سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں اب تک دریافت ہونے والی طاعون کی سب سے قدیم وبا تقریباً 5 ہزار 500 سال قبل سائبیریا کے علاقے جھیل بائیکال کے اطراف پھیلی تھی۔ نئی تحقیق کے مطابق اس وبا نے خاص طور پر بچوں اور کم عمر نوجوانوں کو شدید متاثر کیا تھا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جھیل بائیکال کے قریب چار قدیم قبرستانوں سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے تجزیہ کیا۔ تحقیق کے دوران 46 لاشوں میں سے 18 میں یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا کے آثار ملے، جو طاعون کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک دریافت ہونے والے طاعون کے قدیم ترین شواہد ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس زمانے میں وہاں شکاری اور خوراک جمع کرنے والے انسان چھوٹے گروہوں کی صورت میں رہتے تھے۔ ان کی خوراک میں ہرن، موس، مچھلیاں، سیل اور مارموٹ نامی چوہے نما جانور شامل تھے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہی مارموٹ اس بیماری کے اصل میزبان تھے اور انہی سے یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوئی۔ یونیورسٹی آف کوپن ہیگن اور یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ جینیات دان ایسکے ویلیسلیو، جو اس تحقیق کے سینئر مصنف ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ دریافت طاعون کی ابتدا اور انسانی تاریخ پر اس کے ابتدائی اثرات کے بارے میں موجود تصورات کو بدل دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بیماری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والے جراثیموں میں سے ایک رہی ہے۔ اس سے پہلے طاعون کا قدیم ترین معلوم ثبوت تقریباً 5 ہزار سے5،300 سے سال قبل موجودہ لیٹویا میں ملا تھا، لیکن نئی دریافت اس سے بھی پرانی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیماری تاریخ میں سوچے جانے سے کہیں زیادہ پہلے موجود تھی۔ تحقیق کے مرکزی مصنف اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ ارتقائی جینیات روئیرڈ میکلوڈ کے مطابق طاعون ایک ایسی بیماری ہے جو بنیادی طور پر چوہوں اور دیگر چھوٹے جانوروں میں برقرار رہتی ہے، لیکن وقتاً فوقتاً انسانوں میں منتقل ہو کر بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتی رہی ہے۔ تاریخی طور پر طاعون نے کئی بڑی وباؤں کو جنم دیا، جن میں چھٹی صدی کی جسٹینین طاعون اور چودھویں صدی کی بلیک ڈیتھ شامل ہیں۔ بلیک ڈیتھ کے دوران یورپ کی ایک بڑی آبادی ہلاک ہوگئی تھی۔ اس وقت بیماری عموماً متاثرہ چوہوں پر موجود پسوؤں کے کاٹنے سے انسانوں تک پہنچتی تھی۔ ماہرین پہلے یہ سمجھتے تھے کہ طاعون کی خطرناک وبائیں اس وقت شروع ہوئیں جب انسانوں نے زراعت اختیار کی اور بڑی آبادیوں پر مشتمل بستیاں قائم کیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ ابتدائی طاعون نسبتاً ہلکا مرض تھا۔ تاہم جھیل بائیکال سے ملنے والے شواہد ان تصورات کی نفی کرتے ہیں، کیونکہ یہاں چھوٹے اور دور دراز شکاری گروہوں میں بھی ایک بڑی مہلک وبا کے آثار ملے ہیں۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے متاثرہ افراد کے دانتوں سے طاعون کے جراثیم کا جینیاتی مواد حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم ارتقائی اعتبار سے ایک درمیانی مرحلے میں تھے۔ یعنی یہ شدید بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، لیکن ان میں وہ تمام خصوصیات موجود نہیں تھیں جو بعد کی عالمی وباؤں میں دیکھی گئیں۔ قدیم جراثیموں میں ایک ایسا جین موجود نہیں تھا جو بیماری کو پسوؤں کے ذریعے مؤثر انداز میں پھیلانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ان میں ایک منفرد جینیاتی خصوصیت پائی گئی جو بچوں میں شدید سوزش اور خطرناک پیچیدگیاں پیدا کر سکتی تھی۔ محققین کے مطابق قبرستانوں میں دفن کئی افراد بچے تھے اور بعض مقامات پر بہن بھائیوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وبا نے ایک ہی وقت میں خاندانوں کے متعدد افراد کو متاثر کیا۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس بیماری سے سب سے زیادہ خطرہ آٹھ سے بارہ سال عمر کے بچوں کو تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح اموات اس علاقے کے دیگر قدیم مقامات سے مختلف ہے جہاں طاعون کے آثار نہیں ملے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کچھ افراد متاثرہ مارموٹ جانوروں کو پکڑنے یا ان کا گوشت مناسب طریقے سے نہ پکانے کی وجہ سے بیماری کا شکار ہوئے۔ اس کے بعد بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل ہوئی، ممکنہ طور پر کھانسی یا قریبی رابطے کے ذریعے۔ محققین کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وبا نے اس دور کی شکاری برادریوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اگرچہ بہت سے لوگ ہلاک ہوئے، لیکن کچھ افراد زندہ بچے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو دفن کیا۔ اجتماعی قبروں اور خاندان کے افراد کی مشترکہ تدفین سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ بچ جانے والے لوگ مرنے والوں کی شناخت سے واقف تھے اور انہوں نے انہیں باقاعدہ طور پر سپردِ خاک کیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین کے مطابق اس سے انسانی تاریخ کی قدیم ترین وباؤں اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں اہم مدد ملے گی۔
دنیا میں طاعون کی وبا پہلی بار کب اور کہاں پھیلی؟ سائنس دانوں نے ڈھونڈ نکالا
RELATED ARTICLES



