امتیاز علی کی نئی فلم ’میں واپس آؤں گا‘ دیکھنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ ان کی ایک فلم دیکھ لیں، سمجھیں آپ نے ساری فلمیں دیکھ لیں۔ وہ ایک ہی ببل کو 20 برس سے چبا رہے ہیں، اب اس میں سے کیا ہی رس نکلنا ہے۔ فلم ختم کرنے کے بعد آپ کے ذہن میں کیا رہ جاتا ہے؟ کردار، مکالمے یا مناظر، کب تک دھیان میں گونجتے ہیں؟ فلم کی فضا میں آپ دیر تک رہیں، سوچنے لگیں کہ اچھا ایسے بھی فلم بنائی جا سکتی ہے؟ ’مسان‘ جیسی ہلا کر رکھ دینے والی فلم تو خیر کم کم بنتی ہے، لیکن پھر بھی اچھی فلم کم از کم دو، تین دن تو آپ کے اندر چلتی ہے۔ کچھ فلم ساز ایسے ہوتے ہیں جن کی فلمیں دیکھتے وقت تو لگتا ہے کہ شاید کچھ گہرا، کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے لیکن جیسے ہی کریڈٹس چلتے ہیں، سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میرے لیے امتیاز علی ہمیشہ اسی درجے میں رہے۔ میں جانتا ہوں بہت سے دوستوں کو یہ رائے پسند نہیں آئے گی۔ ایک پوری نسل ہے جو ’جب وی میٹ‘، ’راک سٹار‘، ’ہائی وے‘ اور ’امر سنگھ چمکیلا‘ کی مداح ہے۔ لیکن میں جتنا بھی ان کے سینیما کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، اتنا ہی یہ احساس شدید ہوتا جاتا ہے کہ امتیاز علی شاید گہرائی کا تاثر پیدا کرنے میں کامیاب ہیں، گہرائی پیدا کرنے میں نہیں۔ مسئلہ شاید یہ ہے کہ ان کی فلمیں مجھے ہمیشہ ان لوگوں کی یاد دلاتی ہیں جو رات گئے کیفے میں بیٹھ کر زندگی کے معنی پر گفتگو تو بہت کرتے ہیں لیکن اگلی صبح ان کی باتوں میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ گفتگو کے دوران سب کچھ غیر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر جملے خوبصورت انداز میں کہی گئی عام باتیں تھیں۔ محفل برخواست ہوئی تو سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ سب کچھ ہوا ہو گیا۔ امتیاز علی کا پورا سینیما ایک خاص قسم کی رومانوی بے چینی کے گرد گھومتا ہے۔ ان کے کردار مسلسل کسی ’کمی‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے ناراض ہیں، معاشرے سے بیزار ہیں، محبت میں بظاہر ناکام ہیں اور زندگی کے مقصد کی تلاش میں ہیں۔ پھر وہ سفر پر نکلتے ہیں۔ کبھی ٹرین میں، کبھی سڑکوں پر، کبھی پہاڑوں میں اور کبھی کسی دوسرے ملک میں۔ آپ توقع کرنے لگتے ہیں کہ اب کوئی بڑی دریافت ہونے والی ہے، کوئی ایسا لمحہ آنے والا ہے جو کردار اور دیکھنے والے کو بدل کر رکھ دے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے سینیما میں سفر بہت ہے، منزل نہیں۔ کردار چلے جا رہے ہیں لیکن پہنچتے کہیں نہیں۔ آپ فلم دیکھتے جا رہے ہیں، گنگ کہیں نہیں ہوتے۔ یہی مسئلہ ٹارنٹیو کی آخری فلم کے ساتھ ہوا، پوری فلم قتل کی ایک واردات دکھانے کے لیے طویل سفر طے کرتی ہے، قتل ہو جاتا ہے، اس کے بعد کیا؟ کچھ بھی نہیں۔ گھسا پٹا محاورہ، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ امتیاز کی فلم ’ہائی وے‘ کا بڑا چرچا ہے۔ فلم ایک زبردست خیال سے شروع ہوتی ہے۔ ایک اغوا، ایک قید اور پھر اسی قید میں آزادی کی تلاش۔ ابتدا میں لگتا ہے شاید ہم ایک پیچیدہ نفسیاتی ڈراما دیکھنے جا رہے ہیں، لیکن جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی ہے، یہ زیادہ تر خوبصورت مناظر اور جذباتی کیفیتوں کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ فلم سوال تو بہت اٹھاتی ہے مگر ان سوالات سے کشُتی نہیں لڑتی۔ آس پاس ہی چکر لگاتی رہتی ہے۔ کبھی اِدھر سے نکل لیے کبھی اُدھر سے۔ ’راک سٹار‘ کے ساتھ بھی میرا مسئلہ کچھ ایسا ہی ہے۔ میں جانتا ہوں بہت سے لوگ اسے شاہ کار سمجھتے ہیں لیکن میرے لیے یہ ایک ایسی فلم ہے جس کی شہرت اس کے مواد سے زیادہ اس کے ساؤنڈ ٹریک کی وجہ سے ہے۔ اگر اے آر رحمان کی موسیقی نکال دی جائے تو فلم میں بچتا ہی کیا ہے؟ آج برسوں بعد بھی ہم اس کے گیت ’کن فیا کن‘ اور ’نادان پرندے‘ گنگناتے ہیں لیکن فلم کے مناظر یا اس کے ڈرامائی تسلسل کو کتنے لوگ اسی شدت سے یاد کرتے ہیں؟ بعض اوقات مجھے لگتا ہے ان کی فلمیں موسیقی کے لیے بنائی گئی لمبی میوزک ویڈیوز ہیں جن کے درمیان کہانی کو جوڑنے کے لیے چند مناظر رکھ دیے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ بہت شان دار فن پارے ہیں لیکن اس کا کریڈٹ اے آر رحمان کو جاتا ہے۔ امتیاز علی کے سینیما کا منفرد پہلو فلم کو ہیرو اور ولن کی روایتی کشمکش سے نکل کر کردار کے اندر کی کشمکش کو کہانی کے مرکزی دھارے میں لا کھڑا کرنا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ پہلو شروع کی فلموں میں اچھا لگتا تھا، پھر لگنے لگا کہ یہ کیا ہے؟ ہر کردار میں امتیاز علی خود چھپا بیٹھا ہے۔ بظاہر ہیرو کوئی گلوکار ہے، کوئی سیاح ہے، کوئی کارپوریٹ ملازم ہے، کوئی مزاحیہ نوجوان ہے لیکن سب کے اندر ’امتیاز علی‘ ہی روپوش ہے۔ ہر فلم میں یہ آدمی مسلسل خود کو تلاش کر رہا ہے، اسے سمجھا نہیں گیا، وہ کہیں دور جانا چاہتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کی نجات کسی غیر معمولی محبت یا روحانی تجربے میں پوشیدہ ہے۔ جب تقریباً ہر فلم میں یہی آدمی مختلف چہرے لگا کر واپس آتا ہے تو کہاں کی انفرادیت اور کہاں کی دلچسپ سٹوری؟ ان کی ہیروئنیں بھی بظاہر مختلف ہوتے ہوئے ایک خاص سانچے میں ڈھلی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ آزاد خیال ہیں، بے باک ہیں، زندگی سے بھرپور ہیں اور اکثر مرکزی مرد کردار کی زندگی میں انقلاب لے آتی ہیں۔ لیکن غور کیا جائے تو ان میں سے اکثر کا وجود بالآخر مرد کردار کی داخلی تبدیلی کے گرد چکر کاٹتا اور چھو منتر کرتا نظر آتا ہے۔ ان کے مداح اکثر کہتے ہیں کہ ان کی فلمیں محسوس کی جا سکتی ہیں، سمجھی نہیں جا سکتیں۔ x. jpg بھئی یہ کون سا ایسا عظیم پیچیدہ فلسفہ ہے جو سمجھ میں نہیں آ رہا ہوتا۔ مکالمے اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ہمارا ٹی وی ڈراما بھی شرما جائے۔ مگر بات نہیں سمجھائی جا سکتی کہ احساسات کا سینیما ہے۔ ذرا روبر بریساں کی کوئی فلم دیکھیے تاکہ آپ کو پتہ چلے احساس کی فلم کسے کہتے ہیں۔ انڈیا میں یہی کام بنگالی سینیما نے کیا۔ درمیانے درجے کی کام چلاؤ فلموں کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جن میں کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن ایک آدھ سین ایسا ہوتا ہے جو آپ کے حافظے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ دوسری وہ جن میں اور تو کچھ ہوتا نہیں، ایسا سین بھی نہیں ہوتا۔ امتیاز علی کی فلمیں بظاہر دوسری طرز کی ہیں۔ ان کے سینیما میں وہ ایک شاٹ، ایک فریم، ایک سین، جسے دیکھ کر فوراً فلم کا نام ذہن میں آ جائے؟ اگر آپ جانتے ہوں تو ضرور بتائیے گا۔ سینیما دیکھنے کے لیے بنا ہے۔ اس کی پہلی انٹرٹینمنٹ آنکھوں کے لیے ہے۔ عظیم فلم ساز اپنے ناظر کے ذہن میں تصویریں چھوڑ جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک منظر پوری فلم سے بڑا ہو جاتا ہے، مگر امتیاز علی کی فلمیں دیکھتے ہوئے آنکھیں انتظار ہی کرتی رہتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک ناکام فلم ساز ہیں۔ اگر وہ واقعی ناکام ہوتے تو اتنے لوگوں کے دلوں میں جگہ نہ بنا پاتے۔ ان کے پاس ماحول تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے، موسیقی کے استعمال کا شعور ہے اور نوجوان نسل کی جذباتی بے چینی کو پکڑنے کی غیر معمولی مہارت بھی۔ لیکن میرے لیے یہ سب خوبیاں اس بنیادی کمی کو پورا نہیں کرتیں کہ ان کی فلمیں ختم ہونے کے بعد میرے ساتھ زیادہ دیر نہیں رہتیں۔ وہ مجھے وقتی طور پر دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں مگر میرے ساتھ نہیں رہتیں۔ یہ ممکن ہے کہ لاکھوں ناظرین میری اس رائے سے اختلاف کریں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی کسی فلم نے کسی کی زندگی بدل دی ہو۔ سینیما آخرکار ذاتی تجربہ ہے۔ مگر میرے لیے امتیاز علی ہمیشہ ایسے فلم ساز رہیں گے جو گہرائی کا وعدہ تو بہت کرتے ہیں، مگر آخر میں ایک خوبصورت خالی پن ہاتھ آتا ہے۔ نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ فلم سینیما امتیاز علی ہمیشہ ایسے فلم ساز رہیں گے جو گہرائی کا وعدہ تو بہت کرتے ہیں، مگر آخر میں ایک خوبصورت خالی پن ہاتھ آتا ہے۔ فاروق اعظم اتوار, جون 21, 2026 – 07: 45 Main image:
فلم ’میں واپس آؤں گا‘ کا پوسٹر (سوشل میڈیا)
فلم type: news related nodes: فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو بالآخر انڈیا میں ریلیز کی اجازت پاکستانی ڈرامے شان دار، مگر فلمیں غیراطمینان بخش کیوں؟ عید قرباں پر پاکستانی فلموں میں ایکشن، رومانس اور خوف کا راج قاتل کا ہیرو ازم اور مقتول کی بے بسی: جب فلموں میں تاریخ بولتی ہے SEO Title: امتیاز علی کا سینیما: ایک ببل آپ کب تک چبا سکتے ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



