81.6 F
Pakistan
Monday, June 15, 2026
HomePoliticsدنیا کے محفوظ ترین کمرے کی وائس ریکارڈنگز لیک ہونے پر وائٹ...

دنیا کے محفوظ ترین کمرے کی وائس ریکارڈنگز لیک ہونے پر وائٹ ہاؤس پریشان

نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی ایک چونکا دینے والی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ ویسٹ ونگ میں ہونے والی معلومات کی لیکس اب صدر کے اندرونی مشیروں کے حلقے تک سرایت کر چکی ہیں اور ممکن ہے کہ انہی افراد نے نیویارک ٹائمز کے رپورٹرز کو سیچویشن روم کے اندر ہونے والی محفوظ گفتگوؤں کی ریکارڈنگز فراہم کی ہوں۔ اتوار کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں 1600 پنسلوانیا ایونیو کے پس پردہ جاری شدید بے چینی کی تصویر پیش کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اس ماہ کے آخر میں شائع ہونے والی کتاب رجیم چینج کے اجرا کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ کتاب واشنگٹن کے دو انتہائی باخبر صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوین کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ ایکسیوس کے مطابق حکام کا خیال ہے کہ سیچویشن روم میں ٹرمپ کے اعلیٰ معاونین کے درمیان ہونے والی گفتگوؤں کی خفیہ ریکارڈنگز کی گئیں، جو سکیورٹی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔ اگر یہ خدشات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اس کمرے سے غیر مجاز ریکارڈنگز کا پہلا معلوم واقعہ ہوگا۔ یہ کمرہ دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور پھر ان ریکارڈنگز کا میڈیا تک پہنچ جانا مزید غیر معمولی بات ہو گی۔ انتظامیہ کے ایک ذریعے نے ایکسیوس کو بتایا ’ہمیں خدشہ ہے ہماری کچھ انتہائی حساس گفتگوؤں کی ریکارڈنگ کی جا رہی تھی اور ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ کون سی گفتگوئیں ریکارڈ کی گئیں۔‘ وائٹ ہاؤس نے اتوار کو دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کی امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی کوششیں مسلسل تاخیر اور رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ہے جو لبنان بھر میں بیروت اور حزب اللہ کے اہداف پر اسرائیلی حملوں کے باعث برقرار ہے۔ یہ تصور کہ ٹرمپ کے مشیروں اور حکمت عملی بنانے والوں کے درمیان ہونے والی انتہائی اندرونی بحثوں اور گفتگوؤں کی خفیہ ریکارڈنگز موجود ہو سکتی ہیں، پہلے ہی مشکل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اتوار کی صبح صدر ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیل کے نئے حملوں کی اطلاعات کے بعد اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ وائٹ ہاؤس کی فراہم کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں صدر ٹرمپ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین، نائب صدر وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو 21 جون، 2025 کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں بیٹھے اس کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں جس میں ایران کی تین جوہری افزودگی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا(اے ایف پی) انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ’یہ ایک طویل اور خوبصورت امن کا آغاز ہو سکتا ہے — آئیے اسے تباہ نہ کریں! ‘ انہوں نے مزید لکھا ’آج صبح بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے دن جب ہم ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے کے اتنے قریب ہیں۔ ’اسرائیل کو خطرات کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے لیکن جس حملے کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی وہ بہت چھوٹا اور غیر اہم تھا، کسی کو نقصان، چوٹ یا موت نہیں ہوئی تھی اور اسے اس اہم عمل میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے ہیبرمین اور سوان کی کتاب کے اقتباسات میں ایک اور بحران کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں جس نے 2025 میں ٹرمپ وائٹ ہاؤس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا — یعنی جیفری ایپسٹین کا معاملہ۔ ان کی آئندہ آنے والی کتاب میں، دیگر رپورٹس کے علاوہ، جولائی 2025 میں وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کی تفصیل بھی شامل ہے، جس کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی۔ اس اجلاس میں اعلیٰ حکام نے محکمہ انصاف کے اس فیصلے پر بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی تھی جس میں ایپسٹین کیس کی فائلوں کے مزید اجرا کو روک دیا گیا تھا۔ ایپسٹین معاملے پر انتظامیہ کا ردعمل صدر کے بہت سے پرجوش اور وفادار حامیوں کے لیے حیران کن ثابت ہوا کیونکہ وہ وینس اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل جیسی شخصیات کی جانب سے فائلوں کے اجرا کے مطالبات کی حمایت کرتے رہے تھے، جو 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے لیے مہم چلاتے ہوئے یہ مطالبہ کر رہے تھے۔ جولائی 2025 کے اجلاس کے بعد آنے والے مہینوں میں انتظامیہ نے بالآخر کانگریس کی ایک ڈسچارج پٹیشن کے تحت فائلوں کے اجرا پر عمل کیا، لیکن حکام اب بھی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ دستیاب شواہد صرف مر چکے ایپسٹین اور ان کی قید میں موجود ساتھی گیسلین میکسویل کے خلاف ہیں اور کسی اور کو ملوث نہیں کرتے۔ فائلوں کے حوالے سے خود ٹرمپ کے بیانات نے بھی ان کی ٹیم کے لیے معاملات آسان نہیں بنائے کیونکہ انہوں نے عوامی سطح پر رپبلکنز کی اس مسئلے میں دلچسپی لینے پر سرزنش کی حالانکہ انتخابی مہم کے دوران ان کے بہت سے اتحادیوں اور نمائندوں نے اسی معاملے پر شدید شور و غوغا مچایا تھا۔ بظاہر وہ اس معاملے کی اہمیت کو، خاص طور پر نوجوان رپبلکنز، آزاد ووٹروں اور ڈیموکریٹس کے درمیان، پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر معلومات کے افشا (لیکس) کا مسئلہ ایک مستقل چیلنج رہا ہے، جو ان کی پہلی صدارتی مدت سے ہی جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس جے ڈی وینس سچویشن روم میں ہونے والی بات چیت کی ریکارڈنگ وائٹ ہاؤس کے سکیورٹی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔ جان باؤڈن سوموار, جون 15, 2026 – 08: 45 Main image:

وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ اس تصویر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 جون، 2025 کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں بیٹھے ہیں (اے ایف پی)

میگزین type: news related nodes: جب ٹرمپ گھنٹوں چیختے اور سچویشن روم سے باہر رہے جب ٹرمپ نے بیوی کو کال کے لیے خفیہ ایجنٹ کا فون استعمال کیا ٹرمپ کی ’خیالی دنیا‘ اور امریکہ کا مستقبل ٹرمپ کی سرزنش اور لیک فون کال سے نتن یاہو کو سیاسی دھچکا SEO Title: دنیا کے محفوظ ترین کمرے میں ہوئی گفتگو کی ریکارڈنگز لیک ہونے پر وائٹ ہاؤس پریشان copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. the-independent. com/news/world/americas/us-politics/trump-haberman-book-situation-room-b2995492. html show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments