جان ایلیا صاحب نے کہہ رکھا ہے کہ ۔۔میں بھی بہت عجیب ہوں ،اتنا عجیب کہ ہوں کہ بس خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں ہم اتنے ہی عجیب ہیں کہ پہلے حکومتوں کو منتخب کرتے ہیں اور پھر ان کو فوری گھر بھیجنے کے مشن پربھی لگ جاتے ہیں۔ جائز ناجائز طریقے سے اتنی حکومتیں گھر بھجوائی جاچکی ہیں کہ ہمیں اس پر کبھی ملال بھی نہیں ہوا ۔کیونکہ حکومتوں کو گھر بھیجنا ہمارا سب سے فیورٹ شوق اور صحافت کا بھی ہاٹ ٹاپک رہتا ہے۔یہ ایسا موضوع ہے کہ کسی بھی وقت افواہ اڑا دو ہر کوئی نہ جانے کیوں یقین کرنے لگتا ہے ؟ ۔شاید اس کی ایک وجہ تو ہمارا بطور قوم بے صبرا ہونا ہی ہے ، ہر حال میں ناخوش ، بے چین اورپریشان ۔ ہماری دینی تعلیمات ہر حال میں خوش رہنے، توکل ، قناعت اور شکر کرنے کی ہیں لیکن ہم ہر حال میں اضطراب طاری رکھتے ہیں۔ قصور نہ سہیل وڑائچ صاحب کا ہے نہ کسی اور کا کیونکہ ہم صحافیوں کی معلومات کا منبع ہی ایسی جگہیں بن جاتی ہیں جہاں ایسی ”گپ بازی“ چلتی رہتی ہے ۔اور پھر صحافتی احتساب کا تصور نہیں ہے ۔احتساب سے میری مراد نیب والا احتساب ہے اور نہ وہ احتساب جو آج کل شروع کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے سے صحافیوں کے خلاف وہی کام لیا جانے لگے جو سیاستدانوں کیخلاف نیب سے لیا جاتا تھا۔ہاں اگر کوئی ارشاد بھٹی صاحب کی طرح بغیر اپنی تحقیق کے کسی سے سن کر کوئی ایسی خبر آگے بڑھائے جو موجود ہی نہ ہو یا اس کے ثبوت آپ کے پاس نہ ہوں یا جس کاآپ دفاع نہ کرسکتے ہوں تو ضرور نوٹس بھیجیں لیکن ایک پاپولر تاثر کو کوئی لفظ دینے پر توفیق بٹ صاحب سے بھی ایسا ہی سلوک کرنے کی کوشش بہرحال درست نہیں ہے۔ایسی خبریں بنتی کہاں ہیں؟ جنم کہاں سے لیتی ہیں ۔کیا سہیل صاحب جیسے لکھاری اندازے لگاتے ہیں یا حالات کاتجزیہ ایسے کرتے ہیں کہ ان کا لامحالہ نتیجہ حکومت کی رخصتی سے کم نکلتا ہی نہیں ہے؟ یا پھر ایسے تجزیہ کار اور لکھاری حکومت کی جگہ لینے والے اپوزیشن رہنماوں کی توجہ خاص کے فریب کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کی خواہشوں کو خبروں کی شکل دینے لگ جاتے ہیں ؟اب وڑائچ صاحب نے ساری زندگی ملک کے ایک بڑے اخبار اور میڈیا ہاو¿س میں لکھنے لکھانے میں گزاری ہے۔ٹی وی پر وہ روز آتے ہیں اور سیاست ہی موضوع ہوتی ہے ۔لوگ ان کو جانتے ہیں اور مانتے بھی ہوں گے اور پھر ان کے کریڈٹ پر ” یہ کمپنی نہیں چلے گی “ جیسا کالم بھی ہو بھلے کمپنی کے بند ہونے میں تین سال لگے لیکن بات تو درست ہوگئی اس لیے وہ اس کا کریڈٹ لیں گے ۔تو ایسی صورت میں وہ جو بھی نئی بات لکھیں گے لوگ اس کو ڈسکس تو کریں گے لیکن جب آپ کی خبریں مسلسل درست نہ نکلنے کی راہ پر نکل پڑیں تو آپ کو اپنا سورس چیک کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔اب اگر شہباز شریف جیسے ونڈر بوائے کے ہوتے ہوئے جو واقعی ونڈر بوائے ہیں جنہوں اپنی سیاست کو پیچھے رکھتے ہوئے ریاست بچانے کے لیے مشکل ترین فیصلے کیے اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچالیا ،آئی ایم ایف سے خود بات کی اور پھر مشکل ترین پروگرام پر ابھی تک عمل پیرا بھی ہیں ۔ہندوستان کو شکست دینا ہر پاکستانی کا خواب ہوتا ہے وہ کام انہوں نے کردیا ۔ایک ہی وقت میں امریکا ، چین اور روس جیسی طاقتوں کے ساتھ متوازن اور بہترین تعلقات لے کر چل رہے ہیں ۔فوج سے کبھی وہ لڑے ہی نہیں ۔زرداری صاحب تو مفاہمت میں خوامخواہ مشہور ہیں اصل مفاہمت تو شہبازشریف کرتے ہیں ۔پھر آپ وجوہات جو بھی تلاش کرلیں اس وقت پاکستان کا طوطی بول رہا ہے اور آپ شہبازشریف سے جتنا چاہیں خواہ مخوا کا اختلاف پال لیں ان کے جانے کی خبریں دے لیں یہ حقیقت آپ نہیں بدل سکتے کہ دنیا کو امن دینے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان کے درمیان ثالث کی جگہ پر شہبازشریف کے دستخط ہیں ۔اور پھر جنگوں کے خاتمے کے لیے ثالث سے بڑا ونڈر بوائے کون ہوسکتا ہے ؟ان اظہر من الشمس حقائق کے ہوتے ہوئے اگر آپ یہ لکھنے بیٹھ جائیں کہ کسی کو” ونڈربوائے“ کی تلاش ہے تو ان حالات میں اپنا مذاق بنوانے والی بات ہی ہوسکتی ہے نا؟۔ونڈر بوائے والی ”ٹمکیری “ سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ ہمارا قومی مشغلہ ” گپ بازی“ مزیدپروان چڑھا اور ہفتہ دس دن ہر کسی کو خود کو ونڈر بوائے سمجھنے کا موقع مل گیا۔ ہفتہ دس دن لوگ اس شہزدی والی کیفیت میں چلے گئے جس کے ہر خواب میں کوئی خوبصورت شہزادہ گھوڑے پر سوار ہوکر اس کی زندگی میں آتا ہے لیکن خواب ،خیال اور کہانیاں حقیقی زندگی سے بہت دور ہوتی ہیں۔ہمارے دوست اجمل جامی صاحب لکھتے ہیں کہ سہیل صاحب کی کہی باتیں ڈسکس ہوتی ہیں ۔یوٹیوبرز کی چھابڑی میں چند دن رونق لگ جاتی ہے تو یہ بات بالکل درست ہے ۔اس کی وجوہات میں اوپر کافی حد تک بیان کرچکا کہ وہ بڑے لکھاری ہیں ۔ان کا اخبار سب سے بڑا ہے ۔ویسے ان کو ایسی باتیں لکھنے کے لیے کسی اچھے سورس کا ساتھ تو ضرور حاصل ہوگا کیونکہ آپ جتنے بھی بڑے صحافی ہوں ۔موجودہ حالات میں آپ کا یہ تجزیہ نہیں ہوسکتا کہ جولائی کے بعد حکومت کا زوال شروع ہونے جا رہا ہے اور ایسے حالات میں جب جنگ بند ہو گئی ہے۔ جنگ بند رکھنے کے لیے ایران کا بہت بڑا ”اسٹیک“ اس معاہدے کی صورت میں سامنے آگیا ہے ۔یعنی جنگ بندی میں ایران کی بقا اور تعمیر نوکا راستہ ہے تو جنگ بند ہونے سے معیشت دوبارہ بہتری کی طرف جائے گی ۔جمعہ والے دن وزیراعظم شہبازشریف نے پٹرول کی قیمت چوہتر روپے کم کردی ہے یہ مزید بھی کم ہو گی ۔مہنگائی نیچے آنا شروع ہوگی ۔بجٹ آچکا ہے ۔ویسے تو مستقبل کا صرف اللہ کریم کوہی معلوم لیکن موجود ہ حالات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ سورج مغرب سے طلوع ہونے جیسی باتیں قومی اخبارات میں لکھنا شروع کردی جائیں ۔مجھے اشتیاق تھا کہ حکومتوں کے جانے جیسی خبریں صحافیوں کو ملتی کیسے ہیں تو ایک محفل میں بیٹھنے کے بعد تھوڑا سا افاقہ ہوا۔عید کے دنوں میں لاہور کے پوش علاقے میں ہمارے دوست نے ایک محفل سجائی ۔اس محفل میں مجھ ناچیز کو بھی یاد کرلیا گیا۔اس بیٹھک میں تمام ہی صحافی، اینکر ،تجزیہ کار تھے اورسیاستدان بھی ۔دوتین گھنٹے ہر جید صحافی بذریعہ ثقہ ترین ”ذرائع“ سے حاصل شداپنی اپنی معلومات انڈیلتا رہا۔ایک سے بڑھ کر ایک اندر کی بریکنگ نیوز سامنے آتی گئی ۔اللہ میزبان کو سلامت رکھے کہ جب یہ محفل برخاست ہوئی تو یقین کریں ۔شہبازشریف گھر جاچکے تھے اور محسن نقوی اس ملک کے وزیر اعظم تھے۔ اب اگر ایسی محفلوں کا گیان آپ کالموں میں لکھنا شروع کردیں تو سب سے بڑے” ونڈر بوائے“ آپ ہی بن جائیں گے! !۔



