سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم۔سرپرست اعلیٰ المصطفیٰ ویلفیئرسوسائٹی میں حضرت علّامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمی ؒ سے نوجوانی ہی سے بہت متاثر رہا ہوں۔ حضرت، ربیع الاوّل کے عشروں میں کراچی تشریف لاتے تو بمبئی بازار میں ان کے 12خطابات مقررکیے جاتے، البتہ کبھی 6 یا7 خطاب بھی فرماتے۔ماہِ محرم میں علّامہ کا ظمی صاحب پان منڈی میں ذکر ِ شہادت کے بڑے جلسے سے خطاب کرنے کے لئے آتے تھے۔ قبلہ کاظمی شاہ صاحب کی تقریروں کو سمجھنا خاصا دشوارتھا،حضرت کی تقریر سمجھنے کے لئے بھرپور توجہ اور یکسْوئی درکار ہوتی تھی۔ 1968ء سے علّامہ کا ظمی ؒ سے مجھے خاص عقیدت ہو چلی تھی۔اس کا پس منظر یہ تھا کہ 1968ء میں ملتان میں ہم ایک جلسے میں شریک ہوئے مفتی سیّد مسعود علی قادری ؒ کے مکان، ”زاویہئ قادریہ“ میں تھا۔ عمران خان سے جمعرات کو ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال مولانا سیّد سعادت علی قادری مجھے بھی جلسوں میں شرکت کے لئے ساتھ لے جایاکرتے تھے۔ ایک مرتبہ علّامہ سیّد احمد سعید کاظمیؒ کے جلسے میں لے گئے۔اس جلسے کے بعد علامہ کاظمیؒ کاپروگرام سکھرجانے کاتھا۔میں مولاناسعادت علی قادری صاحب کے ساتھ علّامہ کاظمی صاحب کو ملتان اسٹیشن رخصت کرنے گیا۔گاڑی کی روانگی میں چند منٹ باقی تھے کہ مولانا سعادت علی قادری ؒ نے دریافت کیاکہ حضرت راستے میں آپ کی خدمت کے لئے سکھر تک خادم کون ہو گا؟جس پرانہوں نے فرمایا، تھوڑی دیر بعد سوجائیں گے اور صبح فجر کے وقت روہڑی پہنچیں گے۔ اس لئے خدمت کے لئے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ مولاناسعادت علی حضرت کے چہیتے اور ہونہار شاگرد تھے۔ انہوں نے کہاکہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں ایک خادم آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں یہ کہہ کرانہوں نے مجھے کہا کہ آپ حضرت کے ساتھ جائیے اور اُن کی خدمت کا شرف حاصل کریں پھر سکھر سے کراچی چلے جائیے گا۔آپ کا سامان کپڑے وغیرہ جب کراچی آؤں گاتو لے آؤں گا۔یہ بزرگوں سے اُن کی محبت کا اظہار تھا۔ میں نے بڑے انکسار سے کہاکہ میں حاضر ہوں، یہ تومیرے لئے اعزازکی بات ہو گی۔راستے بھر میں نے کوشش کی کہ خدمت کا کوئی ایک موقع ہی مل جائے کہ حضرت کے پاؤں دبا دوں،سرمیں مالش کردوں،لیکن حضرت نے انکا رفرمایااور کہاکہ آپ لوگوں نے انجمن طلبہء اسلام بناکر شمع رسالتؐ کے پروانوں کے لئے بڑی آسانی پیداکردی ہے۔حضرت نے مجھ سے فرمایاکہ میں لیٹ جاؤں اور آپ کو فرش پر بٹھا دوں تو یہ نہیں ہوسکتا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کا ادنیٰ خادم ہوں، مجھے خدمت کی سعادت حاصل کرنے دیں، لیکن حضرت ساری رات جاگتے رہے اور علمی، اَدبی اور نصیحت آمیز باتیں کرتے رہے۔ اکتوبر 1968ء میں مفتی محمد حسین قادری نے سکھرمیں پاک سنی کانفرنس منعقد کی، جس میں مجھے شرکت کی سعادت ملی۔اکتوبر کامہینا تھا اورشدید گرمی ہورہی تھی، اُن دنوں قاضی غلام عباس قادری (مرحوم) سکھر میں رہتے تھے۔ اُن سے پہلی ملاقات سکھر میں ہْوئی۔ میں نے ان سے دریافت کیا آپ کیاکرتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا میں طالبِ عِلم ہوں، پڑھتا ہوں،جس پر میں نے اُنہیں انجمن طلبہء اسلام میں شرکت کی دعوت دی۔ دیگر احباب بھی سکھر میں انجمن طلبہء اسلام کوفعال کرنے کے لئے تیارہو گئے۔اس طرح سکھر کا یہ سفر یادگارسفر بن گیا۔ علّامہ سیّد احمد سعید کاظمی جب بھی کراچی تشریف لاتے تو میں خدمت کے لئے ضرور حاضر ہوتا اور زیادہ وقت اْن کی صحبت میں گزارتا۔1983ء میں حضرت علّامہ سیّداحمدسعید کاظمیؒسے بیعت کی۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ بیعت ہونے سے پندرہ سال پہلے ہی سے حضرت سے رابطے میں تھا اور اُن کی خدمت میں بطور خادم حاضرہْواکرتا تھا۔ اُن کی عالمانہ گفتگو اورمْریدین کے ساتھ ان کی عاجزی کا خودمشاہدہ کیا۔ داتا صاحبؒ کے مزار پر اشارہ ملنے کے بعد کاظمی شاہ صاحب سے بیعت ہوا۔ بہاولپور میں قاری کے مبینہ تشدد سے 13 سالہ بچہ جاں بحق جب میرے پا س ہاؤسنگ، لیبرمین پاور اوورسیز پاکستانیز کی وزارت تھی تو ملتان سے ایک صاحب علّامہ کاظمی صاحب کا ایک رقعہ لیکر اسلام آباد آئے۔ وہ رقعہ پیٹرولیم منسٹری سے متعلق اُن کے ایک کام کے سلسلے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے علّامہ کاظمی صاحب نے یہ کہہ کربھیجا ہے کہ یہ محکمہ جلد حاجی صاحب کو ملنے والا ہے، آپ جائیں، انشاء اللہ آپ کا کام ہوجائے گا۔اْس وقت مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ مجھے پیٹرولیم و قدرتی وسائل کی وزارت ملنے والی ہے، مگر چند دنوں بعد، مجھے پیڑولیم و قدرتی وسائل کی وزارت مل گئی۔ نیا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے میں نے اْن صاحب کا کام کیا۔ بلوچستان: خاران میں مغوی لڑکی بازیاب، اغوا میں ملوث تمام ملزمان گرفتار وزیر اعظم محمد خاں جونیجو کی کابینہ میں 36 وزراء تھے، جن میں سے 35 نے مسلم لیگ کا فارم بھر دیا تھا۔ محمد خان جونیجو نے ایک موقع پر کہاکہ حاجی بابا، 35 وزیروں نے تو مسلم لیگ کے فارم بھر دِیے ہیں بس ایک آپ رہ گئے ہیں،یہ فارم رکھا ہے آپ بھی اسے بھر دیں تو مہربانی ہوگی۔ میں نے کہا کہ جہاں تک مسلم لیگ کے نظریے کا تعلّق ہے تو آپ کے ان 35 وزراء میں مجھ سے زیادہ اس نظریے کا دل وجان سے ماننے والا کوئی نہیں۔میں نظام مصطفی ؐ گروپ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا ہوں اس لئے جب تک میں اسمبلی کا رکن ہوں اپنی وابستگی تبدیل نہیں کر سکتا۔ چند ہفتے بعد وزیر اعظم کراچی آئے اورمجھے گورنر ہاؤس بلایا۔ وزیر اعظم نے پھر مسلم لیگ کا فارم میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ میں نے آپ کو سوچنے کا وقت دیا تھا، اب آپ اس فارم کو بھر دیں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں مسلم لیگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔ میری وابستگی اور میری پہچان نظام مصطفی ؐ گروپ ہے اور رہے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ ہمارے لئے مشکل کھڑی کر رہے ہیں، باقی سارے لوگ فارم بھر چکے ہیں صرف آپ رہتے ہیں۔ جونیجو صاحب کے ان الفاظ کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی مشکل پیش آرہی ہے تو میں ابھی وزارت سے اپنا استعفیٰ لکھ دیتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ چلیں پھر کبھی بات کریں گے، لیکن بعد میں اُنہوں نے اس موضوع پر کبھی مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔اس موقع پر احمد ندیم قاسمی کے یہ اشعاربہت یادآتے تھے۔ فیفا ورلڈ کپ: ڈی آر کانگو اور پرتگال کے درمیان میچ 1-1 گول سے برابر پورے قد سے جو کھڑا ہُوں، تو یہ تیرا ہے کرم مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا دست گیری مری تنہائی کی تو نے ہی تو کی میں تو مرجاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا ایک بار اور بھی طیّبہ سے فلسطین میں آ راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا اس ملاقات سے پہلے میں نے اپنے مرشد کریم علّامہ سیّد احمد سعید شاہ کاظمیؒ صاحب کو فون کرکے تمام صورتِ حال کے بارے میں بتایا تھا۔علامہ کاظمی نے کہا آپ نے ٹھیک جواب دیافکر نہ کریں چند دنوں میں یہ آپ کو اور زیادہ بلندمرتبہ و درجہ دیں گے اور کچھ اسی طرح ہوا۔ چند دنوں بعدمجھے ایک ہی وقت میں منسٹر پٹرولیم وقدرتی وسائل، منسٹر ہاؤسنگ اینڈ ورکس و ماحولیات کا چارج بھی مل گیا بے شک استقامت پر قائم رہنے والوں کی اللہ تعالیٰ مدد کیا کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کیلئے عمان کیساتھ مل کر ایک انتظامی نظام تیار کیا جائے گا: ایران ٭٭٭٭٭



