87.3 F
Pakistan
Tuesday, June 16, 2026
HomeEntertainmentسورج سوا نیزے پہ لگ رہا تھا، دھوپ میں تپش انتہا درجے...

سورج سوا نیزے پہ لگ رہا تھا، دھوپ میں تپش انتہا درجے کی تھی، گرم ہوا لو کے درجے کو چھو رہی تھی مگر وہ دھیمی رفتار کے ساتھ ایک ہی سمت میں چل رہی تھی

مصنف: مہر غلام فرید کاٹھیا قسط: 49لے گیا۔ ہم کینٹین کے پچھواڑے کچن میں داخل ہوئے۔ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا کچن کے تنور میں روٹیاں لگا رہا تھا۔ کریم نے اسے اپنے پاس بلایا اور میرے ساتھ ملوایا۔ لڑکے کے ہاتھ میں گیلا آٹا لگا تھا اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملانے کے لئے اپنے ہاتھ کو ایپرن سے صاف کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکے کا آٹا لگا ہاتھ کریم کے ہاتھ میں تھا۔حسیب ملو اس سے، یہ کریم ہے دوسرا کریم، نان بائی۔ٹھنڈے ہونٹصغریٰ نے اپنی اوڑھنی کا ڈھاٹابنا کر سر پر باندھا ہوا تھا۔ وہ گندم کے کھیت میں لگے پڑسے گٹھے اُٹھا اُٹھا کر تھریشر کے ٹاپے کے پاس لے جاتی اور اس کا شوہر عنایتا اس کے سر سے گٹھا اُٹھا کر تھریشر کے چھابے میں پھینک دیتا۔ جب تک اس گٹھے کی گندم نکلتی صغریٰ دوسرا گٹھا اٹھا کر چھابے کے پاس پہنچ چکی ہوتی۔ عنایتا پھر گٹھا اس کے سر سے اٹھا کر چھابے پر پھینک دیتا۔ ان گٹھوں کی چھانٹی ہوئی گندم تھریشر کے منہ سے نکل کر جب پیپے میں بھر جاتی تو اسے اٹھا کر ڈھیری میں پھینک دیا جاتا اور ڈھیری پر پھینکنے والا لڑکا عنایتے کا 10سالہ بیٹا نذرو تھا۔ سورج سوا نیزے پہ لگ رہا تھا۔ دھوپ میں تپش انتہا درجے کی تھی۔ گرم ہوا لُو کے درجے کو چھو رہی تھی مگر وہ دھیمی رفتار کے ساتھ ایک ہی سمت میں چل رہی تھی۔ کھیت میں پڑے کھلیان کئی دنوں کی دھوپ کھا کر رائی کے تنکوں کی طرح خشک ہوئے پڑے تھے اور موسم کی یہی حالت کسانوں کی محنت کا ثمر حاصل کرنے کیلئے بہترین صورت ہوتی ہے۔ گویا سال بھر کی محنت کا صلہ اسی موسم کا محتاج ہوتا ہے۔ جہاں زمینداروں کے گھروں میں دولت کا ڈھیر لگتا ہے وہاں کھیت مزدوروں کے گھروں میں سال بھر کی روٹیاں مہیا ہو جاتی ہیں۔ مگر اپریل کے اختتام اور مئی کے شرو ع میں جنوب سے چلنے والی گرم ہوا جہاں انسان و حیوان کی زندگیوں میں تندرستی کی ضامن ہوتی ہے وہاں وہ اس کے اندر ایک ایسی فضا بھی پیدا ہو جاتی ہے جو انسانوں کو کئی ایک بیماریوں میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔گندم کی تھریشنگ کے دوران گرد اور بھوسے کے بار یک ذرات اُگلتی یہ مشین فضا کو اس قدر آلودہ کر دیتی ہے کہ سانس، ٹی بی اور جلدی بیماریوں کے سبب لوگ گھروں سے اس فضا میں باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ہرطرف تھریشنگ مشین گرد اور باریک بھوسے کے ذرات اُگلتی رہتی ہیں جس سے فضا انتہائی آلودہ ہوکر بیماروں کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی صورت حال صغریٰ کی تھی وہ سانس کی بیماری کی ایک سال سے مریضہ بن چکی تھی جس کی وجہ بھی یہی بھوسے کے ذرات کی فضا میں آلودگی تھی۔ وہ ہمیشہ سخت موسموں میں بھی محنت اور مشقت کی عادی تھی۔ حالانکہ وہ اپنی فطرت میں مکمل نسوانیت کا نمونہ تھی۔ جوانی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔محنت کشی کے وقت اس کے بدن کا لہو سمٹ کراس کے چہرے سے پسینہ بن کر بہنے لگتاتھا۔ آج بھی اگرچہ اس نے دوپٹے کا ڈھاٹا بنا کر منہ سر لپیٹا ہوا تھا مگر پھر بھی کسی طرح فضائی آلودگی اس کی سانسوں میں شامل ہوگئی۔اس نے اپنی سانس رُکتی محسوس کی تو فوراً نیچے بیٹھی اور سرپر اٹھایا ہوا گندم کاگٹھا اُس کے اوپر آن گرا۔ تھریشر مشین کے پاس کھڑا عنایتا فوراً بھاگا۔ صغریٰ کے اوپر سے گٹھا اُٹھایا اور اُسے فوری طور پر قریب ہی شیشم کے گھنے درختوں کی چھاؤں میں ایک چارپائی پر لٹادیا۔ پاس ہی مٹی کے گھڑے میں رکھا ہوا پانی سلور کے گلاس میں انڈیلا اور صغریٰ کے منہ کو لگا دیا۔ صغریٰ نے چارپائی پر لیٹے لیٹے ہی چند گھونٹ پانی اپنے حلق میں اُتارا اور اٹک اٹک کر زور زور سے سانس لینے کی کوشش کرتی رہی۔ ارد گرد کے مزدور اور تھریشروں پر کام کرنے والے مستری وغیرہ دیکھا دیکھی سب صغریٰ کے پاس درختوں کی چھاؤں میں اکٹھے ہوگئے اور کھیتوں میں کام ایک طرح سے بند ہوگیا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ گلگت بلتستان کے نتائج نہ روکے جاتے تو پیپلزپارٹی کی 14 سے زائد نشستیں ہوتیں، گورنر پنجاب

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments