73.6 F
Pakistan
Wednesday, June 17, 2026
HomePoliticsنابالغ بچے کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق پر عدالت کا بڑا...

نابالغ بچے کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق پر عدالت کا بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کسی بھی سمجھوتے یا معاہدے کے ذریعے نابالغ بچوں کے قانونی حقوق ختم نہیں کر سکتے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا، تاہم فیصلے میں نابالغ بچوں کے حقوق سے متعلق اہم قانونی نکات بھی واضح کیے گئے ہیں۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے معاہدے میں نابالغ بچی کے نان نفقہ اور مستقبل کے وراثتی حقوق سے دستبرداری کی شقیں بھی شامل تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے یا بچی کا نان نفقہ باپ کی قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے، جس سے کسی معاہدے کے ذریعے فرار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ماں بھی نابالغ بچے کے نان نفقہ کے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ حق دراصل بچے کا ہے، والدین کا نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ وراثتی حقوق سے محرومی کی کوئی بھی شق قانوناً مؤثر نہیں اور نہ ہی مستقبل میں نافذ العمل ہو سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی نابالغ کو نان نفقہ یا وراثت کے حق سے محروم کرنا آئین اور قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ فیصلے میں فیملی کورٹس کو ہدایت کی گئی کہ ایسے معاملات میں نابالغ بچوں کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ بچوں کے حقوق قابلِ سودا نہیں اور والدین کے باہمی اختلافات یا سمجھوتے ان حقوق کو متاثر نہیں کر سکتے۔ تاہم درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا گیا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments