطوط ارسال کئے۔ تاہم انہیں اثاثوں کے کمرشل استعمال کی اجازت نہیں مل سکی۔ اب سرکاری جامعات کی مالی صورتحال کے تناظر میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ ان تجاویز کا جائزہ لیا جاسکے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے؟ ایک حل تو یہ ہے کہ سرکاری جامعات کا سارا مالیاتی بوجھ صوبائی حکومت اٹھائے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ کلی طور پر صوبوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ تاہم حکومتوں کو موقف ہے کہ محدود مالی وسائل کے ساتھ وہ یہ بوجھ کلی طور پر اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اس بنیادی سوال پر غور ہونا چاہیے کہ اربوں کھربوں روپے کے اثاثوں اور انتظامی ڈھانچے کی حامل تعلیمی ادارے برسوں گزرنے کے بعد بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے قاصر کیوں ہیں؟ آخر یہ خسارے والی افتاد پرائیویٹ سیکٹر پر کیوں نازل نہیں ہوتی؟ یہ کیا بات ہوئی کہ چند کنال یا ایکٹرپر قائم نجی جامعہ تو چند سال میں اپنے مالک کو نفع کما کر دینے لگتی ہے۔ لیکن اربوں کھربوں روپے کے اثاثوں کے حامل سرکاری کالج اور یونیورسٹیاں خسارے کا شکار ہو جاتی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ نجی اداروں میں وائس چانسلر سے لے کر ہر استاد اور ملازم پر سیٹھ کی جواب دہی کا دباؤ موجود ہوتا ہے ۔ ́ تاہم سرکاری اداروں میں معاملات مال مفت ، دل بے رحم کی طرح چلتے ہیں۔بہرحال، جامعات کو مالی دباو سے نکالنے کے لئے حکومت متعلقہ جامعات کی تجویز پر محدود پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دیتی ہے تو بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یقینا اس سے جامعات کے مالی بوجھ میں کمی واقع ہو گی۔ انفراسٹرکچر اور سہولیات میں بہتری آئے گی۔ انڈسٹری اور تعلیمی شعبے میں تعاون اورربط پیدا ہو گا۔ تاہم حکومت مخصوص اثاثوں کے بجائے سرکاری جامعات کی کلی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے تو یہ دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس سے یقینا تعلیم مہنگی ہو گی اور نوجوانوں کی پہنچ سے مزید باہر ہو جائے گی۔ اساتذہ اور ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی پیدا ہو گی۔ تعلیم جو ریاستی ذمہ داری ہے وہ نجی شعبے کے پاس چلی گئی تو نصاب اور تعلیمی سرگرمیاں تجارتی مقاصد کے تحت تشکیل پائیں گی۔ یہ یقینا ایک متنازعہ فیصلہ ہو گا۔ حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ ایسا بندوبست کرئے جس سے معیاری، مساوی اور سستی تعلیم کے مواقع میسر ہوں۔جامعات کی مالی امداد کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آج بھی بہت سے یورپی ممالک جیسا کہ جرمنی ، سویڈن، ناروے، فن لینڈ وغیرہ میں شہریوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مقامی طلبہ کے لئے فیس نا ہونے کے برابر ہے۔ چین نے بھی اپنی سرکاری جامعات پر اربوں ڈلر کی سرمایہ کاری کی ہے اور انہیں عالمی معیار تک پہنچایا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ماڈل ہے۔وہاں ایک طرف ہاورڈ اور stanford جیسے مہنگے نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ دوسری طرف مشی گن اور کیلی فورنیا یونیورسٹی جیسی سرکاری جامعات میں بھی طالب علموں کو بھاری بھرکم فیسیں دینا پڑتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ اعلیٰ تعلیم تو حاصل کرتے ہیں لیکن قرضوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب برطانیہ میں تعلیم تقریبا مفت تھی۔ اس کے بعد فیسیں بڑھتی گئیں ۔ آج وہاں بھی طلبہ کو ہزاروں پاونڈ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اب حکومت پنجاب کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے چین ، جرمنی، سویڈن والا ماڈل چاہیے یا ان ممالک کا ماڈل جہاں تعلیم بہت مہنگی ہے۔ یہاں تو خیر نوجوانوں کو تعلیمی قرض بھی دستیاب نہیں جیسے امریکہ میں ملتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں غریب عوام کو دو وقت کی روٹی، بجلی گیس کے بلوں وغیرہ کی ادائیگی جیسے مسائل درپیش ہیں وہاں مہنگی تعلیم کون افورڈ کرئے گا؟ موجودہ صورتحال کے تناظر میں سرکاری جامعات کے سربراہان ، اساتذہ اور ملازمین کو بھی اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کیا سرکاری جامعات کی ابتری میں ان کا بھی کوئی کردار ہے؟ پی۔ آئی۔ اے کی مثال لیجئے۔ یہ ایک زمانے میں سارے ایشیا میں فخر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی، رفتہ رفتہ یہ اس حال کو پہنچ گئی کہ اس کی نجکاری کرنا پڑی۔ کوئی احتجاج حکومت کو اس نجکاری سے نہیں روک سکا۔ اللہ نہ کرئے کہ کسی حکومت کو سرکاری جامعات کی نجکاری کا فیصلہ کرنا پڑے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری جامعات خود احتسابی کی راہ اختیار کریں اور معاملات کی اصلاح احوال میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments